خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرچچا چھکن نے تصویر ٹانگی
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرامتیاز علی تاج

چچا چھکن نے تصویر ٹانگی

از سائیٹ ایڈمن اگست 9, 2022
از سائیٹ ایڈمن اگست 9, 2022 0 تبصرے 31 مناظر
32

چچا چھکن کبھی کبھار کوئی کام اپنے ذمے کیا لے لیتے ہیں، گھر بھر کو تگنی کا ناچ نچا دیتے ہیں ۔’’آبے لونڈے ،جا بے لونڈے ، یہ کیجو ،وہ دیجو ‘‘،گھر بازار ایک ہو جاتا ہے۔دُور کیوں جاؤ ،پرسوں پرلے روز کا ذکر ہے ،دوکان سے تصویر کا چو کھٹا لگ کر آیا ۔اُس وقت تو دیوان خانے میں رکھ دی گئی۔ کل شام کہیں چچی کی نظر اُس پر پڑی ،بولیں چُھٹن کے ابا تصویر کب سے رکھی ہوئی ہے ،خیر سے بچوں کا گھر ٹھہرا، کہیں ٹوٹ پھوٹ گئی تو بیٹھے بٹھائے روپے دو روپے کا دھکا لگ جائے گا ،کون ٹانگے گا اس کو ؟‘‘
’’ٹانگتا اور کون، میں خود ٹانگوں گا ۔کون سی ایسی جوئے شیر لانی ہے ۔رہنے دو میں ابھی سب کچھ خود ہی کیے لیتا ہوں۔‘‘
کہنے کے ساتھ ہی شیروانی اتار چچا تصویر ٹانگنے کے درپے ہو گئے ۔امامی سے کہا ۔’’بیوی سے دو آنے پیسے لے کر میخیں لے آ۔‘‘
ٍ ادھر وہ دروازے سے نکلا ،ادھر مودے سے کہا ’’مودے مودے !جانا امامی کے پیچھے ۔
کہیو تین تین انچ کی ہوں میخیں ۔بھاگ کر جا ۔جا لیجو اُسے راستے ہی میں ۔‘‘
لیجئے تصویر ٹانگنے کی داغ بیل پڑ گئی اور اب آئی گھر بھر کی شامت۔
ننھے کو پُکارا ۔’’او ننھے جانا ذرا میرا ہتھورا لے آنا ۔بنو !جاؤ اپنے بستے میں سے چفتی نکال لاؤ اور سیڑھی کی ضرورت بھی تو ہوگی ہم کو۔ارے بھئی للو!ذرا تم جاکر کسی سے کہہ دیتے ،سیڑھی یہاں آکر لگا دے ۔اور دیکھنا وہ لکڑی کے تختے والی کرسی بھی لیتے آتے تو خوب ہوتا۔
چھٹن بیٹے !چائے پی لی تم نے ؟ ذرا جانا تو اپنے ان ہمسائے میر باقر علی کے گھر کہنا ابا نے سلام بھیجا ہے اور پُوچھا ہے ،آپ کی ٹانگ اب کیسی ہے اور کہیو ،وہ جو ہے نا آپ کے پاس ،کیا نام ہے اس کا ، اے لو بھول گیا ،پلول تھا کہ ٹلول ،اللہ جانے کیا تھا ،خیر وہ کچھ ہی تھا ، تو یوں کہہ دیجو کہ وہ جو آپ کے پاس آلہ ہے نا جس سے سیدھ معلوم ہوتی ہے وہ ذرا دے دیجئے ،تصویر ٹانگنی ہے ۔جائیو میرے بیٹے ،پر دیکھنا سلام ضرور کرنا اور ٹانگ کا پُوچھنا نہ بھول جانا ۔اچھا ؟۔۔۔۔یہ تم کہاں چل دیے للو ؟کہا جو ہے ذرا یہیں ٹھہرے رہو ،سیڑھی پر روشنی کون دکھائے گا ہم کو؟
آگیا امامی؟لے آیا میخیں ؟مودا مل گیا تھا ؟تین تین انچ ہی کی ہیں نا ؟بس بہت ٹھیک ہیں ۔
اے لوستلی منگوانے کا تو خیال ہی نہ رہا ۔اب کیا کروں ؟
جانا میرا بھائی جلدی سے ۔ہوا کی طرح جا اور دیکھیو بس گز سوا گز ہو ستلی ۔نہ بہت موٹی ہو نہ پتلی ،کہہ دینا تصویر ٹانگنے کو چاہیے ہے ،لے آیا؟او وِدو!وِدو کہاں گیا ؟وِدو میاں !۔۔۔۔اسی وقت سب کو اپنے اپنے کام کی سُوجھی ہے ۔یوں نہیں کہ آکر ذرا ہاتھ بٹا ئیں ۔یہاں آؤ ،تم کرسی پر چڑھ کر مجھے تصویر پکڑانا ۔‘‘
لیجیے صاحب خدا خدا کر کے تصویر ٹانگنے کا وقت آیا مگر ہونی شدنی ،چچا اسے اٹھا کر ذرا وزن کر رہے تھے کہ ہاتھ سے چھوٹ گئی ۔گر کر شیشہ چور چور ہو گیا ۔’’ہئی ہے! کہہ کر سب ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے ۔
چچا نے کچھ خفیف ہو کر کرچوں کا معائنہ شروع کر دیا ۔وقت کی بات اُنگلی میں شیشہ چبھ گیا ۔خون کی تللی بندھ گئی۔ تصویر کو بھول اپنا رومال تلاش کرنے لگے ۔رومال کیاں سے ملے ؟ رومال تھا شیروانی کی جیب میں شیروانی اتار کر نہ جانے کہاں رکھی تھی ۔اب جناب گھر بھر نے تصویر ٹانگنے کا سامان تو طاق پر رکھا اور شیروانی کی ڈھنڈیا پڑ گئی ۔چچا میاں کمرے میں ناچتے پھر رہے ہیں کبھی اس سے ٹکر کھاتے ہیں ،کبھی اس سے ۔’’سارے گھر میں سے کسی کو اتنی توفیق نہیں کہ میری شیروانی ڈھونڈ نکالے ۔عمر بھر ایسے نکموں سے پالا نہ پڑا تھا۔ اور کیا جھوٹ کہتا ہوں کچھ ؟چھ چھ آدمی ہیں اور ایک شیروانی نہیں ڈھونڈ سکتے جو ابھی پانچ منٹ بھی تو نہیں ہوئے میں نے ایک اتار کر رکھی ہے ۔بھئی بڑے ۔۔۔‘‘
اتنے میں آپ کسی جگہ سے بیٹھے بیٹھے اٹھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ شیروانی پر ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔اب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں ۔’’اے بھئی رہنے دینا، مل گئی شیروانی ،ڈھونڈ لی ہم نے ۔تم کو تو آنکھوں کے سامنے بیل بھی کھڑا ہو تو نظر نہیں آتا ۔‘‘
آدھے گھنٹے تک انگلی بندھتی بندھاتی رہی ۔نیا شیشہ منگوا کر چوکھٹے میں جڑا اور تمام قصے طے کرنے پر دو گھنٹے بعد پھر تصویر ٹانگنے کا مرحلہ درپیش ہوا ۔اوزار آئے ،سیڑھی آئی،چوکی آئی، شمع لائی گئی چچا جان سیڑھی پر چڑھ رہے ہیں اور گھر بھر (جس میں ماما اور کہا ری بھی شامل ہیں )نیم دائرے کی صورت میں امداد دینے کو کیل کانٹے سے لیس کھڑا ہے ۔دو آدمیوں نے سیڑھی پکڑی تو چچا جان نے اس پر قدم رکھا ،اوپر پہنچے ۔ایک نے کرسی پر چڑھ کر میخیں بڑھائیں ۔ایک قبول کر لی۔ دوسرے نے ہتھورا اوپر پہنچایا ۔سنبھالا ہی تھا کہ میخ ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر پڑی۔کھسیانی آواز میں بولے۔’’اے لو،اب کم بخت میخ چھوٹ کرگر پڑی !دیکھنا کہاں گئی ؟‘‘
اب جناب سب کے سب گھٹنوں کے بل ٹٹول ٹٹول کر میخ تلاش کر رہے ہیں ۔اور چچا میاں سیڑھی پر کھڑے مسلسل بڑ بڑا رہے ہیں۔’’ملی ؟ارے کم بختو ڈھونڈی ؟اب تک تو میں سو مرتبہ تلاش کر لیتا۔اب میں رات بھر سیڑھی پر کھڑا کھڑا سوکھا کروں گا؟نہیں ملتی تو دوسری ہی دے دواندھو!‘‘
یہ سن کر سب کی جان میں جان آتی ہے ،تو پہلی میخ ہی مل جاتی ہے ۔اب میخ چچا جان کے ہاتھ میں پہنچاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے اس عرصے میں ہتھورا غائب ہو چکا ہے ۔
’’یہ ہتھوڑا کہاں چلا گیا ؟کہاں رکھا تھا میں نے ؟لاحول ولا قُوۃ !الو کی طرح آنکھیں پھاڑے میرا منہ کیا تک رہے ہو؟سات آدمی اور کسی کو معلوم نہیں ،ہتھوڑا میں نے کہاں رکھ دیا؟‘‘
بڑی مصیبتوں سے ہتھورے کا سراغ نکالا اور میخ گڑنے کی نوبت آئی۔ اب آپ یہ بھول بیٹھے ہیں کہ ماپنے کے بعد میخ گڑنے کو دیوار پر نشان کس جگہ کیا تھا۔سب باری باری کرسی پر چڑھ کر کوشش کر رہے ہیں کہ شاید نشان نظر آجائے ۔ہر ایک کو الگ الگ نشان دکھائی دیتا ہے ۔چچا سب کو باری باری الو گدھا کہہ کہہ کر کرسی سے اتر جانے کا حکم دے رہے ہیں آخر پھر چفتی لی۔ اور کونے سے تصویر ٹانگنے کی جگہ کو دوبارہ ماپنا شروع کیا ۔مقابل کی تصویر کونے سے پینتیس انچ کے فاصلے پر لگی ہوئی تھی ۔’’بارہ اور بارہ اور کے انچ اور؟‘‘
بچوں کو زبانی حساب کا سوال ملا۔با آواز بلند حل کرنا شروع کیا ۔
اور جواب نکالا تو کسی کا کچھ تھا اور کسی کا کچھ۔ ایک نے دوسرے کو غلط بتایا۔ اسی تو تو میں میں میں سب بھول بیٹھے کہ اصل سوال کیا تھا ۔نئے سرے سے ماپ لینے کی ضرورت پڑ گئی ۔
اب کے چچا چفتی سے نہیں ماپتے ۔ستلی سے ماپنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔سیڑھی پر پینتالیس درجے کا زاویہ بنا کر ستلی کا سرا کونے تک پہنچانے کی فکر میں ہیں کہ ستلی ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے ۔آپ لپک کر اسے پکڑنا چاہتے ہیں کہ اسی کوشش میں زمین پر آرہتے ہیں ۔کونے میں ستار رکھا تھا ۔اس کے تمام تار چچا جان کے بوجھ سے یک لخت جھنجھنا کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں ۔
اب چچا جان کی زبان سے جو منجھے ہوئے الفاظ نکلتے ہیں سننے کے قابل ہوتے ہیں۔ مگر چچی روک دیتی ہیں اور کہتی ہیں ۔’’اپنی عمر کا نہیں تو ان بچوں ہی کا خیال کرو۔‘‘
بہت دشواری کے بعد چچا جان از سرِ نو میخ گاڑنے کی جگہ معین کرتے ہیں ۔بائیں ہاتھ سے اس جگہ میخ رکھتے ہیں اور دائیں ہاتھ سے ہتھورا سنبھالتے ہیں۔ پہلی ہی چوٹ جو پڑتی ہے تو سیدھی ہاتھ کے انگھوٹے پر ۔آپ ’’سی‘‘کر کے ہتھورا چھوڑ دیتے ہیں وہ نیچے آکر گرتا ہے کسی کے پاؤں پر ۔ہائے ہائے اور افوہ اور مار ڈالا شروع ہو جاتی ہے ۔
چچی جل بھن کر کہتی ہیں ’’یوں میخ گاڑنا ہوا کرے تو مجھے آٹھ روز پہلے خبر دے دیا کیجئے۔ میں بچوں کو لے کر میکے چلی جایا کروں ۔اور نہیں تو۔‘‘
چچا جان نادم ہو کر جواب دیتے ہیں۔’’یہ عورت ذات بھی بات کا بتنگڑ بنا لیتی ہے ۔یعنی ہوا کیا جس پر طعنہ دیے جا رہے ہیں ؟بھلا صاحب کان ہوئے ۔آئندہ ہم کسی کام میں دخل نہ دیا کریں گے۔‘‘
اب نئے سرے سے کوشش شروع ہوئی ۔میخ پر دوسری چوٹ جو پڑی تو اسی جگہ کا پلستر نرم تھا ۔پوری کی پوری میخ اور آدھا ہتھوڑا دیوار میں اورچچا اچانک میخ گڑ جانے سے اس زور سے دیوار سے ٹکرائے کہ ناک غیرت والی ہوتی تو پچک کر رہ جاتی۔
اس کے بعد از سرِ نو چفتی اور رسی تلاش کی گئی اور میخ گاڑنے کی نئی جگہ مقرر ہوئی ۔اور کوئی آدھی رات کا عمل ہوگا کہ خدا خدا کر کے تصویر ٹنگی ۔وہ بھی کیسی ؟ٹیڑھی بینکی اور اتنی جھکی ہوئی کی جیسے اب سر پر آئی ۔چاروں طرف گز گز بھر دیوار کی یہ حالت گویا چاند ماری ہوتی رہی ہے ۔چچا کے سوا باقی سب تھکن سے چور نیند میں جھوم رہے ہیں ۔اب آخری سیڑھی پر سے دھم سے جو اترتے ہیں تو کہاری غریب کے پاؤں پر پاؤں۔غریب کے ڈیل تھی‘تڑپ ہی تو اٹھی ۔چچا اس کی چیخ سن کر ذرا سرا سیمہ تو ہوئے مگر پل بھر میں داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بولے ۔’’اتنی سی بات تھی ،لگ بھی گئی۔ لوگ اس کے لیے مستری بلوایا کرتے ہیں۔‘‘

امتیاز علی تاج

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک ماں کی ڈائری سے
  • سعادت مند ترین انسان کون ہے؟
  • باباجی!
  • نئے دھان سے پہلے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
پچھلی پوسٹ
چچا چھکن نو چندی دیکھنے چلے

متعلقہ پوسٹس

مِصری کی ڈلی

جنوری 16, 2020

افلاطون کی ریاست اور خان صاحب

فروری 14, 2021

ریاست کا دیواں

دسمبر 10, 2019

چاند ماموں

مارچ 5, 2023

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

کشتی کی وہ سنہری شام

دسمبر 22, 2024

سلطان ٹیپو

مئی 25, 2024

جشن میلادِ النبیﷺ:نئے معاہدے کی ضرورت!

اکتوبر 21, 2021

سجدہ

فروری 4, 2020

آن لائن شاپنگ کی دراز رسی

اکتوبر 10, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شعری مجموعہ – سوچ سفر

مئی 5, 2024

ریت پر خون

جنوری 24, 2020

گلچیں

دسمبر 1, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں