خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباغیر آئینی بندوبست اور عوامی احتجاج
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

غیر آئینی بندوبست اور عوامی احتجاج

از سائیٹ ایڈمن فروری 21, 2023
از سائیٹ ایڈمن فروری 21, 2023 0 تبصرے 43 مناظر
44

اس وقت ملک کو ایک مرتبہ پھر غیر آئینی طریقے سے چلانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ دونوں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نوے دن کے اندر کروانا آئینی پابندی ہے۔ صدر پاکستان اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے الیکشن کی تاریخ دے چکے ہیں۔ ادھر جن کی ذمہ داری ہے وہ اس آئینی پابندی کو ہوا میں اڑانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ بظاہر یہ غیر آئینی بندوبست کامیابی سے اپنے قدم آگے بڑھا رہا ہے۔ بات عدالتوں میں جائے گی اور وقت گزرتا جائے گا۔

عمران خان ملک کو سیاسی اور معاشی طور پر اس نہج پر لے آئے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں کے پاس اس غیر آئینی حرکت کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں۔ سب سے پہلے قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے دوران وہ خود غیر آئینی چال چل کر اس غلط حرکت کو ایک مثال فراہم کر چکے ہیں۔ لیکن مہذب دنیا میں ایک جرم دوسرے جرم کو جواز فراہم نہیں کرتا۔

وہ اپنے دور حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے مخالفین اور خود اپنے حواریوں سے جس طرح پیش آتے رہے ہیں اس کی وجہ سے پورے ملک میں ان کی حمایت میں اب ایک بھی آواز نہیں اٹھ رہی۔ واحد حواری ’جماعت اسلامی‘ بھی مکمل طور پر خاموش ہے۔ سڑکوں اور گلیوں میں کامیاب تحریکوں کا ایندھن بننے والی مذہبی سیاسی پارٹیوں میں سے بھی کوئی ان کی پشت پر موجود نہیں۔ یہ پارلیمانی طرز حکومت ہے، علاقائی، قومی، لسانی و مذہبی تنظیمیں، سب اس ملک میں موجود ہیں، سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سب کو ناراض کیا ہوا ہے، کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں۔

ان حالات میں وہ خود کو زمان پارک میں مقید کر چکے ہیں۔ بہادری کا دعویٰ ضرور کرتے ہیں لیکن مخالفین کی گیدڑ بھبکیوں سے ڈر کر اپنے بل میں چھپے بیٹھے ہیں۔

دنیا کی تاریخ میں جب بھی کسی مقبول سیاست دان کو دیوار کے ساتھ لگانے کے خلاف مزاحمت کا مرحلہ آتا ہے تو عوام اس تحریک کا ہراول دستہ ہوتے ہیں۔ آئینی بندوبست کی حفاظت ہمیشہ عوامی جدوجہد کرتی ہے۔ مقبول عمران خان بھی اب عوام کی مدد کے طالب ہیں۔

اس سے پہلے 25 مئی کو ایک غلط چال چلتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی کوشش میں اپنے کارکنان کی پٹائی کروا چکے ہیں۔ اب گرفتاری کا خوف ذہن پر سوار ہے اور اپنے ساتھ پھر ورکرز کو لے کر جیل جانا چاہتے ہیں۔

عمران خاں بلا شبہ ایک مقبول لیڈر ہیں لیکن ان کی مقبولیت گلی، محلوں اور سڑکوں پر موثر عوامی احتجاج میں منتقل نہیں ہو سکتی۔ یہی حال باقی سیاسی جماعتوں کا ہے۔ چار سال تک وہ عمران خاں اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں ذلیل ہوتے رہے، عوام سے ووٹ لے کر خود کو صحیح بھی ثابت کرتے رہے لیکن عوامی سطح پر کوئی موثر احتجاج نہ کر سکے۔

عوام سیاسی لیڈروں کی بات سنتے ہیں، ان کو ووٹ دیتے ہیں لیکن ان کے ساتھ جیل جانے کو تیار نہیں۔ ان کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کو راضی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاست دانوں نے کبھی بھی ان کو اہمیت نہیں دی۔ کبھی بھی اپنی پارٹیوں کو عوامی سطح پر آرگنائز نہیں کیا۔ طلبا، مزدوروں، کسانوں میں ان کی کوئی تنظیم نہیں۔ بلکہ ان تمام شعبوں میں سیاسی سرگرمیاں تقریباً ناپید ہیں۔ ملک میں نظریاتی سطح پر، ماسوائے جماعت اسلامی، کبھی کسی سیاسی تنظیم نے کام نہیں کیا۔ اپنے کارکنان کی سیاسی تربیت پر کبھی دھیان نہیں دیا۔ بلدیاتی الیکشن نہیں کروائے اور اگر کبھی کروائے بھی ہیں تو انہیں اختیارات نہیں دیے۔

شاید اس کی یہ وجہ ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی پارٹی عوامی سطح پر کام کرے گی تو وہاں لیڈر پیدا ہوں گے۔ وہ عوام میں مقبول بھی ہوں گے اور پھر کبھی نہ کبھی قیادت ان کے حوالے کرنا پڑے گی۔ یہ خوف ان کو صرف اپنی ذات تک محدود کر دیتا ہے۔

تمام سیاسی پارٹیاں، بشمول عمران خاں کی تحریک انصاف، سیاسی جدوجہد کا راستہ بھول کر اسٹیبلشمنٹ کے در کی گدا بن چکی ہیں۔ عوام میں ان کا کام صفر ہے۔ اسی لیے جب ان پر مشکل پڑتی ہے تو عوام جو کہ سیاست کی جان ہیں اور غیر آئینی چالوں کے راستے کی اصل رکاوٹ ہیں، ان کے پیچھے نہیں ہوتے۔

جب ایتھنز میں اولمپک گیمز کے فاتح کھلاڑی سیلون نے حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو اس کو شہر کے عوام نے نو علاقائی قائدین کی قیادت میں ناکام بنایا۔ جولیس سیزر کے قتل کے بعد شہر کی مقامی سیاسی جتھوں نے جو کہ شہر کے زیادہ تر حصوں پر سیاسی کنٹرول رکھتے تھے، اس کے نامزد کردہ اوکٹووین کو مارک اینتھونی کے خلاف سپورٹ کرتے ہوئے حکومت پر بٹھایا۔ 1961 میں فرانس کی کالونی الجیریا میں موجود جرنیلوں نے بغاوت کر دی ان کا مقصد پیرس پر قبضہ کرنا تھا۔

الجیریا میں اس وقت پانچ لاکھ فوج تھی۔ فرانسیسی صدر نے عوام کو مزاحمت کی آواز دی۔ ٹریڈ یونینز کی مدد سے عوام نے باغیوں کو دوسرے دن ہی بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ تھائی لینڈ میں فروری 1991 کی بغاوت کے خلاف طلبا نے تحریک چلائی اور فوج کے نامزد کردہ وزیراعظم کو ہٹانے میں کامیاب ہوئے۔ ترکیے میں کئی دہائیوں سے ہونے والے مسلسل بلدیاتی انتخابات میں سیاسی پارٹیاں مقامی سطح پر مضبوط ہو چکی تھیں جس وجہ سے جب فوج نے بغاوت کی تو عوام اٹھ کھڑے ہوئے۔

پاکستان میں ایوب کے خلاف مہم میں طلبا اور مزدوروں کا ہاتھ سب سے زیادہ تھا۔ مشرف کو عوام نے وکلا کی قیادت میں دھول چاٹنے پر مجبور کیا۔ یاد رہے اس وقت ملک میں صرف وکلا کی تنظیمیں ہیں جہاں باقاعدہ الیکشن ہوتے ہیں۔

بدقسمتی ہے کہ ہمارا ملک ایک اور غیر آئینی بندوبست کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حکمران اپنی کمزوریوں کی وجہ سے اسے اپنا کندھا پیش کر رہے ہیں اور عمران خان مقبولیت کے دباؤ کو استعمال کر کے اسٹیبلشمنٹ میں موجود اپنے بچے کھچے آقاؤں کو پھر استعمال کرنا چاہتے ہیں یا پھر ملک کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل کر اپنے لیے نئے مواقع تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی سمیت کسی میں بھی عوامی جدوجہد کی صلاحیت نہیں کیونکہ کسی پارٹی نے عوام کے ساتھ اپنا رشتہ پکا کرنے کے لیے طالب علموں، مزدوروں، کسانوں میں کام نہیں کیا۔ کسی نے اپنی پارٹی کو نظریاتی سطح پر تیار نہیں کیا۔ اس لیے ناکامی اب پھر عمران خان کی غیر سیاسی چالوں کا مقدر بنے گی۔ اس سے پہلے امریکی خط کا ڈرامہ، اسمبلیوں سے استعفی، لانگ مارچ، اپنا پسندیدہ چیف لانے کی خواہش اور صوبائی اسمبلیوں کی قربانی سمیت کوئی چال ان کا ہدف حاصل کرنے میں مدد نہ کر سکی۔ وہ مجمع جمع کر سکتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ میں حاضری پر کامیاب ڈرامہ کر سکتے ہیں لیکن سب کوششیں ان کے مخالفیں کی تعداد بڑھاتے چلی جائیں گئیں۔

تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا؛ بھٹو نے بھی اپنے کیس کو اسی طرح لیا تھا۔ کرنل رفیع نے آخری شام جب انہیں پھانسی کی اطلاع دی تو ان کا کہنا تھا ”یحییٰ (بختیار) نے میرے کیس کو خراب کیا۔ میری پارٹی کو مردہ بھٹو کی ضرورت تھی، زندہ بھٹو کی نہیں۔“ عمران خان بھی اپنے مقدمات کو مذاق بنا رہے ہیں اور دن بدن ان کے گرد حلقہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے تمام اندازے غلط ہو رہے ہیں۔ ان کی جیل بھرو تحریک بھی بری طرح ناکام ہوگی۔ پھر بات ان کی نا اہلی کی طرف جائے گی اور وہ آئندہ کئی سالوں کے لیے سیاست سے باہر ہو جائیں گے۔ بدقسمتی سے یہ ناکامی ان کی پارٹی اور دوسری سیاسی قوتوں کو بھی کمزور کر جائے گی۔

اب بھی موقع ہے کہ وہ یہ خود کش حملہ کرنے کی بجائے سیاست دانوں کے ساتھ مل کر بیٹھیں۔ سیاسی راستہ اختیار کریں۔ حکمران بھی ہوش کے ناخن لیں غیر آئینی ہتھکنڈوں کی بجائے سیاسی راستہ اختیار کریں۔ اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم بننے کی بجائے عوام کی طرف رجوع کریں۔ کیونکہ غیر آئینی حکومت کا یہ تجربہ آنے والے دور میں سیاسی پارٹیوں کے راستے کی سب سے بڑی دیوار بن جائے گا۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ظفر ہیں نیلم و الماس پتھر ایک صانع کے
  • گُلوں کی چھاٶں جیسا هے
  • فلک کو چھونے کی حسرت میں بٹ گئے ہم لوگ
  • جدید اُردو مرثیہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شفق گوں سبزہ
پچھلی پوسٹ
شامِ تنہا کس طرح سحر ہوتی ہے!

متعلقہ پوسٹس

دشتِ ہجراں سے محبت کو نبھاتے ہوئے ہم

مئی 8, 2020

ابو جی کے نام

نومبر 7, 2020

غیب کے دشت میں ہوتے ہیں ٹھکانے میرے

فروری 8, 2020

ذرا احساس ہونے دو

اپریل 10, 2020

ایک تصویر کہ اوّل نہیں دیکھی جاتی

اپریل 23, 2020

جُستجُو کے کسی جہان میں ہے

جنوری 28, 2020

نوحهِٔ زمین

دسمبر 15, 2024

بُڈّھا کھوسٹ

جنوری 24, 2020

بے وزنی روح کی کہانی

نومبر 27, 2024

کتنے خدشوں نے سر نکالے تھے

اکتوبر 10, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں...

اگست 15, 2020

جو سب عروجِ شوق کے تھے

مارچ 23, 2025

گریز قصے کا گمشدہ داخلی سرا...

جون 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں