473
وقت بے وقت محبت نہیں اچھی ہوتی
اس قدر پیار کی عادت نہیں اچھی ہوتی
اب مجھے چھوڑ کے جاتے ہو تو جاتے کیوں ہو
تم تو کہتے تھے کہ ہجرت نہیں اچھی ہوتی
جان سے جانے کی نوبت بھی تو آ سکتی ہے
دوستی کرنے میں عجلت نہیں اچھی ہوتی
ایک حد تک تو جنوں قابل توقیر بھی ہے
حد سے بڑھ جائے تو وحشت نہیں اچھی ہوتی
اپنے اجداد سے ورثے میں ملی ہے مجھ کو
لوگ کہتے ہیں بغاوت نہیں اچھی ہوتی
مان لیتے ہیں کبھی بات منا لیتے ہیں
یوں محبت میں حکومت نہیں اچھی ہوتی
اپنی نظروں سے بھی گر جاتا ہے انسان عدید
یہ جو ہوتی ہے ضرورت نہیں اچھی ہوتی
سید عدید
