430
لفظ جب منہ سے نکلتا ہے نظر آتا ہے
تب کہیں جا کے دعاوں میں اثر آتا ہے
صرف وہ شخص ہی آواز پہ رکھتا ہے نظر
جس کو احساس بدلنے کا ہنر آتا ہے
یک بہ یک سوچ کے زینے پہ قدم رکھتے ہوئے
لفظ قرطاس کے سینے پہ اتر آتا ہے
یہ مری دربدری کوئی تماشا تو نہیں
میں جدھر جاتا ہوں یہ چاند ادھر آتا ہے
بد دعا کرتے ہوئے یہ تو نہیں سوچا تھا
زد پہ طوفان کی اپنا بھی تو گھر آتا ہے
وقت کی قید سے آزاد تو ہو جاؤں مگر
میں قفس توڑوں تو پاتال کا در آتا ہے
میں نے پھولوں کو نگاہوں میں بسایا ہے عدید
میری راہوں میں بھی خوشبو کا نگر آتا ہے
سید عدید
