خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپاکستان کہاں ہے؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

پاکستان کہاں ہے؟

از سائیٹ ایڈمن اپریل 9, 2023
از سائیٹ ایڈمن اپریل 9, 2023 0 تبصرے 43 مناظر
44

ہم پاکستانی تاریخ کے اہم ترین دور میں زندہ ہیں ۔ اہمیت کی بہت ساری وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ کہ پاکستانیونے اپنی پہچان تلاش کرلی ہے اور اب اسے منوانے کے درپے ہیں ، دوسری طرف پورا عالمی منظرنامہ اپنی اہمیت کی داستان سنارہا ہے ۔ آج دنیا کسی نا کسی طرح سے ایک دوسرے سے کسی نا کسی وجہ سے جڑی ہوئی ہے ۔ کسی کے مفاد کسی کے ساتھ وابستہ ہیں اور کوئی اپنے مفاد کی خاطر اپنے پڑوسی ممالک سے بھی باز رہنے کی کوشش کررہا ہے ۔ تخریب کاری اور دہشت گردی نے اپنی شکل اس لئے بدل لی ہے کہ سماجی ابلاغ کچھ بھی چھپنے نہیں دے رہا اور ناہی کسی دباءو کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہے جبکہ ساری دنیا نے اس حوالے سے قوانین کا اطلاق کر رکھا ہے ۔ اس ڈھونگی دنیا میں اب تو سب کچھ صاف صاف دیکھائی دے رہا ہے ۔

پاکستان میں عام آدمی سے لے کر انتہائی خاص افراد تک سب ایک ہی نظریئے کے تحت پاکستان میں مقیم ہیں اور وہ یہ ہے کہ میں اپنا فائدہ کیسے حاصل کرسکتا ہوں ، دوسری طرف ہم پاکستانیو کا سب سے بہترین مشغلہ کرکٹ یا پھر سیاست پر گھنٹوں بیٹھ کر گفتگو کرنا ہے اور کسی بھی عمل کیلئے اپنی عدم دستیابی کیلئے معذرت پیش کردینا ہے ۔ معلوم نہیں کب سے ہم پاکستانیوں کی زندگی ایک چکر میں گزر رہی ہے نا تو ہم پریشان ہورہے ہیں اور ناہی چکر ختم ہوکر دے رہا ہے البتہ یہ ضرور ہے چکر ہی چکر میں لوگ بدلتے جارہے ہیں (اس دارِ فانی سے کوچ کرنے کے بعد) ۔ افراد کی ایک قلیل تعداد جو اپنے مستقبل کیلئے بہت زیادہ حساس ہوتی ہے اور اپنی زندگی کو قیمتی سمجھتے ہوئے اس گردشی گرداب سے نکلنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں اور کسی حد تک کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ یہی لوگ عثمان خواجہ، حمزہ یوسف، سکندر رضا اور ان جیسے بہت سارے لوگ دنیا کے افق پر چمکتے دمکتے دیکھائی دیتے ہیں یہ اپنی قدر منوالیتے ہیں کیوں کے دنیا میں میرٹ(اہلیت ) کا نظام چلتا ہے ۔

ہم جس نظام کا حصہ ہیں یہاں کوئی بھی اہم نہیں ہے یا پھر سب ہی اہم ہیں مسلۃ یہ ہے کے کوئی کسی کی نہیں سنتا اور اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک ادارہ دوسرے ادارے کی بات جو حکم کا درجہ رکھتی ہے مسترد کردیتا ہے ۔ یہ جاننے کیلئے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ہ میں اپنے کردار پر نظر ڈالنی ہوگی جب ہم عبادت کرتے ہیں تو اس کا خالص مقصد یہ ہوتا ہے کہ خالق کائنات کو راضی کرلیا جائے تاکہ ہم ان نعمتوں تک پہنچ سکیں کہ جن کی ہم کوشش نہیں کرتے ، ہم اپنی اولاد کیلئے اور اپنی ذاتیات سے منسلک دعائیں کرتے ہیں یہاں ہ میں یہ پتہ چلا کہ اپنے لئے ہم ہی اہم ہیں ، جبکہ ہمارے لئے ہمارے دین کا نفاذ ، ملک کا استحکام، معاشرے کا سدھار، معیشت کی بہتری ، اور اسی طرح کے دیگر امور بھی برابر کی اہمیت رکھتے ہیں جو ہماری دعاءوں میں شائد ہی شامل ہوتے ہیں اسی طرح ہم اپنے ارد گرد ہونے والے معاملات سے بے خبر اپنی راہ لئے چلے جاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ہ میں کسی بھی طرح سے راستہ سہی اور سیدھا مل جائے ، ہماری راہ میں رکاوٹ نا ہو، آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ جب کبھی سڑک پر ٹریفک میں پھنس جانے کے بعد آپ ادھر ادھر سے نکلتے ہیں تو پلٹ کر دیکھتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ یا ر ہم تو نکل گئے اور گاڑی کے رفتار بڑھاتے ہوئے نکل جاتے ہیں ، ایک طرف تو قطار میں لگنے سے بچنے کیلئے کسی بھی طرح کا اقدام اٹھانے کیلئے تیار رہتے ہیں لیکن اگر کہیں قطار میں لگ جائیں تو ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح سے جلد از جلد اپنا کام ہوجائے ۔ اس ساری گفتگو میں اہم ترین ہم تھے اور ہم سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھا ۔ جب آپ کسی بھی چیز کا خیال نہیں کریں گے یا خیال کرنے والوں کی توجہ نہیں دلوائیں گے تو پھر چیز نے تو خراب ہونا ہی ہے پہلے تھوڑی اور پھر مکمل طور تباہ و برباد ہوجاتی ہے ۔

پاکستان کو کبھی بھی حقیقی جمہوری نظام میسر نہیں آسکاکبھی فوجی مارشل لاء لگے رہے تو دوسری طرف سیاسی مارشل لاء نے اقتدار کے مزلے لوٹے اور تاحال لوٹ رہے ہیں ۔ سیاسی مارشل لاء کو ہمارے ملک میں بطور جمہوریت عوام میں مشہور کیا گیا اور بدقسمتی سے عوام بھی ایسا ہی سمجھتی چلی آرہی ہے ۔ کسی بھی نظام کا جب عملی کام ہی بدل دیا جائے تو بھلا نام کو کیسے زندہ رکھا جاسکتا ہے ۔ جس کی روح سے سیاسی مارشل لاء کو باقاعدہ طور پر سمجھنے کی کوشش کریں توہ میں سمجھ آتا ہے کہ یہ تو ذاتی مفادات کے لئے بر سرپیکار ہونے کا نظام ہے ۔ یہاں تو سیاسی جماعتیں بھی افراد کے گرد بنتی پنپتی اور ختم ہوتی دیکھی گئی ہیں ۔ افراد اپنے مفادات کی بھینٹ کچھ بھی چڑھانے سے گریز نہیں کرتے ۔ ہماری تاریخ نظریہ ضرورت سے بھری پڑی ہے جس کی وجہ سے ادارے استحکام کھو بیٹھے ہیں اسی طرح سے انصاف کی باقاعدہ بولی لگتی دیکھی گئی ہیں ۔

ہم سب نے دیکھا ہے کہ ہم پہلے اپنے لئے ، پھر اپنے خاندان کیلئے، پھر اپنی زبان کیلئے، پھر اپنے علاقے کیلئے، پھر اپنے مسلک کیلئے اور پھر پتہ نہیں کب پاکستان کیلئے سوچنا شروع کرتے ہیں ۔ اس ڈگر پر ہ میں باقاعدہ اور منظم طریقے سے چلنے پر مجبور کیا گیا ہے تاکہ پاکستان اپنی تمام تک خوبیوں کیساتھ بس اپنے مکینوں کی نظروں اور توجہ سے محروم ہوجائے اور تباہی کی طرف پیش قدمی شروع کردے، یہ پیش قدمی جاری و ساری ہے زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ پاکستان کسی مخدوش عمارت کی طرح منہدم ہونے والا ہے لیکن ایک طاقت ہے کہ جس نے یہ عظیم سرزمین برِ صغیر کے مسلمانوں کو ایک کرنے کیلئے بنائی تھی ایک نظرئیے کو دوام بخشنے کیلئے بنائی تھی اور اپنے دین کے نفاذ کیلئے بنائی تھی ۔ ہماری سوچ کو داخلی معاملات میں اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ ہمارے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں مقصد بھی صرف اچھی تنخواہ والی نوکری تک محدود ہوکر رہ گئی ہے یہ ان کی کامیابی ہے ۔ ہ میں مقصد حیات کیساتھ سامانِ حیات بھی میسر کیا گیا تھا لیکن ہم اپنی صفوں میں گھس بیٹھیوں کو پہچان نہیں سکے اور شائد تاحال پہچاننے سے قاصر ہیں ۔

آج ادارے اپنی اپنی بقاء کی جنگ لڑتے دیکھائی دے رہے ہیں ،جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اداروں نے پاکستان کے استحکام کی خاطر کبھی اقدامات نہیں اٹھائے صرف اور صرف اپنی اپنی بقاء کیلئے آگے بڑھتے رہے جس کی وجہ سے پاکستان کو عظیم نقصان پہنچتا رہا ہے ۔ آج دشمن یقینا ہماری کمزور ہوتی سرحدوں کو دیکھ رہا ہے کیوں کے ہم تو صرف اپنے ادارے یا اپنے نجی گھر تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں ۔ آج پاکستان ہم پاکستانیو سے پوچھ رہا ہے کہ اس سرزمین پر سب انفرادی زندگیاں کیوں گزارنا چاہتے ہیں ، قومی تشخص کہاں رہ گیا ہے ، اس سرزمین پر اب پاکستان کہاں ہے ۔

 

شیخ خالد زاہد

 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کیوں اُسی شخص سے ملنے کا بہانہ چاہوں
  • پشاور سے لاہور تک
  • نہ تم زباں سے جواب دینا
  • بائی کے ماتم دار
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دشت میں دِکھتا آب تھوڑی ہیں
پچھلی پوسٹ
خیالوں کی ادھوری دیوی

متعلقہ پوسٹس

خوابِ ابری

دسمبر 1, 2024

دیہات کے مسائل

جنوری 11, 2026

ایسی پستی ایسی بلندی

جون 19, 2023

اخلاقی روایات کی پائمالی

مئی 13, 2020

ہم تو سجدے بھی کیا کرتے تھے

اکتوبر 30, 2025

کتے کی دعا

فروری 14, 2020

یہی ہے دل کا تقاضا

جولائی 5, 2025

باردہ شمالی

جنوری 21, 2020

ٹیکنالوجی کی مدد سے اردو ادب کی تدریس

جون 18, 2021

بائی فوکل کلب

اکتوبر 22, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دھول چہرے پر تھی اور صاف...

ستمبر 7, 2025

عوام اب پوچھتے ہیں

نومبر 10, 2025

مشین گردی

نومبر 28, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں