خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی کا بل
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمدصدیق پرہار

پاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی کا بل

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 24, 2021
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 24, 2021 0 تبصرے 53 مناظر
54

پاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی کا بل

مذہبی جبری تبدیلی کی روک تھام کے نام پر پاکستان میں ایک بل بنایاگیاہے ۔ جسے پڑھ کرمعلوم ہوتا ہے کہ اگرخدانخواستہ اس بل کوقانون بنادیاگیا تو اسلام قبول کرنے پرپاکستان میں پابندی لگ جائے گی اوراسلام کی تبلیغ کرنے والے مجرم ٹھہریں گے ۔ اگراس بل کوقانون بناکر لاگوکیاجاتاہے توایک توکوئی بھی ۸۱ سال سے کم عمراسلام قبول نہیں کرسکے گا دوسرا اٹھارہ سال سے بڑا کوئی بھی شخص آسانی سے اسلام قبول نہیں کرسکے گاکہ اس کے لیے کچھ ایسی سخت شرائط لگادی گئی ہیں کہ اسلام قبول کرناناممکن نہیں تومشکل ضرورہوجائے گا ۔

علامہ اشرف آصف جلالی نے قبول اسلام سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ اگرکوئی بچہ پانچ سال کاہے دس سال کاہے ۵۱ سال کاہے وہ اسلام قبول کرناچاہتاہے ۔ توہمارے ملک میں یہ قانون بنایاجارہاہے کہ والدین اس کے جوہندوہیں ،سکھ ہیں یاکرسچن ہیں ان کوحق ہے کہ اپنے بچے کوروک دیں ۔ اگرشراب پیتاہے تونہیں روک سکتے، زناکرتاہے تونہیں روک سکتے ۔ اگراسلام قبول کرتاہے توپھراس کوروک سکتے ہیں ۔ اور۸۱ سال کے بعدبھی باقاعدہ ایسا موقع دیاجائے گاکہ وہ اپنے بچے کوواپس لاناچاہتے ہیں تواسے مجبورکرکے اپنے مذہب پرلے آئیں ۔ جس سٹیٹ نے اسلام کوتحفظ دیناتھا اس کے اندراسلام غریب الوطن ہے ۔

سینئر تجزیہ نگارانصارعباسی لکھتے ہیں کہ بل کے مطابق کوئی بھی غیرمسلم جوبچہ نہیں ہے (۸۱ سال سے زائدعمروالاشخص) اوردوسرے مذہب میں تبدیل ہونے کے قابل اورآمادہ ہے اس علاقہ کے ایڈیشنل سیشن جج سے تبدیلیء مذہب کے سر ٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے گا جہاں عام طورپرغیرمسلم کافررہتاہے یا اپناکاروبارکرتاہے ۔ ایڈیشنل سیشن جج مذہب کی تبدیلی کے لیے درخواست موصول ہونے کے سات دن کے اندرانٹرویو کی تاریخ مقررکرے گا ۔ فراہم کردہ تاریخ پر فرد، ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے پیش ہوگا ۔ جواس بات کویقینی بنائے گا کہ مذہب کی تبدیلی کسی دباءو کے تحت نہیں اورنہ ہی کسی دھوکہ دہی یاغلط بیانی کی وجہ سے ہے ۔ ایڈیشنل سیشن جج غیرمسلم کی درخواست پراس شخص کے مذہبی سکالرزسے ملاقات کا انتظام کرے گا جومذہب وہ تبدیل کرناچاہتاہے ۔ ایڈیشنل سیشن جج مذاہب کاتقابلی مطالعہ کرنے اورایڈیشنل سیشن جج کے دفترواپس آنے کے لیے غیرمسلم کو۰۹دن کاوقت دے سکتاہے ۔ ایڈیشنل سیشن جج اس بات کویقینی بنانے کے بعد کہ یہ شرائط پوری ہوجائیں ،مذہب کی تبدیلی کاسر ٹیفیکیٹ جاری کرے گا ۔ جبری مذہب کی تبدیلی میں ملوث فرد کوکم ازکم پانچ سال اورزیادہ سے زیادہ دس سال تک قیدکی سزا اور جرمانہ ہوگا ۔ مذہب کی تبدیلی کے لیے مجرمانہ قوت کا استعمال اس شخص کے خاندان ،عزیز،برادری یاجائیدادکے خلاف ہوسکتاہے ۔ جوشخص (شادی) انجام دیتاہے ۔ کرتاہے، ہدایت دیتاہے یاکسی بھی طرح سے شادی میں سہولت فراہم کرتاہے ،اس بات کاعلم رکھتے ہوئے کہ یاتودونوں فریق جبری تبدیلی کے شکارہیں وہ کم ازکم تین سال قیدیاتفصیل کے مجرم ہوں گے ۔ اس میں کوئی بھی شخص شامل ہوگا جس نے شادی کی تقریب کے لیے لاجسٹک سپورٹ اورکوئی دوسری خدمات وغیرہ فراہم ہوں گی ۔ کسی بھی شخص کے بارے میں یہ نہیں سمجھاجائے گا جب تک کہ وہ شخص بالغ (۸۱سال یا اس سے بڑا) نہ ہو جائے ۔ جوبچہ بلوغت کی عمرکوپہنچنے سے پہلے اپنے مذہب کوتبدیل کرنے کادعویٰ کرتاہے اس کامذہب کاتبدیل نہیں سمجھاجائے گا اورنہ ہی اس کے خلاف اس قسم کے دعویٰ کرنے پرکوئی کارروائی کی جائے گی ۔ اگرچہ کچھ بھی ان حالات پرقابل اطلاق نہ ہوگا جہاں بچے کے والدین یاسرپرست خاندان کامذہب تبدیل کرنے کافیصلہ کریں ۔ عدالت کی جانب سے جبری تبدیلی کامعاملہ نوے دن کی مدت کے اندرنمٹادیاجائے گا اورعدالت کسی مقدمے کی سماعت کے دوران دو سے زیادہ التواء نہیں دے گی ۔ جن میں سے ایک التواء التواء کے خواہاں شخص کے اخراجات کی ادائیگی پرہوگا ۔ اس بل کے تحت کسی جرم کی سزایابریت کے خلاف اپیل متعلقہ ہائی کورٹ کے سامنے اس تاریخ سے دس دن کے اندر پیش کی جائے گی جس دن کورٹ آف سیشن کے منظورکردہ حکم کی کاپی اپیل کنندہ کوفراہم کی جائے گی ۔ جبری تبدیلی کے حوالے سے تحقیقات پو،لیس سپرنٹنڈنٹ کے درجے سے نیچے کاکوئی بھی پولیس افسرنہیں کرے گا ۔

تحریک عظمت آل واصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیراہتمام ہنگامی اجلاس تحریک کے سرپرست اعلیٰ سجادہ نشین پیرسیدمنور حسین جماعتی کی زیر صدارت ہوا ۔ جس میں انسدادجبری تبدیلی مذہب بل کویکسرمستردکرتے ہوئے متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہاگیا کہ یہ بل مکمل طورپرغیراسلامی، غیرآئینی اوربنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورشریعت سے متصادم ہے ۔ اٹھارہ سال کی عمرسے پہلے اسلام لانے پرپابندی عائدنہیں کی جاسکتی ۔ پیرسیدمنورحسین جماعتی کاکہناتھا کہ اس بل کے ذریعے غیرملکی آقاءوں کوخوش کرنامقصود ہے ۔ تمام غیرآئینی ہتھکنڈے اوراسلام سے متصادم قانون سازی نہیں ہونے دیں گے ۔ حکومت ایسی قانون سازی سے بازرہے ۔ مفتی محمداقبال چشتی نے کہا کہ پاکستان میں اسلام قبول کرنے کوجرم بنانے کے لیے قانون سازی پرکام شرمناک عمل ہے ۔ ڈاکٹرمفتی عبدالکریم، مفتی محمدفیصل عباس جماعتی اورمفتی محمدضیاء الحسنین صدیقی نے کہا کہ خداراحکمران ہوش کے ناخن لیں ۔

پیراجمل رضاقادری کہتے ہیں کہ حضرت مولاعلی شیرخدانے چھوٹی عمر میں کلمہ پڑھ لیاتھا ۔ آپ کس طرح کے قانون لے کرآرہے ہیں ۔ آپ توریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں ۔ آپ کوتوچاہیے تھا کہ ایسے قانون لے کے آتے کہ زیادہ سے زیادہ کافرمسلمان کیسے ہوسکتے ہیں اورآپ کیا اپنے منہ پرسیاہی ملنے جا رہے ہیں ۔ سوچیں ، غورکریں یہ جووطن اسلام ہے اس کے توہرفردکومبلغ اسلام بنانا آپ کی ذمہ داری ہونی چاہیے تھی ۔ اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے ۔ اتناہی ابھرے گاجتناکہ دبادوگے ۔ یہ دین غلبے کے لیے دنیا میں آیاہے ۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے مذہب کی جبری تبدیلی سے متعلق وفاقی وزارت انسانی حقوق کے مسودہ بل میں شریعت سے متصادم متعدد شقوں کی موجودگی کا انکشاف کیاہے ۔ وزارت حقوق انسانی نے اقلیتوں کی جانب سے مذہب کی جبری تبدیلی سے بچانے کے لیے دی گئی سفارشات کوتحفظ اقلیت بل ۱۲۰۲ء میں شامل کیاہے ۔ اس سلسلے میں تشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی کے اراکین، لال چند، جے پرکاش اوررمیش کمارنے مذہب کی جبری تبدیلی روکنے کے لیے قانون سازی کامطالبہ کررکھاتھا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس مسودہ قانون کی مختلف شقوں کاجائزہ لیاہے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے مسودہ قانون کی شقوں پرایک عبوری رپورٹ مرتب کی ہے ۔ کونسل نے عمرکی حداورتبدیلی مذہب کے طریقہ کارپراعتراض واردکیے ہیں ۔ مسودہ میں کہاگیاہے کہ ۸۱ برس سے کم عمرکاکوئی فرداسلام قبول نہیں کرسکتا، بل میں کہاگیاہے کہ مذہب تبدیل کرنے کے خواہش مندفردکے لیے مخصوص طریقہ کاردرج ہے ۔ قانونی شرائط کے تحت کسی شخص کوکسی دوسرے مذہب میں داخل ہونے کے لیے عدالت سے سر ٹیفکیٹ حاصل کرناہوگا ۔ اس سے پہلے تبدیلی مذہب کے آرزومندکومذہبی کتابیں پڑھنا اورعلماء کرام کے ساتھ نشست کرناہوگی ۔ تبدیلی مذہب کی درخواست دینے کے ۰۹ روزبعدتبدیلی مذہب کاسر ٹیفکیٹ جاری کیاجائے گا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کاکہناہے کہ جب کوئی شخص اسلام قبول کرتاہے تواس پرفوری طورپرشرعی احکام نافذ ہوجاتے ہیں اوراس سلسلے میں کوئی تاخیرمناسب نہیں ۔ اسی طرح ریاست کاعقیدہ یہ ہے کہ پاکستان میں مذہب کی جبری تبدیلی کی اجازت نہیں لیکن اس مجوزہ بل سے تاثرملتاہے کہ پاکستان میں جبری طورپرمذہب تبدیل کرایاجاتاہے جس کی روک تھام کے لیے یہ قانون بنانے کی کوشش ہورہی ہے ۔ مذہب کی جبری تبدیلی پاکستان کے قانون کے تحت پہلے سے جرم ہے ۔ تبدیلی مذہب کی پرنورمثالیں خود عہدرسالت مآب میں موجود ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ نے سات سال کی عمر میں اسلام قبول کیا ۔ ان کی طرح بہت سے عرب خاندان تھے جن کے کم سن بچوں نے بھی آزادانہ طورپراسلام قبول کیا ۔ پاکستان کاقیام ایک جدیدمسلم سماج کی تشکیل کی غرض سے عمل میں آیا ۔ پاکستان کے آئین کے آغاز میں یاددہانی موجودہے کہ مملکت خدادادپاکستان میں کوئی ایساقانون اورضابطہ تشکیل نہیں دیاجاسکتا جوقرآن وسنت کی تعلیمات کے خلاف ہو ۔ اس سلسلے میں چند چیلنج جدیدبین الاقوامی نظام کی وجہ سے کی وجہ سے سامنے آئے ۔ امریکی سرکردگی میں دنیاکومہذب بنانے کے لیے انسانی حقوق کاجوبین الاقوامی چارٹرترتیب پایا اس میں فردکی ذاتی آزادی کواس قدراہمیت دی گئی کہ سماج کی اجتماعیت اورریاست کے مفادت تک قربان کردیے گئے ۔ مغربی معاشرے ہم جنس پرستی اوربرہنہ رہنے کاحق اسی بین الاقوامی چارٹرکے تحت تسلیم کررہے ہیں ۔ مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے نظام کے مقابل اسلام اورکمیونزم نے اپنی حیثیت منوائی ۔ کمیونزم میں فردکچھ نہیں ،سب کچھ ریاست ہے ۔ اسلام نے فردکوجان کے تحفظ،حق زندگی، حق اظہاررائے کے ساتھ مذہبی آزادی بھی دی ۔ بھارت میں انتہا پسندہندو مسلمانوں اوردیگراقلیتی برادریوں کے ساتھ جس جبرکامظاہرہ کررہے ہیں اس کی مذمت پوری دنیاکررہی ہے ۔ لیکن بھارت اس طرح کے قوانین کو اہمیت نہیں دے رہا ۔ ہمارامسئلہ یہ ہے کہ حکومتوں میں ایسے گروہوں کا اثرورسوخ پراسرارطورپربڑھ جاتاہے جواقلیتوں کے تحفظ کے نام پرسماجی انتشارکی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں ۔ پاکستان کاسماج دینی اقدارپرایمان رکھنے والوں پرمشتمل ہے ۔ گنتی کے لوگ بیرونی فنڈزاورمفادات کی خاطربے سروپامعاملات کوسنگین بناکرپیش کرتے ہیں ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان پاکستان کوریاست مدینہ بنانے کی تکرارکرتے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے قانون سازی کے لیے جو مسودات تیارہوتے ہیں ان میں وقفے وقفے سے شرانگیزموادشامل کردیاجاتاہے جس سے بڑے پیمانے پراحتجاج ہڑتال اورہنگاموں کاخطرہ ہوتاہے ۔ اسلامی تعلیمات جبرکی نفی کرتی ہیں ۔ اسی لیے ایسے معاملات کی گرفت ہوتی ہے ۔ اب کسی خاص گروہ یالابی کے دباءو میں قرآن وسنت کے منافی شقوں پرمشتمل مسودہ قانون تیارکرنے کامقصداس کے سواکیاہوسکتاہے کہ بیرونی محاذپرکامیابیاں سمیٹتے پاکستان کوداخلی انتشارکی نذرکردیاجائے ۔

اگراس مجوزہ بل کوقانون بناکرنافذ کیاجاتاہے تواسے علماء کرام اورمبلغین اسلام کے خلاف بھی استعمال کیاجاسکتاہے ۔ چندغیرمسلم کی آل رسول، کسی عالم دین کے پاس جائیں گے اوراپنی مرضی سے اسلام قبول کرلیں گے بعد میں شورمچادیں گے کہ ہ میں جبری مذہب تبدیل کرایاگیاہے ۔ بل کے مطابق مذہب کی تبلیغ کرنے والامجرم ہے ۔ اگرکوئی غیرمسلم کسی عالم دین کاخطاب سن کریاکوئی اسلامی مضمون ،کتاب پڑھ کرمسلمان ہونے کی خواہش کا اظہارکرتاہے بعد میں وہ اپنا ارادہ تبدیل کرلیتاہے توتقریرکرنے والا اورکتاب،مضمون لکھنے والامجرم ٹھہریں گے ۔ مذہب تبدیل کرنے کے خواہش مندشخص سے اس کے مذہبی سکالرسے ملاقات کرانے کامقصداس کے سوا اورکیاہوسکتاہے کہ اسے اسلام قبول کرنے سے روکاجائے ۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ میں درست ہی کہاگیاہے کہ اس بل کوتیارکرنے کامقصد پاکستان کوداخلی انتشارکاشکارکرنے کے سوا اورکوئی نہیں ہو سکتا ۔ پاکستان میں کبھی توہین رسالت کے قانون پراعتراض ہوتا ہے اوراس کے غلط استعمال کاپروپیگنڈہ کیاجاتاہے اوراس قانون میں ترمیم کرانے کی کوششیں کی جاتی ہیں ۔ کبھی اراکین اسمبلی کے حلف نامہ میں تبدیلی کی کوشش کرکے مسلمانوں کے ختم نبوت کے عقیدہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ کبھی کسی بھی غیر مسلم کے اسلام قبول کرنے پرمذہب کی جبری تبدیلی کاشورمچایاجاتاہے ۔ کبھی پاکستان میں اقلیتوں کے غیرمحفوظ ہونے اوران پرظلم ہونے کاپروپیگنڈہ کیا جاتا ہے ۔ یہ سب پروپیگنڈے اورسب کوششیں پاکستان کوداخلی انتشارکی نذرکرنے کے لیے ہیں ۔ ریاست مدینہ کے داعی وزیراعظم عمران خان کومذہب کی جبری تبدیلی کی روک تھام(پاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی) کے بل کے پراسس کوفوری طورپررکوادیناچاہیے ۔ ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے کرملک کو مسلسل انتشارکی نذرکرنے کی کوشش کرنے والوں کوبے نقاب کریں اورایسے سازشیوں کوایسی عبرت ناک سزائیں دلائیں کہ آج کے بعد کوئی بھی ایساکرنے کاسوچ بھی نہ سکے ۔ ملک میں امن وسلامتی کے قیام کے لیے ایساکرناضروری ہے ۔

پاکستان میں تمام مسالک کے علماء کرام کوصدرمملکت جناب عارف علوی سے ملاقات کرکے انہیں مذہب کی جبری تبدیلی کی روک تھام کے بل کی سنگینی سے آگاہ کرناچاہیے اورانہیں ملک کواس سنگین صورت حال سے بچانے کے لیے ان کامنصبی، مذہبی، قومی اوراخلاقی کرداراداکرنے کی درخواست کرنی چاہیے ۔

 

محمدصدیق پرہار

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میرِ وجود
  • تماشا
  • کوئی فرق نہیں پڑتا
  • عدم ذات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نیوز ی لینڈ کا دورہ منسوخ ہوگیا مگر!
پچھلی پوسٹ
دھاگا بولتا ہے

متعلقہ پوسٹس

جو دل سے اُکھڑی وہیں بعد میں رکھی گئی تھی

جنوری 29, 2020

ہائی وے مَین اور آبشاروں کی ملکہ

اپریل 23, 2020

سکول جانے کی عمر ہے

نومبر 14, 2021

طارق عزیز سے ڈاکٹر عامر لیاقت تک

اگست 30, 2020

ایک سچی حقیقت

ستمبر 13, 2025

لباسِ شب سا بدن

جنوری 10, 2025

درد بے لگام ہو گئے

دسمبر 11, 2022

شجرِ ثمر بار، فرہاد احمد فگار

جولائی 31, 2022

زمیں بھی ہاتھ سے گئی ، گرا ہے آسمان یوں

مئی 19, 2020

شعر وشاعری کیا ہے

جون 26, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حد کے اس پار

نومبر 7, 2019

قادرا قصائی

جنوری 19, 2020

شہری سہولیات پر حملے

ستمبر 23, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں