418
دل میں وہ درد تھا ہونٹوں پہ دعا پھیل گئی
حبس جب حد سے بڑھا تازہ ہوا پھیل گئی
میں نے بس اتنا کہا میرے حسین آقا ہیں
شام کی فوج سر کرب و بلا پھیل گئی
ہر دریچے سے محبت کے جنازے نکلے
اور پھر شہر میں نفرت کی وبا پھیل گئی
ایک آواز اٹھی سوچ کے زندانوں میں
اور سناٹے میں دلدوز صدا پھیل گئی
بس مری یاد کا آنا تھا اچانک اس نے
ہاتھ آنکھوں پہ دھرے رخ پہ حیا پھیل گئی
آخری بار یوں ان ہاتھوں کو دیکھا میں نے
اڑ کے ان ہاتھوں سے آنکھوں میں حنا پھیل گئی
اشک آنکھوں سے تو ٹپکا بھی نہیں تھا کہ عدید
ماں کی تصویر کے ہونٹوں پہ دعا پھیل گئی
سید عدید
