خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرراج نگرا کا قصاب
اردو تحاریراردو تراجم

راج نگرا کا قصاب

راج نگرا کا قصاب از کینتھ

از سائیٹ ایڈمن نومبر 23, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 23, 2019 0 تبصرے 485 مناظر
486

راج نگرا کا قصاب
اس کہانی کے لکھنے کے وقت تک یہ قصاب زندہ تھا اور اس کی ہلاکت کے لیے میری ہر کوشش ناکام ہوئی تھی۔ نہ صرف مجھے بلکہ دیگر کئی شکاریوں کی دو سال سے زیادہ جاری رہنے والی کوششیں بے سود رہیں۔
یہ شیر غیرمعمولی جانور تھا اور اس کی عادات شیروں سے بہت ہٹ کر اور ایسے علاقے سے متعلق تھیں جہاں برسوں سے کوئی شیر نہیں رہتا تھا۔ ابتداء میں یہ شیر انسانوں کو محض اپنے اگلے پنجوں سے خراشیں ڈالنے تک محدود رہتا تھا۔ اس طرح کے کل 33 واقعات درج ہوئے جن میں اکثریت چرواہوں کی تھی۔ ایک بار بھی اس نے کسی کو نہ جان سے مارا اور نہ ہی کاٹا۔ ہر بار اس نے اپنے شکار کی کھوپڑی سے پنجے مارنا شروع کیے اور منہ اور گردن کے علاوہ سینے اور کمر پر بھی پنجے مارتا تھا۔
اس عادت سے مجھے شک ہوا کہ کہیں یہ شیر کی بجائے تیندوا نہ ہو۔ تاہم جب میں نے بعد میں اس کے متاثرین سے بات کی تو ہر ایک نے تصدیق کی کہ وہ تیندوا نہیں بلکہ شیر تھا۔
میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ شاید یہ شیر زخمی ہو یا اسے کسی نے زخم پہنچایا ہو جو اس کے منہ، جبڑے یا چہرے پر لگا ہو اور اسی وجہ سے وہ کاٹ نہ سکتا ہو۔ تاہم چرواہوں نے اس کی بھی تردید کی کہ دو سال کے دوران یہی شیر ان کے 200 سے زیادہ مویشی مار کر کھا چکا تھا اور کہیں بھی ایسا نہیں لگا کہ اس کا منہ زخمی ہو۔ اس نے نہ صرف عام شیروں کی مانند اپنے شکاروں کی گردن توڑی تھی بلکہ ہر جانور کو بالکل شیروں کے انداز سے کھایا تھا۔
اس جانور کی ایک اور عجیب عادت یہ تھی کہ وہ جنگل کے حصے میں رہتا تھا جو خاردار اور نیچی جھاڑیوں سے بھرا ہوا، پتھریلا اور اونچی نیچی پہاڑیوں پر مشتمل تھا جن میں کہیں کہیں ندیاں بہتی تھیں اور ان کے کناروں پر لمبی گھاس اور کہیں کہیں بانس کے جھنڈ بھی ملتے ہیں۔ یہاں تیندوے اکثر آتے جاتے رہتے تھے اور یہاں سے گزرنے والی مرکزی سڑک پر بھی دکھائی دے جاتے تھے مگر موجودہ پوری نسل میں کسی نے کبھی شیر کو یہاں نہیں دیکھا تھا۔
جنگل کا یہ حصہ ڈیم بیم کے پہاڑی مقام سے جنوب میں ضلع شمالی کومبتور میں واقع تھا۔ ڈیم بیم سے 2٫500 فٹ نیچے یہ بارانی اور جھاڑیوں پر مبنی علاقہ ہے جہاں کھجور کے درخت بکثرت ہیں عمومی طور پر خاردار جھاڑیاں موجود ہیں۔ یہاں عام جانور بھی بہت کم ملتے ہیں اور زیادہ تر چند مور اور اکا دکا جنگلی بھیڑ دکھائی دے جاتی ہے۔ یہ علاقہ کافی چھوٹا ہے اور شمالاً جنوباً پانچ میل جبکہ شرقاً غرباً تیس میل پھیلا ہوا ہے۔ مغرب میں اس کا اختتام بھوانی دریا پر ہوتا ہے جو آگے چل کر دریائے کاویری سے مل جاتا ہے۔
ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ شیر نیلگری کے جنگلوں سے پھرتا پھراتا دریائے مویار تک پہنچا اور یہاں رہنے لگ گیا۔ تاہم اس کی یہاں سے رغبت کی وجہ سمجھ آتی ہے کہ یہاں جگہ جگہ مویشیوں کی پٹیاں موجود ہیں اور سینکڑوں مویشی یہاں چرتے ہیں۔ اس وجہ سے جنگلی حیات جتنی کم ہے، مویشی اتنے زیادہ ہیں اور توازن برقرار رہتا ہے۔ مویشیوں کا شکار شیر کے لیے نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ شروع شروع میں شیر نے عام انداز سے اپنے شکار کرتا اور انہیں کھاتا رہا اور جب کوئی چرواہا اسے بھگانے کی کوشش کرتا تو بھاگ بھی جاتا۔ تاہم ایک وقت ایسا آیا کہ شیر نے چرواہوں کی مداخلت کو برداشت کرنا چھوڑ دیا کہ اکثر اس کے شکار اس کے ہاتھ سے نکل جاتے تھے۔
پہلا حملہ اس نے ایک چرواہے لڑکے پر کیا۔ جب شیر تازہ ماری ہوئی گائے گھسیٹ رہا تھا تو اس لڑکے نے ایک پتھر مارا جو شیر کے پہلو پر لگا۔ گائے کو چھوڑ کر اس نے لڑکے پر حملہ کیا اور اس کے چہرے اور سینے پر بری طرح پنجے مارے۔ پھر اس نے لوٹ کر گائے اٹھائی اور دور لے جا کر سکون سے اپنا پیٹ بھرا۔
کئی بار چرواہوں نے شیر کو اس کے شکار سے بھگانے یا پھر اس کے پیٹ بھرنے کے دوران اسے بھگانے کی کوشش کی۔ ہر مرتبہ شیر نے حملہ کر کے انہیں پنجے مارے۔
فطری طور پر جوں جوں شیر کے حملے بڑھتے گئے، مداخلت کم ہوتی گئی۔ آخرکار شیر کو پتہ چل گیا کہ اس نے لوگوں کو مارنے کی بجائے زخمی کرنے کی وجہ سے لوگوں نے اس کو تنگ کرنا چھوڑ دیا۔
اس طرح وقت گزرتا رہا۔ قریب دو سال گزر گئے اور مجروحین کی تعداد 33 ہو گئی۔ ان میں سے 11 عفونت سے مر گئے کہ شیر کے پنجوں میں سڑتا ہوا گوشت ہوتا ہے۔ تاہم ان اموات کا براہ راست ذمہ دار شیر نہیں تھا۔ یہ حملے کے نتیجے میں بالواسطہ اموات ہوئیں۔
پھر جولائی 1955 میں ایک چرواہا واپس نہ لوٹا۔ یہ پتہ چل چکا تھا کہ اس پر شیر نے حملہ کیا تھا کیونکہ اس کی چیخیں پاس موجود دوسرے چرواہے نے سنی تھیں مگر فطری بات ہے کہ وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ پہلے بھی ایسا ہوتا تھا کہ حملے کے بعد چرواہے خود ہی سڑک پر یا گاؤں تک چل کر پہنچ جاتے تھے۔ تاہم یہ بندہ واپس نہ لوٹا۔ دو گھنٹے بعد اس کی تلاش میں لوگ نکلے۔ یہ لوگ جائے وقوعہ پر پہنچے اور وہاں انہیں مردہ گائے تو دکھائی دی مگر چرواہا غائب تھا۔ ان لوگوں کی ہمت جواب دے گئی اور وہ لوگ واپس لوٹ آئے۔ چرواہے کا پھر کوئی نشان نہ ملا۔
پھر پانچ یا چھ مزید چرواہوں پر حملے ہوئے اور ان میں سے تین زخمی حالت میں لوٹ آئے جبکہ باقی تین نہ لوٹے۔ ان کا پھر کوئی پتہ بھی نہ چل سکا۔ جس وقت سے میری کہانی شروع ہوتی ہے، اس وقت تک سرکاری طور پر 4 اموات اور 36 واقعات زخمی کرنے کے ہو چکے تھے۔ اب یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا شیر ان زخمی افراد کو جنگل میں لے جا کر خود کھا جاتا تھا یا پھر انہیں زخمی حالت میں دیگر جانوروں کا کھاجا بننے کو چھوڑ جاتا تھا۔
میں اس شیر کی وارداتوں کے بارے اکثر اخبار میں پڑھتا تھا تاہم اس بارے تفصیل مجھے پہلی بار محکمہ جنگلات کے افسران کی طرف سے بھیجی گئی۔ چونکہ میرے پاس چند روز کی چھٹی کا حق باقی تھا، سو میں نے اس شیر کے پیچھے جانے کا سوچا۔
میرے پاس جنگل کا نقشہ تھا اور دیگر معلومات بھی کہ وارداتیں کہاں کہاں ہوئی ہیں۔ سو میں نے راج نگرا کے چھوٹے دیہات کو اپنا مستقر بنانے کا سوچا جہاں قیام کے لیے ایک خیراتی ادارے کی سرائے موجود تھی۔ ڈیم بیم کے راستے یہاں تک کا کل فاصلہ 147 میل بنتا ہے اور سڑک اچھی حالت میں تھی۔ سو سٹڈ بیکر پر مجھے کل چار گھنٹے سے ذرا زیادہ وقت لگا اور میں پہنچ گیا۔
مجھے علم نہ تھا کہ کتنا دلچسپ وقت آنے والا ہے۔ میں راج نگرا سے محض دو میل دور تھا اور سڑک پر جا رہا تھا کہ مجھے سامنے تین بندے دکھائی دیے۔ دو آدمی تیسرے کو سہارا دیے لے جا رہے تھے۔ میں نے پاس پہنچ کر دیکھا کہ درمیانی آدمی خون میں نہایا ہوا تھا۔ میں نے رک کر وجہ پوچھی تو پتہ چلا کہ چند منٹ قبل شیر نے اس پر حملہ کر کے پنجے مارے تھے۔ مزید سوالات سے پتہ چلا کہ شیر نے باقاعدہ اس بندے پر گھات لگائی تھی۔ مضروب نے بتایا کہ اسے کسی خطرے کا احساس نہ ہوا اور اچانک شیر اس پر چڑھ دوڑا۔ شیر نے اس کے پاس پہنچ کر اگلے پنجے فضا میں اٹھائے اور اس کے سر اور سینے پر بری طرح پنجے مارے۔ جب وہ نیچے گرا تو شیر اس کے اوپر تھا اور اس بندے نے مدد کے لیے چلانا شروع کر دیا۔ پھر شیر نے اسے چھوڑا اور مویشیوں پر حملہ کیا جو اس کے پاس دوڑ رہے تھے۔ اس بندے نے زمین پر لیٹے لیٹے دیکھا کہ شیر نے ایک نوعمر بھورے بیل پر حملہ کیا اور ہلاک کرنے کے بعد اسے گھسیٹ کر لے گیا۔ چونکہ کوئی اس کی مدد کو نہ آیا تھا، سو اس بندے نے ہمت کر کے سڑک کا رخ کیا جہاں کچھ دیر بعد یہ دو آدمی بھی پہنچ گئے۔
میں نے اس موقع کو نعمتِ غیر مترقبہ جانا اور فوراً ان سے جائے واردات کا پوچھا۔ اس نے تفصیل سے مجھے اس مقام کا بتایا اور پھر میں نے ان میں سے ایک بندے کو ساتھ چلنے کا کہا جبکہ دوسرا بندہ زخمی کے ساتھ راجا نگرا کو لے جاتا۔
اب دونوں میں چخ چخ شروع ہو گئی کہ ان میں سے کون میرے ساتھ چلے گا۔ بظاہر دونوں کو گاؤں میں انتہائی اہم کام پڑ گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ آدم خور کا سامنا کرنے کی ہمت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔ اس بارے تو میں انہیں الزام نہیں دے سکتا کہ وہ لوگ شیر کی حرکات کو بہت دنوں سے دیکھ رہے تھے اور میں ان کے لیے یکسر اجنبی تھا۔ شاید ان لوگوں نے سوچا ہوگا کہ شیر کے آتے ہی میں انہیں اکیلا چھوڑ کر بھاگ جاؤں گا۔
تاہم کافی منت سماجت، دباؤ اور پھر دھمکیوں کے بعد ایک بندہ میرے ساتھ جانے کو تیار ہو گیا جبکہ دوسرا بندہ زخمی کے ساتھ گاؤں کو چل دیا۔
ہم دونوں نے سڑک چھوڑی اور جنگل میں داخل ہو گئے۔ سارا راستہ ہمیں زخمی بندے کا خون دکھائی دیتا رہا۔ ایک جگہ کافی خون دکھائی دیا جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ بندہ میرے اندازے سے کہیں زیادہ زخمی تھا۔ اب مجھے افسوس ہوا کہ میں اسے کار پر ستیامنگلم کیوں نہ لے گیا، جہاں ہسپتال میں اس بیچارے کو طبی امداد مل جاتی۔ اگرچہ یہ میری غلطی تھی، مگر پھر بھی میں نے شیر کے تعاقب کا یہ سنہری موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
تھوڑی دیر بعد ہم جائے وقوعہ پر جا پہنچے۔ ریت پر ثبت نشانات نے پوری کہانی سنا دی۔ ہم نے پھر تیس گز دور وہ مقام تلاش کیا جہاں شیر نے بیل مارا تھا۔ اب میرے ساتھی نے مزید آگے جانے سے انکار کیا اور مجھے بھی اس کی موجودگی کی ضرورت نہ رہی تھی کہ وہ ضرورت سے زیادہ خوفزدہ تھا۔ اس لیے میں ںے اسے وہیں چھوڑا اور شیر کے نشانات کا تعاقب شروع کیا۔ شیر بیل کو لے کر اس پہاڑی سے کھائی میں اتر کر دوسری پہاڑی کی سمت گیا تھا جو یہاں سے چوتھائی میل دور تھی۔
بدقسمتی سے مجھے اتنی جلدی کی توقع نہیں تھی اور میں نے عام چمڑے کے جوتے پہنے تھے۔ ربڑ کے تلے والے جوتے چلتے ہوئے کوئی آواز نہیں کرتے مگر ان جوتوں سے پتھروں پر چلتے ہوئے کچھ نہ کچھ آواز ہو رہی تھی۔ تاہم ہر ممکن آہستگی کے ساتھ میں آگے بڑھا اور نالے تک پہنچ گیا۔ پھر رک کر میں نے آس پاس بغور دیکھا۔ یہاں جھاڑیاں بہت گھنی تھیں اور نالے کے موڑ پر مزید گھنی ہو گئی تھیں۔ سامنے والی پہاڑی کی ڈھلوانیں نسبتاً کھلی تھیں۔ وہاں شیر یا بیل کی کوئی علامت نہیں دکھائی دی۔ بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ شیر نے بیل کو اسی نالے میں کہیں چھپایا ہوگا اور اب شاید اس سے پیٹ بھر رہا ہوگا۔اگر نہ بھی کھا رہا ہوگا تو بھی کہیں آس پاس لیٹا ضرور ہوگا۔
جوتوں کی وجہ سے مجھے نقصان پہنچ رہا تھا اور پیش قدمی سے شیر آگاہ ہو جاتا۔ اگر جوتے اتار کر بڑھتا تو کانٹے چبھتے اور نوکیلے پتھروں سے پیر زخمی ہو جاتے۔ تاہم یہ بھی اہم تھا کہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے دینا حماقت ہوتی۔ ایسا موقع قسمت سے ملتا ہے۔ ابھی پانچ بج رہے تھے اور ڈیڑھ گھنٹے بعد سورج غروب ہو جاتا۔
جتنی دیر میں یہ سوچتا، شیر نے پہل کر دی۔ اس نے میری پیش قدمی کو سن لیا ہوگا اور شاید دیکھ بھی لیا ہو۔ اس نے پہلو سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میری لاعلمی میں وہ میری سمت والے کنارے پر اس طرح پہنچ گیا کہ وہ اب میرے پیچھے اور کچھ بلندی پر تھا۔ میں اس کی آمد سے بے خبر سوچ رہا تھا۔ پھر وہ پیٹ کے بل رینگ کر مجھ سے دس فٹ دور ایک گھنی جھاڑی تک پہنچ گیا۔ میں ابھی تک بے خبر تھا۔ اس مرتبہ میری چھٹی حس مجھے خطرے سے آگاہ کرنے میں ناکام رہی۔ جونہی میں نے نالے میں پیش قدمی کا سوچا، میرے پیچھے کان پھاڑ دھاڑ سنائی دی اور شیر نے جست لگائی۔ میں مڑا اور انتہائی قریب سے گولی چلائی جو خالی گئی۔
دھماکے سے ڈر کر یا اپنے سامنے چرواہے کو نہ پا کر یا پھر میرے نیلے کوٹ سسے گھبرا کر شیر نے فرار کو ترجیح دی۔ زور زور سے غراتا ہوا شیر سیدھا جھاڑیوں اور پھر نالے کی سمت بھاگا۔ ہر ممکن تیزی سے میں نے پیچھا کیا اور نالے کی تہہ میں پہنچ کر بیل کی لاش سے ٹھوکر کھائی۔ معائنے سے علم ہوا کہ شیر کھانا شروع کر چکا تھا کہ اس نے میری آمد کو سن کر یا محسوس کر کے حملہ کیا۔
اس جگہ درخت نہیں تھے، سو میں ایک گھنی جھاڑی کے نیچے بیٹھ گیا اور اندھیرا چھانے تک منتظر رہا مبادا کہ شیر واپس آ جائے۔ جب شیر نہ آیا تو سوا چھ بجے میں نے احتیاط سے واپسی اختیار کی۔ جہاں چرواہے کو چھوڑا تھا، وہاں پہنچا تو وہ غائب تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ شاید گاؤں چلا گیا ہوگا۔ پھر سڑک پر آ کر میں گاڑی میں بیٹھا اور راجنگرا پہنچ گیا۔
وہاں پہنچا تو دیکھا کہ کافی لوگ جمع تھے اور فارسٹ گارڈ بھی آیا ہوا تھا۔ فارسٹ گارڈ نے بتایا کہ زخمی چرواہے کو پہلے ہی اس کی بیوی اور بھائی کے ساتھ ستیامنگلم ہسپتال بھیجا جا چکا ہے۔ جو چرواہا زخمی کو لے کر آیا تھا، وہ تو موجود تھا۔ مگر میرے ساتھ جانے والا دوسرا بندہ ابھی تک نہیں لوٹا تھا۔
مجھے پتہ تھا کہ جہاں میں نے اسے چھوڑا، وہ وہاں نہیں تھا، شیر بھی بھاگ گیا تھا۔ اب وہ چرواہا کہاں گیا ہوگا؟ یہ تو ظاہری بات تھی کہ وہ شیر والے جنگل میں رات کو کسی قیمت پر نہ رہتا۔ پھر وہ کہاں گیا ہوگا؟ میں یہی سوچتا رہا۔ جب اس کے خاندان والوں نے میرے سوالات سنے تو انہوں نے رونا اور بین کرنا شروع کر دیا۔
اب اندھیرا گہرا ہو چکا تھا، سو گمشدہ بندے کی تلاش ممکن نہین تھی۔ دوسرا اگر شیر اسے لے گیا ہوتا تو نشانات بھی دکھائی نہ دیتے۔ مگر پھر بھی فارسٹ گارڈ کو ساتھ گاڑی میں بٹھا کر میں نے اس جگہ کا رخ کیا جہاں پہلے گاڑی کھڑی کی تھی۔ وہاں پہنچ کر میں نے گارڈ کو کہا کہ وہ گمشدہ بندے کا نام لے کر پکارے۔ مگر بے سود۔ پھر ایک میل مزید آگے سڑک پر گئے اور پھر واپس گاؤں لوٹے۔ اب یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ شیر اس بندے کو اٹھا لے گیا ہوگا۔ شاید جتنی دیر میں بیل کی لاش کے پاس چھپ کر بیٹھا رہا، شیر نے اتنی دیر میں اس بندے کو شکار کر لیا ہوگا۔
اس رات ہم زیادہ دیر نہ سو سکے کہ متوفی کے خاندان والوں کے بین کی آواز سے مسلسل احساس ہوتا رہا کہ وہ بندہ میری وجہ سے مارا گیا ہے۔ شاید اگر میں اس بندے کو زبردستی ساتھ نہ لے جاتا تو وہ شاید اس وقت بھی زندہ ہوتا۔
پو پھٹتے ہی میں واپس اس جگہ لوٹا جہاں اسے چھوڑا تھا۔ یہاں پہنچ کر میں نے نشانات تلاش کرنا شروع کیے مگر ناکام رہا۔
پھر میں نے دائروں کی شکل میں نشانات تلاش کرنا شروع کیے مگر ناکام رہا۔ حیرت کی بات تھی کہ وہ بندہ اچانک کیسے غائب ہو گیا۔ مجھے یہ تو پتہ تھا کہ وہ میرے پیچھے شیر کے تعاقب میں نہیں آیا تھا۔ شاید اکیلا ہونے کی وجہ سے گھبرا کر اس نے سڑک کا رخ کیا ہوگا۔ یہ سوچ کر میں نے سڑک کی جانب تلاش شروع کی۔
جہاں اسے چھوڑ کر گیا تھا، اس جگہ سے تین سو گز دور مجھے کچھ فاصلے پر دو چپل پڑے ملے۔ یہاں چھوٹی اور خشک گھاس اگی ہوئی تھی سو پگ دکھائی نہیں دیے۔ تاہم چپلوں کی حالت سے لگ رہ تھا وہ دوڑتے ہوئے اترے ہوں گے۔ مزید تلاش کرنے پر مجھے ایک جانب ہوا میں سفید رنگ کی کوئی چیز پھڑپھڑاتی دکھائی دی۔ یہ اس بندے کی دھوتی تھی جو جھاڑی میں الجھی ہوئی تھی۔
گھاس پر اور جھاڑیوں پر بھی خون کے دھبے دکھائی دیے اور غور کرنے پر پتہ چلا کہ شیر نے کہاں سے حملہ کیا ہوگا۔ حملے کے بعد وہ متوفی کو لے کر سڑک کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے نالے کی سمت گیا۔ جہاں میں بیل کی لاش پر بیٹھا تھا، شیر اس سے کافی نیچے نالے میں گھسا۔
چوتھائی میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد میں نالے میں گھسا۔ مگر مجھے نہ تو کچھ دکھائی دیا اور نہ ہی کچھ سنائی دیا۔ مجھے علم تھا کہ شیر نے باقیات یہیں کہیں چھپائی ہوئی ہوں گی۔
خاموشی سے دیکھتے ہوئے میں نے اچانک دو کوے دیکھے جو نالے میں مزید سو گز نیچے کی جانب ببول کے خاردار درخت پر بیٹھے شور کرتے ہوئے بار بار نیچے کو دیکھ رہے تھے۔ اب یا تو کوے لاش کو پا چکے تھے یا پھر وہ شیر کو دیکھ رہے تھے جو مجھے دیکھ رہا ہوگا۔
نالے کے عین وسط میں پنجوں کے بل چلتے ہوئے میں آہستہ آہستہ اس جانب بڑھنے لگا۔ اس مرتبہ میں نے ربر سول کے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ پچاس گز دور کوے مجھے دیکھ کر خاموش ہو کر اڑ گئے۔
میں نے ان کی نشت کے درخت کو یاد رکھا اور آہستہ آہستہ اس جگہ پہنچا۔ درخت کے عین نیچے نالے کی تہہ میں ایک چٹان سی نکلی ہوئی تھی جس کے پیچھے گمشدہ منیاپا کی ادھ کھائی لاش پڑی تھی۔ نرم ریت پر شیر کے پگ صاف دکھائی دے رہے تھے کہ یہ عام جسامت کا نر شیر ہے۔
ایک بار پھر اس جگہ مچان کے لیے کوئی مناسب درخت نہیں تھا۔ لے دے کے یہی ایک ببول کا درخت ملا جو خاردار ہونے کی وجہ سے ناقابلِ استعمال تھا۔ نہ ہی کوئی بانس کے جھنڈ یا بڑی جھاڑیاں دکھائی دیں۔ یہاں چھپ کر بیٹھنے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ تاہم کچھ نہ کچھ کرنا تو تھا ہی کہ میں منیاپا کی موت کا کسی حد تک ذمہ دار تھا۔
مجھے علم تھا کہ آدم خور سہ پہر سے قبل واپس نہیں آئے گا۔ اگر میں اس جگہ لاش کو چھوڑ جاتا تو گدھ اسے دیکھ کر صاف کر جاتے۔ سو میں نے اپنا خاکی کوٹ اتارا اور لاش کو ڈھانپ دیا اور پھر اس پر پتھر وغیرہ رکھ دیے۔ پھر میں کار کو واپس لوٹا اور راج نگرا لوٹا۔
پہنچ کر میں نے بری خبر سنائی تو متوفی کی بیوہ نے فوراً لاش کو واپس لانے کا مطالبہ کیا تاکہ اسے جلایا جا سکے۔ اسے سمجھانے میں پورا ایک گھنٹہ لگا کہ شام تک لاش وہیں پڑی رہے تاکہ شیر کو مارنے کا موقع مل سکے۔ بڑی مشکل سے اس نے مجھے اجازت دی۔
ناشتے کے بعد میں نے گاؤں کے پٹیل اور فارسٹ گارڈ کے ساتھ بیٹھ کر بات کی۔ انہیں لاش کے مقام کا بتا کر کہا کہ میں دوپہر کو وہاں واپس جاؤں گا تاکہ شیر کا انتظار کروں۔ انہوں نے میرے منصوبے کو احمقانہ کہا جس سے مجھے پورا اتفاق تھا۔ مگر چونکہ ان کے پاس بہتر حل نہیں تھا، سو اسی پر عمل کرنا تھا۔ دوسری صورت لاش کو گاؤں لا کر جلانا تھی مگر اس طرح شیر کو مارنے کا موقع ہاتھ سے نکل جاتا۔
بارہ بجے کے بعد میں لاش سے چند گز دور بیٹھ گیا۔ لاش سے تعفن اٹھنا شروع ہو گیا تھا۔ لاکھوں کی تعداد میں مکھیاں میرے کوٹ پر بیٹھی تھیں اور کوٹ ہٹاتے ہی وہ لاش پر بیٹھ گئیں۔
میں پوری طرح تیار ہو کر آیا تھا اور روئی نتھنوں میں پھنسا لی تھی۔ مگر بو پھر بھی محسوس ہو رہی تھی۔ مجھے متلی ہونے لگی۔ گرمی شدید تھی۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ محض جھاڑیوں سے جھینگر کی آواز آ رہی تھی۔
تین بج گئے، پھر چار اور پھر پانچ۔ ساڑھے پانچ بجے ایک مور نالے کی تہہ میں اترا۔ میں اس طرح ساکت بیٹھا تھا کہ اسے میری موجودگی کا علم نہ ہوا۔ اس سے جنگل میں خاموش اور ساکت بیٹھنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔چلتے ہوئے بمشکل دس فٹ کے فاصلے پر اسے لاش اور میں دکھائی دیے تو اس نے فوراً پر پھڑپھڑاتے ہوئے فرار کو ترجیح دی۔
میں بہت پرجوش اور خوفزدہ بھی تھا۔ اس کے علاوہ تعفن سے برا حال تھا۔
پھر پندرہ منٹ کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی، ایسی خاموشی جو ہر طرح سے مکمل تھی۔یہ وہی خاموشی تھی جو آدم خور کی آمد سے قبل ہوتی ہے۔
میں بالکل ساکت بیٹھا سامنے اور اطراف میں نگراں تھا۔ تمام تر حسیں پوری طرح بیدار تھیں مگر نہ تو کچھ دکھائی دیا اور نہ ہی کچھ سنائی دیا۔
پھر نالے کے اوپر کی سمت سے جنگلی مرغ کی آواز سے سناٹا ٹوٹ گیا۔ چھ بجے اور پھر سوا چھ۔ پھر ایک شبینہ پرندے کی آواز سنائی دی۔ مجھے علم ہو گیا کہ اب میری واپسی کا وقت ہو چلا ہے۔ تھوڑی دیر میں تاریکی چھانے لگتی اور پھر زمین پر آدم خور کے انتظار میں بیٹھنا خودکشی ہوتی۔
اپنی جگہ سے اٹھ کر میں کار کو لوٹا۔ میں نے پہلے ہی لوگوں کو کہہ دیا تھا کہ وہ مجھے کار کے پاس ملیں تاکہ ہم منیاپا کی باقیات اٹھا سکیں۔ تاریکی تو چھا چکی تھی مگر مجھے علم تھا کہ ہماری تعداد ٹارچ کی روشنی کی وجہ سے حملے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔ اس جگہ لوٹ کر ہم نے ساتھ لائے پرانے کمبل میں باقیات لپیٹیں۔ میرے ہمراہی تو گاؤں کو چل پڑے مگر میں نے گاڑی پر سڑک کا رخ کیا۔
اگلی صبح میں پھر اسی نالے کے آس پاس پھر رہا تھا۔ شیر واپس نہ لوٹا تھا ورنہ مجھے اس کے پگ دکھائی دے جاتے۔ پھر میں نے اس نالے کے ساتھ ساتھ اس جگہ جانے کا سوچا جہاں دو روز قبل بیل کی لاش پڑی تھی۔ میں نالے کے اندر بہت محتاط ہو کر چلتا رہا کیونکہ بعض جگہ اس کی چوڑائی چھ فٹ رہ جاتی تھی اور کئی جگہ پتھروں کے ڈھیر پر خاردار جھاڑیوں کے سوا کچھ اور نہ دکھائی دیتا۔ بیل کی لاش منیاپا کی لاش سے نصف میل سے بھی زیادہ فاصلے پر تھی۔ یہ لاش ایک جھاڑی کے نیچے چھپی ہوئی تھی اور یہ جگہ گدھوں سے محفوظ تھی۔ تاہم جب وہاں پہنچا تو دیکھا کہ شیر پچھلی رات آ کر پوری لاش ہڑپ کر گیا تھا۔ شاید وہ انسانی شکار کو بھلا کر یہاں آیا ہو کہ اس نے مجھے انسانی لاش کے ساتھ بیٹھا دیکھ لیا ہو۔ خیر، اب شیر پر گھات لگانے کے لیے کوئی شکار نہ بچا تھا۔
دوپہر اور شام کو بھی میں پہاڑیوں پر اور وادیوں میں گھومتا رہا اور ندی نالے عبور کرتا رہا۔ کئی بار مجھے شیر کے پگ تو ملے مگر شیر نہ دکھائی دیا۔
اس طرح میں نے تین دن گزارے مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ چونکہ میرے پاس ایک ہفتے کی چھٹی تھی تو اب چار دن باقی بچ گئے تھے۔
اگلی صبح میں نے حکمتِ عملی بدلی۔ ایک اونچی پہاڑی پر چڑھ کر میں نے کئی مرتبہ شیر کی آواز نکالی۔ ہر دس منٹ بعد یہ آواز نکالتا رہا مگر جواب نہ ملا۔ دو گھنٹے بعد دوسری پہاڑی پر یہی کام کیا مگر ناکام رہا۔ بظاہر شیر اس علاقے میں نہیں تھا۔
پانچویں روز چرواہے پھر اپنے مویشیوں کو لے کر باہر گئے۔ آپ کو شاید ایسا لگے کہ چرواہے بہت بہادر تھے۔ مگر یاد رہے کہ دیہاتی مویشیوں کا دارومدار اسی پر ہوتا ہے۔ اگر وہ چرانے کے لیے نہ بھیجے جائیں تو وہ بھوکے رہیں گے۔ دیہاتوں کے اندر میں چارے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔
اگلی صبح میں ان کے ساتھ گیا اور شام کو بھی یہی کام کیا۔ رات تک شیر کا کوئی نشان نہ ملا۔ چھٹی صبح میں بہت مایوس ہو چکا تھا۔ مجھے لگا کہ اس شیر کے شکار کا موقع پھر نہیں ملے گا۔تاہم میں کر بھی کیا سکتا تھا۔ مویشیوں کے ساتھ جنگل میں جاتا رہا۔
اس روز میں نے بہت میل کا سفر کیا اور اس وقت میں منیاپا کی لاش والے مقام سے آٹھ میل دور تھا کہ کچھ لوگ بھاگتے ہوئے مجھے یہ بتانے آئے کہ شیر نے تین میل دور ایک اور چرواہے پر حملہ کیا ہے۔
میں فوراً ان کے ساتھ جائے وقوعہ کو بھاگا۔ ایک بار پھر واقف علامات دکھائی دیں۔ چہرے، سینے اور پہلوؤں پر بری طرح پنجے مارے گئے تھے۔ اس بندے کا کافی خون بہہ گیا تھا اور چلنے کے قابل نہ رہا تھا۔ تاہم اس بندے پر کاٹنے کا کوئی زخم نہیں تھا۔ سو اسے کار میں ڈال کر میں نے اسے مقامی ہسپتال چھوڑا کہ اس کی حالت کافی خراب تھی۔ پھر جائے وقوعہ کو پہنچا اور جنگل میں گھسا۔ خون کے نشانات سے اس مقام تک جانا آسان تھا۔
تاہم اس بار شیر مویشی ہلاک کرنے میں ناکام رہا تھا کہ مویشی سڑک کو بھاگ گئے تھے۔ اس لیے شیر کی تلاش بیکار کام لگا۔ میں اِدھر اُدھر گھومتا رہا اور شیر کی آواز نکالتا رہا مگر کچھ نہ ہوا اور ایک دن مزید گزر گیا۔
میں نے منصوبہ بنایا کہ اس رات میں پانچ میل تک سڑک پر کار چلاتا رہوں اور سپاٹ لائٹ سے شیر کی آنکھیں تلاش کرتا رہوں۔ سو دس بجے میں نے عمل شروع کیا اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے پانچ میل دور پہنچا اور پندرہ منٹ رک کر واپسی کا سفر اختیار کیا۔ اسی طرح چھ گھنٹے تک میں گھومتا رہا۔
اس طرح ساتواں دن نکلا جو میری چھٹی کا آخری دن تھا۔ آخری حملے کے بعد چرواہوں نے باہر جانا بند کر دیا تھا۔ سو میں اکیلا نکلا۔ دوپہر کو میں کار سے چھ میل دور تھا اور پھر میں نے واپسی اختیار کی۔
میں پہاڑی سے اتر رہا تھا اور نیچے دامن میں نشیب سا تھا۔ فوراً دوسری پہاڑی شروع ہو گئی۔ اس وادی سے کوئی ندی نہیں گزرتی تھی اور چند ایک ببول کے درخت موجود تھے جبکہ مجھے سے پچاس گز آگے شیر باہر نکلا۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو بیک وقت دیکھا اور شیر جست لگا کر ایک خاردار جھاڑی کے پیچھے چھپ گیا۔
رائفل کو شانے سے لگا کر میں احتیاط سے آگے بڑھا اور امید تھی کہ شیر حملہ کرے گا۔ مگر دہشت سے میرا دل بھی دھڑک رہا تھا۔
تاہم حملہ نہ ہوا۔ شاید شیر کی چھٹی حس نے اسے بتا دیا کہ میں شکار نہیں بلکہ شکاری ہوں۔ سو جھاڑی کے قریب پہنچنے سے قبل ہی وہ گم ہو چکا تھا۔ میں نے جھاڑی کے گرد گھوم کر بھی دیکھا مگر شیر جا چکا تھا۔
اس طرح میری چھٹی کا ساتواں اور آخری روز ختم ہوا۔ اب بنگلور واپس جانا تھا۔
اگرچہ یہ کہانی شکار میں ناکامی سے متعلق ہے مگر یاد رہے کہ ہر بار ایسے کاموں میں کامیابی ممکن نہیں ہوتی۔ناکامی اور مایوسی اکثر ہوتی ہیں۔ تاہم محبت، لگن اور کوشش کے ساتھ انسان شیر کو بچھاڑ سکتا ہے۔ تاہم ان سب کے باوجود بھی بہت مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ مجھے واپسی پر بہت مایوسی ہو رہی تھی مگر فی الوقت کچھ عرصہ میں مزید چھٹی کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ شاید اگلی بار میری قسمت ساتھ دے۔
میں نے منیاپا کی بیوہ کو ایک چیک دیا اور واپس بنگلور روانہ ہو گیا۔ راستے میں خاردار جھاڑیاں کار سے لگتی رہیں۔ میں نے اس شیر کو عارضی کامیابی پر مبارکباد دی کہ نہ صرف اپنی جان بچانے میں کامیاب رہا بلکہ اس لیے بھی اس نے اپنی کاٹنے کی بجائے پنجے مارنے کی عادت کا راز محفوظ رکھا۔

کینتھ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • حسن کی تخلیق
  • بے روزگاری کا چیلنج
  • مہنگائی کا طوفان اور عام آدمی کی زندگی
  • 19جولائی: الحاق ِ پاکستان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مدیانور کا بڑا تیندوا
پچھلی پوسٹ
کبڑا داؤد

متعلقہ پوسٹس

شاکرہ نندنی

دسمبر 22, 2024

خاموش قربانی کا پہرہ

مارچ 6, 2026

نوحهِٔ زمین

دسمبر 15, 2024

حاصل کاروبار جہاں

مارچ 21, 2026

اوور کوٹ

دسمبر 6, 2019

علی بزبانِ علی بن موسیٰ الرضاؑ

جنوری 1, 2026

نواب سلیم اللہ خان

جنوری 15, 2020

کیڈٹ کالج وانا

نومبر 13, 2025

عبد العلیم صدیقی اور تیسری بساط

ستمبر 7, 2023

مذہب میں دلچسپی

جنوری 5, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ٹرانجٹ کی زندگی

جنوری 24, 2020

اردو لشکری زبان؟

دسمبر 18, 2019

یوم کشمیر اور ہمارا کردار

فروری 5, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں