خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامسخرہ
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریر

مسخرہ

از سائیٹ ایڈمن فروری 5, 2022
از سائیٹ ایڈمن فروری 5, 2022 0 تبصرے 42 مناظر
43

شفق نے کوٹ اپنے گرد لپیٹا اور اردگرد نظر دوڑائی ،بہار کی آمد آمد تھی،ہوا میں ایک عجب تازگی سی تھی،سورج نے اپنے رخ زیبا سے نقاب اٹھا لیا تھا، غنچوں کے چٹکنے سے زندگی کا نیا احساس جنم لے رہا تھا۔ہوا میں پائن کونز ، ٹیولپس اور نرگس کے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو رچی ہوئی تھی ۔ لوگ ہنستے مسکراتے اس کے پاس سے گزر رہے تھے ۔شفق کو ہوا ابھی بھی خنک سی لگ رہی تھی ۔اس نے اپنے اردگرد موجود خوش باش لوگوں کو دیکھا اور سوچا :۔

“شاید انسان کی اندرونی کیفیات بہت اہم ہوتیں ہیں۔۔۔۔۔ میرے جسم و جان پر یہ جمود میری روح کے مر جانے سے طاری ہوا ہے۔پتا نہیں میری بے کفن لاش کو یہ سب لوگ دفنا کیوں نہیں دیتے؟

میں اب زندہ کہاں ہوں؟

بھلا زندہ لوگ مجھ جیسے ہوتے ہیں؟”

اس کی سوچوں میں مدوجزر کی سی کیفیت تھی اور اس کی ہستی اس طوفان میں ڈوب ابھر رہی تھی ۔

گزشتہ کئی مہینوں سے اس کی ذات پر عجب سا جمود طاری تھا، وہ صبح بیدار ہو کر گھنٹوں چھت کو تکتی رہتی تھی اور سوچتی کہ آج اور کل میں کیا فرق ہے؟

اس کی کیفیت اس صحرا نورد کی سی تھی جس سے صحرا میں سراب نظر بھی چھن گیا ہو۔آج بھی صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا، چھت پر ایک چھپکلی بے حس و حرکت تاک لگائے بیٹھی تھی، اچانک ایک مکھی اس کے قریب آئی تو چھپکلی نے اسے شکار کرلیا۔اس نے سوچا:

” موت بھی اس چھپکلی کی طرح انسان کی زندگی کی تاک لگائے بیٹھی ہوتی ہے، اچانک سے کہیں سے بھی زندگی کا سامنا موت سے ہوہی جاتا ہے۔”

اس نے اپنی سوچوں کو جھٹکا اور اپنے آپ کو سرزنش کرتی تیار ہو کر گھر سے باہر آگئی۔وہ روز کی طرح آج بھی حسب معمول بس اسٹاپ کے بینچ پر تنہا بیٹھی ہوئی تھی ۔وہ روز صبح سے دوپہر تک کا وقت اسی بس سٹاپ پر بیٹھ کر گزارتی تھی۔یہاں بیٹھ کر اسے تنہائی کا احساس کم ہوتا تھا۔آج بھی وہ بس سٹاپ پر بیٹھی اپنا وقت بتا رہی تھی ۔اس کی سوچ کا دھارا یک لخت پھر مڑ گیا اور وہ سوچنے لگی:

“میں وقت کو بتا رہی ہوں یا وقت مجھے بتا رہا ہے۔”

اپنی احمقانہ سوچ پر وہ خود ہی کھلکھلا کر ہنس پڑی ،اسے اپنی ہنسی کی آواز بہت ہی اجنبی سی لگی،وہ ایک دم سے سہم کر پھر اپنے خول میں بند ہوگئی۔اچانک اس نے دیکھا سامنے سڑک پار سے دو بچے اپنے والدین کا ہاتھ پکڑے خراماں خراماں چلے آرہے تھے ۔ بچے بہت ہی خوش اور پرجوش تھے، اس نے بہت حسرت سے اس خاندان کی طرف دیکھا،میاں،بیوی اور دو پیارے پیارے بچے۔ایک مکمل جنت کا نمونہ۔۔۔۔۔۔ اس کے سامنے تھا۔وہ کھوئے کھوئے انداز میں ان کو دیکھ رہی تھی ۔بچوں کا جوش و جذبہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا،ان کے بھولے ،معصوم چہرے ہلکے سے گلابی ہورہے تھے۔ان کی آنکھوں میں ایک تجسس آمیز چمک سی تھی،اسے ان کی گفت و شنید سے اندازہ ہوا کہ وہ لوگ سرکس دیکھنے جارہے تھے ۔بس آئی تو وہ باتیں کرتے اس پر سوار ہوگئے۔وہ بھی ایک معمول کی طرح ان کے پیچھے کشاں کشاں بس پر سوار ہوگئی۔بس پر بھی بچے مستقل اپنے والدین سے سرکس کی بابت سوال کرتے رہے۔ اس کو لگا جیسے کسی نے اس کے ماضی کا روزن کھول دیا ہو، اس کی آنکھیں نم سی ہوگئیں، اسے یاد آیا رومیز کو بھی تو سرکس بہت پسند تھا۔ وہ ہر سال ضد کر کے سرکس جاتا تھا۔ اس کے دل میں ایک درد کی ٹیس سی اٹھی،وہ چونک گئی ،یہ کیا؟۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو ابھی بھی زندہ تھی۔اسے اب بھی درد محسوس ہوتا تھا ۔اس نے اپنی آنکھوں پر بے یقینی سے ہاتھ پھیرا، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔اس کو اچانک ایک عجب سی خوشی محسوس ہوئی ،شاید طویل عرصے کے بعد اسے زندگی کا احساس ہوا تھا ۔ بس سرکس کے گراونڈ کے قریبی سٹاپ پر رکی،شفق بھی اس خاندان کے پیچھے پیچھے اتر گئی۔ بس سٹاپ سے گراونڈ تک کے سفر میں شفق نے دیکھا، بے شمار لوگ اپنے بچوں کو سرکس دکھانے لے کر آئے ہوئے تھے ۔شفق نے بھی کانپتے ہاتھوں سے گیٹ پر ٹکٹ خریدا اور ہجوم بے کراں کے پیچھے پیچھے سرکس میں داخل ہوگئی ۔ہر طرف مختلف تماشے ہورہے تھے ۔ایک طرف ایک شخص بانس کے ڈنڈےپیروں سے باندھے چل رہا تھا،ایک طرف ایک لڑکی اپنے منہ سے آگ کے شعلے نکال رہی تھی ۔ایک گوشے میں ٹریپیز پر جمناسٹک کے مظاہرے ایک جوڑا کر رہا تھا۔اسے ٹریپیز دیکھ کر چکر سا آگیا، اس نے اپنا دھیان دوسری طرف مبذول کیا۔ ایک کونے میں گھوڑا ناچ رہا تھا۔ہر طرف ایک چہل پہل اور گہماگہمی کا سماں تھا۔ چلتے چلتے وہ کاٹن کینڈی کے اسٹال پر رک گئی ۔اسے یاد آیا رومیز کیسے اس کا اور جبران کا ہاتھ تھامے ،شور مچاتا سرکس میں داخل ہوتا تھا۔ وہ ہر سال اتنا ہی پرجوش ہوتا تھا جیسے پہلی دفعہ سرکس دیکھ رہا ہو ۔وہ کاٹن کینڈی کھاتے ہوئے اپنی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں پھیلا کر وہ کہتا تھا:

“مما جی دیکھیں نہ،کیسے یہ لڑکی آگ اگل رہی ہے ۔”

جبران شرارت سے ہنس کر کہتا:

“رومیز! ساری لڑکیاں آگ ہی اگلتی ہیں ۔۔۔۔

اپنی مما جی سے پوچھو۔”

اس کے منہ سے اچانک نکلا:

“بس کیجئے جبران۔”

مگر اسے احساس ہوا کہ آج وہ اس سرکس میں تنہا تھی۔اس کے ساتھ آنے والے تو کب کے بچھڑ چکے تھے ۔درد کے آرے نے پھر اس کا دل چیرنا شروع کردیا،اس کی روح اپنے زندان میں چیخ پڑی۔اچانک اس کی نظر دور کرتب دکھاتے مسخرے ہر پڑی۔اسے یاد آیا کہ رومیز کو مسخرے بہت پسند تھے،وہ ہر سال سرکس میں مسخروں کے ساتھ کافی وقت بتاتا ،اس کی ہر سالگرہ پر بھی جبران مسخروں کو ضرور بلاتا تھا، وہ ایک تنویم زدہ معمول کی طرح اس جانب چل پڑی۔ مسخرے کی نظر بھی اس سے ملی تو شفق کو لگا کہ جیسے وقت رک گیا ہے ۔مسخرے کے میک اپ تلے چھپے اس شخص کو اس کی دھڑکن بخوبی جانتی تھی ۔مسخرے کی آنکھیں بہت ہی اداس تھیں ۔مسخرے نے بھی سب کچھ بھول کر اس کی جانب قدم بڑھائے۔ وہ دونوں تھوڑی دیر ایک دوسرے کے آمنے سامنے خاموشی سے جامد و ساکن کھڑے رہے پھر خاموشی سے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ایک بنچ پر بیٹھ گئے۔ شفق کو لگا جیسے وہ دونوں اس گراونڈ میں اس پل میں بالکل تنہا تھے۔اسے لگا ان کے اردگرد موجود لوگ،بچے،شور شرابا سب کچھ کہیں تحلیل ہوچکا تھا، بس ایک لامتناہی خلا باقی تھا۔صرف “مسخرا” اور “وہ” اس پل کی حقیقت تھے۔شفق نے بہت سالوں بعد اپنے کانوں میں اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز سنی۔اس نے اپنی توجہ بدلی اور دل سنبھال کر پوچھا:

“تم کیسے ہو؟”۔

مسخرے نے اداسی سے اس کی طرف دیکھا،شفق نے سوچا:۔

“کیسا یہ کھلا تضاد ہے۔۔۔۔ مسخرے کے لب مسکرا رہے ہیں مگر آنکھیں کچھ اور داستان سنا رہیں ہیں ۔”

وہ آہستگی سے بولا:

مسخرے دل بنائے جاتا ہوں۔۔۔

اب میں سب کو ہنسائے جاتا ہوں،

راگ چھیڑو نہ تم اداسی کے۔۔۔۔

شوخ نغمے سنائے جاتا ہوں،

تالی تم بھی بجا کے دیکھو نا۔۔

میں تماشا دکھائے جاتا ہوں،

مر ہی جائے گی یہ اداسی اب ۔۔۔

دیکھ میں مسکرائے جاتا ہوں،

کتنے توڑے ہیں میں نے دل صاحب۔۔۔

سوچ کر جاں سے جائے جاتا ہوں ۔

(صاحب کپور☆☆کلام )

شفق کو اس کی اداس آواز مزید اداس کر گئی۔اس نے حوصلے سے مسخرے کی آنکھوں میں جھانکا اور آہستگی سے اس کا ہاتھ پکڑا، اس کے ہاتھ بہت سرد تھے،اس نے دیکھا مسخرے کی آنکھوں میں اشکوں کی نیا ڈول رہی تھی۔شفق نے دھیرے سے کہا :

“یہ اداسی مرے گی نہیں ۔۔۔۔۔

یہ تمھارا اور میرا خراج لے کر ٹلے گی۔

خدارا جبران!۔۔۔۔۔ اپنے آپ کو “رومیز” کی خاطر ہی معاف کردو۔وہ ایک حادثہ تھا،تم نہیں جانتے تھے کہ سرکس کا وہ کرتب رومیز کی جان لے لے گا ورنہ تم اسے کبھی بھی اسٹیج پر نہ جانے دیتے۔ اپنے آپ کو اور مجھے مزید سزا مت دو،رومیز کی روح کو مزید دکھ مت دو۔”

مسخرے کے صبر و ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے ،وہ سسکتا ہوا ،بلکتا ہوااس کے گلے لگ گیا۔ شفق نے ایک مہربان ماں کی طرح اسے گلے لگا لیا،اسے معلوم تھا کہ وہ اس شام بھی نہیں رویا تھا ،جب ڈاکٹرز نے ان کے اکلوتے بیٹے کی موت کی تصدیق کی تھی ۔مسخرے کے آنسوؤں سے اس کا سارا میک اپ دھل گیا تھا۔ شفق نے اس کے چہرے کو محبت سے اپنے رومال سے پونچھا ،آج بہت عرصے بعد اس نے اپنا بچھڑا پیار پا لیا تھا۔ سرکس سے رخصت ہوتے ہوئے شفق نے مڑ کر دیکھا اس کا رومیز،اس کا اکلوتا بیٹا ٹریپیز کے نیچے کھڑا اسے ہاتھ ہلا رہا تھا ۔آن واحد میں وہ مدہم ہو کر غائب ہوگیا۔ شفق جانتی تھی کہ اب رومیز شانتی میں رہے گا۔وہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک ان دیکھی،نئی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔بہار ایک کونے پر کھڑی مسکرا رہی تھی ۔

مونا شہزاد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مرتا ہےتو مرجائے , مددکیوں کرےکوئی
  • اپنے بارے میں جانتی ہے وہ
  • زمیں کے چہرے پہ جب تلک
  • مرے نصیب پہ یہ ضرب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
05 فروری:یوم ِیکجہتی کشمیر!
پچھلی پوسٹ
آلنا

متعلقہ پوسٹس

ماہِ صفر کے متعلق ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ

ستمبر 25, 2020

فضائل صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ

جنوری 24, 2022

ججز استعفیٰ کیوں دے رہے ہیں ؟

نومبر 26, 2025

سجدہ

فروری 4, 2020

مصلحت خداوندی

نومبر 15, 2024

مکانِ دل میں کوئی بھی مکیں نہیں مرے دوست

مئی 14, 2020

پیکرِ خاک کب مکمل ہے

مئی 9, 2020

اجنبی یقین کے نام

جنوری 10, 2021

سعادت مند ترین انسان کون ہے؟

دسمبر 16, 2025

ننھے بچوں کو موبائل دیں

مارچ 4, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

محترمہ زیب النساء زیبی، نام ہے...

اگست 11, 2020

جاؤں جس سمت اِجازت ہے مجھے

جون 13, 2020

چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے...

مئی 22, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں