خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکراچی کی بحالی کا محاذ!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

کراچی کی بحالی کا محاذ!

از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2022
از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2022 0 تبصرے 55 مناظر
56

ہمیں اس تاریخ میں نہیں جانا چاہئے کہ کراچی کی زبوں حالی کا آغاز کہاں سے ہوا ہے کیونکہ جو جانتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں اور نہیں جانتے ایک تو وہ یہ سب جاننے میں اپنا وقت برباد نہیں کرنا چاہتے دوسرا یہ کہ انہیں اس بات سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا ۔ اب بات کرنے کی ابتداء وہاں سے کرتے ہیں جہاں سے کراچی سے جمہوری طرز عمل کو پچھلے دروازے سے نکال باہر کیا گیا ۔ بظاہرکراچی کا نظم ونسق مئیر کراچی چلاتے رہے جو اس بات پر آخیر تک شور مچاتے کھڑے رہے کہ ہ میں کام نہیں کرنے دیا جاتا ۔ دوسری طرف سندھ حکومت نے کبھی بھی کراچی یا سندھ کو کسی کام کے قابل سمجھا ہو ۔ ذراءع آمد و رفت کی زبوں حالی سے شروع ہونے والی یہ داستان تعلیمی اداروں اور نظام تعلیم کی تباہی سے ہوتی ہوئی شہر کی تباہی کی کہانی بن کر رہ گئی ہے ۔

ایک عرصے سے سارے شہر میں کراچی کو بچانے کیلئے مختلف سیاسی مذہبی اور سماجی تنظیموں نے بینر آویزاں کئے ہوئے ہیں ، ہر اتوار اس سلسلے میں کسی نا کسی جماعت کی احتجاجی ریلی بھی سڑکوں پر دیکھائی دیتی ہے اور اس ریلی کا چرچا ہفتہ دس دن قبل ہی مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے، ہر روز ہی کسی نا کسی جماعت کی پریس کانفرنس بھی منعقد کی جاتی ہے ۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ جیسے وہ کراچی جسے عروس البلاد یعنی روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا، غریب پرور شہر کہا جاتا تھا اور دنیا کے بہترین بڑے شہروں میں شمار کیا جاتاتھا وہ کراچی کوئی اور تھا اگر سمجھ آسکے تو یہ لکھ دیتا ہوں کہ کراچی کا اب جسم باقی ہے روح کب کی پرواز کرچکی اور جب جسم میں روح نا ہو تو جسم گدھوں کیلئے رہ جاتا ہے ۔ ہم نے بنے بنائے خوبصورت شہر کراچی کو اجڑتے دیکھا ہے ، ہم نے ان روشنیوں کے شہر کراچی کو اندھیروں میں ڈوبتے دیکھا ہے ، ہم نے نامی گرامی تعلیمی اداروں کو برباد ہوتے دیکھا ہے یوں سمجھ لیجئے کہ جس نسل نے کراچی کی باگ ڈور سنبھالنی تھی ہم نے اس نسل کو برباد وہوتے دیکھا ہے ،ہم نے آرزءوں کا قتل عام دیکھا ہے ، ہم نے جذبات کو مادیت سے بدلتے دیکھا ہے، ہم ظاہری طور پر ایسے بہت سے عوامل جانتے ہیں جن کی بدولت شہرِ کراچی کو بدحالی کی جانب باقاعدہ دھکیلا گیا ہے ۔ اہل نظر کیلئے قابل غور بات یہ ہے کہ اگرشہرِ کراچی کی بربادیوں کا سامان کرنے والے ہی اسکی زبوں حالی کا گریہ کریں گے تو معاملے کی نوعیت مزید سنگین ہونے کا یقین ہے ۔ یوں تو موجودہ حکومت پرعرصے دراز کے بعد بھروسہ کیا اور کراچی انہیں جتوایا جس کی وجہ سے ایک کراچی کمیٹی بھی تشکیل پائی اور اربوں روپے کے باقاعدہ اعلانات بھی کئے گئے لیکن کراچی کا زخم ناسور کی صورت میں بدلتا ہی چلا جارہا ہے ۔ ہم کسی محبِ وطن کی نیت پر شک بھی نہیں کرسکتے کیونکہ ذراءع ابلاغ پر بڑی بڑی شخصیات کو کراچی کیلئے باقاعدہ آنسو بہاتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے ۔

پاکستان کی ایک نامی گرامی سیاسی و مذہبی جماعت ، جماعتِ اسلامی جو باقاعدہ کراچی کیلئے اپنی حیثیت میں بھرپور آواز اٹھاتی رہی ہے مختلف اوقات میں جہاں جب کوئی اجتماعی مسلۃ درپیش ہوا ہے ہر اول دستے کی طرح احتجاج کیلئے نکل کھڑ ے ہوئے ہیں ، یہاں جماعتِ اسلامی کو یہ اعزاز دینا پڑے گا کہ انہوں میں ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت کے غلط اقدامات و فیصلوں کی بھرپور مخالفت کی ہے اور کرتے چلے آرہے ہیں ۔ جیسا کہ گزشتہ تقریباً پندرہ روز سے کراچی کے حق کیلئے شدید سردی کے موسم میں دھرنا دئے بیٹھے ہیں ۔ ہمارے ساتھ ایک بڑا مسلۃ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی جماعت کسی ایسے مسلئے پر جس کے لئے تقریباً تمام ہی جماعتوں کو اپنا اپنا احتجاج واضح کرنا ہوتا ہے وہ ایک ایک کرکے ایسا کرتے ہیں گویا ہم گورا سرکار کے اس فارمولے پر مکمل صادق آتے ہیں کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو ۔ اگر ساری سیاسی جماعتیں عوامی مفاد میں ایک ہوجائیں کہ جن کی بنا پر آپ کا سیاسی کاروبار روادواں ہوتا ہے ۔ جماعتِ اسلامی کے دھرنے میں مختلف سیاسی و سماجی جماعتیں وقتاً فوقتا ًشرکت کر رہی ہیں اوریکجہتی کا ثبوت دے رہی ہیں لیکن یہ باقاعدہ انکے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ اس دھرنے کی کامیابی کا سہرا جماعت اسلامی کے سر بندھا جائے گا اور انکا ساتھ دینے والوں کو کچھ بھی نہیں ملے گا اور عوام بھی اس کامیابی کا ذمہ دار جماعت اسلامی کو ٹہرائینگے اور اسکے بدلے میں انہیں ووٹ بھی د ے دینگے جو کہ دیگر سیاسی اکابرین کیلئے قطعی نا قابل قبول ہے ۔ اس سے یہ تو واضح ہوجاتا ہے کہ کسی کی جذباتی وابستگی نہیں ہے ، تقریباً سب کا مفاد مادیت پر مبنی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف نے ۸۱۰۲ کے انتخابات میں بلخصوص کراچی سے کسی حد تک کامیابی حاصل کی تھی اورتبدیلی کا دعوی بھی کیا تھا لیکن صوبائی خودمختاری یقینا ان کے درمیان حائل ہوگئی ہوگی ۔ اسکے باوجود پاکستان تحریک انصاف نے اپنی حکومت کے تیسرے سال میں کراچی کو ایک دیرینہ انتظار سے نجات دلائی اور گرین لائن بس سروس کا افتتاح ہوگیا ہے اور کسی حد تک کامیابی سے یہ بسیں اپنی بنائی گئی مخصوص سڑکوں پر رواں دواں ہیں ۔ جب آپ کو تکلیف ہواور اس وقت آپ کو دوا میسر نا ہو تو پھر دوا کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوپاتا ایسا ہی کچھ کراچی والوں کے ساتھ ہوتا جا رہا ہے ۔ جب برساتوں میں نالوں نے تباہی مچادی لوگوں کے گھروں کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑا ایسی حالت کا بھی عینی شاہد ہوں کہ پکے گھروں میں رہنے والے اپنے بچوں کو لے کر بارش میں پناہ کی تلاش میں گھوم رہے تھے ۔ عادت ہوگئی ہے کہ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں گاڑیوں کو سڑک پر ہونے والے گڑہوں سے تو نقصان ہوتا ہی ہے لیکن ساتھ سواری کے ساتھ کیا کچھ ہوتا ہے اس کا اندازہ ہر وہ فرد جانتا ہے جو ان سڑکوں پر صبح و شام اپنے رزق کے حصول کیلئے رواں دواں ہے ، کچھ عرصے کے بعد احسان کی صورت میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی مرمت کروا دی جاتی ہے ، ہونے والی مرمت پر آنے والے خرچے سے کہیں زیادہ خرچا اس کی مشہوری کیلئے خرچ کردیا جاتاہے ۔ یہ عرصہ دراز سے ہورہا ہے فرق اتنا پڑا ہے کہ پہلے مرمت پر خرچہ زیادہ ہوتا تھا اور اب خرچہ ذاتی مرمت پر زیادہ ہوتا ہے ۔

کراچی کی مکمل بحالی کیلئے کچھ انتہائی اہم اقدامات اٹھانے پڑینگے ، جس کے لئے سب سے پہلے وفاق ایک غیر منتخب شدہ نمائندوں پر مبنی کراچی کی معروف سماجی و ادبی شخصیات پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے اور اس کمیٹی کیلئے اداروں کی بھرپور معاونت کو یقینی بنایا جائے غیر ذمہ دارانہ رویوں کے محتمل ہونے والے افراد کو فوری سزاوار ٹھرایا جائے ۔ کسی بھی کام میں کسی بھی قسم کی دخل اندازی کو عوام کے سامنے رکھا جائے ، کمیٹی کے اجلاس اور ملاقاتوں کو عام کیا جائے ۔ وفاق اور صوبائی حکومت عملی کاموں کو بغیر کسی تردد کے سلسلہ وار ہنگامی بنیادوں پرکرنے کی ذمہ دار ہونگی ۔ سب سے اول ان ناگزیر کاموں کی فہرست مرتب دی جائے جن کی وجہ سے شہر کی بدصورتی میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا ہے اور شہریوں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے ۔ مثال کے طور پر نکاسی آب (سیورج) کا مسلۃ انتہائی ہنگامی بنیادوں پر حل ہونا چاہئے اور اس بات کو بھی یقینی بنانا ارباب اختیار کی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ کام پائیدار ہونا چاہئے اور ٹھیکے دار طے شدہ معینہ مدت کی ضمانت دے ۔ درسگاہوں میں موجود ایسے کارندوں کی نشاندہی کیلئے جو نظام تعلیم کو تبا ہ وبرباد کرنے پر معمور کئے گئے ہیں اندر سے ہی طالب علم تعینات کئے جائیں ۔ پھرذراءع آمد و رفت کے معاملات کو لیا جائے جس میں سب سے پہلے طے شدہ عمر سے کم کسی بھی فرد کو کسی بھی قسم کی گاڑی چلانے کی سخت پابندی ہونی چاہئے ۔

اس وقت کراچی سے محبت کا تقاضا ہے کہ جماعت اسلامی کراچی کے بحالی محاذ پر جم کربیٹھ تو گئی ہے لیکن اس محاذ کو غیر جماعتی سطح پر اٹھائے تاکہ دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کراچی کے شہری اس حماءت کیلئے باہر نکلیں ۔ وقت کا اولین تقاضا ہے کہ جماعت اسلامی کراچی کی نمائندہ جماعتوں کو باقاعدہ شمولیت کی دعوت دیں بھول جائیں کیا ہوتا رہا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم کب تک کراچی بلکہ پاکستان کو ذاتی مفادات کی سیاست کی بھینٹ چڑھاتے رہینگے ۔ آئیں مل جل کر کراچی کی روشنیوں کا بحال کریں آئیں مل جل کر پاکستان کے جھنڈے کے نیچے بیٹھ کر کراچی کی بحالی کا محاذ سجائیں تاکہ وہ تمام عوامل جو انفرادی جماعت سے قطعی خوفزدہ نہیں ہوتے اجتماعیت سے ان کے اعوان کے پائے ہل جائینگے انہیں گھٹنے ٹیکنے پڑینگے اور انہیں من مانے قوانین قلعدم قرار دینے پڑینگے ۔ فیصلہ ہم نے ہی کرنا ورنہ ہماری تباہی کا فیصلہ تو ہو ہی چکا ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟
  • ترے دئیے کی تھی باتی
  • پاکستانی نوجوان
  • تین میں، نہ تیرہ میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایک خطرناک بیماری
پچھلی پوسٹ
ہماری تباہی وپسماندگی اور اس کا حل!

متعلقہ پوسٹس

ناگزیر

جون 15, 2020

عشق کی مسافتیں

فروری 2, 2020

سب چراغوں کی ہدایات کا مطلب سمجھے

ستمبر 14, 2025

پاکستانی میڈیا

ستمبر 27, 2025

جگرنرخ کے ٹکڑے

دسمبر 30, 2013

حضور ﷺ کے عورتوں پر احسانات

مئی 11, 2024

دل نوں وڈا کر نئیں جاندی

اکتوبر 12, 2025

پردیس کا شہر

مارچ 6, 2023

مجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر

دسمبر 5, 2025

پتّھروں میں گُلاب دیکھتا ہوں

جنوری 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • خوش مزاجی اور حضور ﷺ

    جون 22, 2026
  • شہباز خواجہ شاعری

    جون 22, 2026
  • ماتم

    جون 22, 2026
  • ہجر

    جون 22, 2026
  • جستجو

    جون 22, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

شہباز خواجہ شاعری

جون 22, 2026

ماتم

جون 22, 2026

ہجر

جون 22, 2026

جستجو

جون 22, 2026

واپسی

جون 22, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

21 شہادتیں اور ایک قوم کی آنکھوں میں...

جون 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • خوش مزاجی اور حضور ﷺ

    جون 22, 2026
  • شہباز خواجہ شاعری

    جون 22, 2026
  • ماتم

    جون 22, 2026
  • ہجر

    جون 22, 2026
  • جستجو

    جون 22, 2026
  • واپسی

    جون 22, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!

اکتوبر 2, 2020

خوابِ ابری

دسمبر 1, 2024

حضرت یسع علیہ السلام

مئی 21, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں