خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابسکٹ،دودھ اور موٹر وے
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرروبینہ فیصل

بسکٹ،دودھ اور موٹر وے

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 25, 2020
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 25, 2020 0 تبصرے 29 مناظر
30

بسکٹ،دودھ اور موٹر وے

شاہینہ شاہین بلوچ کا کوئی بھائی نہیں تھا۔وہ پانچ بہنیں ہی تھیں ورنہ وہ اسے گھر میں ہی بتا دیتا کہ فائن آرٹس میں ایم اے نہ کر واور اگر وہ پھر بھی کر رہی تھی تو اتنی حوصلہ شکنی کرتا کہ وہ کم از کم گولڈ میڈل تو نہ لیتی۔۔ گولڈ میڈل لے لیا تو تصویروں کی نمائش میں اپنی تصویریں نہ رکھ پاتی او ر پھر اس سے بھی بڑھ کر پی ٹی وی کے مارننگ شو کی ہو سٹ کبھی نہ بنتی۔ اور اگر وہ یہ سب کسی بھائی کی موجودگی میں کر بھی پاتی تو باغی کہلائی جاتی۔ لیکن اس کی خوش قسمتی یا بدقسمتی کہ اس کی ماں اور بہنیں ہی تھیں جو اس کے ساتھ تھیں لہذا اس نے ان کی تصویر پینٹ کی اور آگے خار دار تاریں لگا کر وہ، جذباتی طور پر قید تمام عورتوں کو یہ پیغام دیا کہ مشکلیں تو ہیں مگر ان سے ٹکرا کر آگے بڑھنے کا نام ہی زندگی ہے۔ مصائب سے گھبرا کر شکست تسلیم کر نا موت ہے اور پھر اس جرم میں اسے سچ مچ کی موت دے دی گئی۔ شاہینہ بلوچ جو کہ ایک صحافی، سوشل ورکر اور آرٹسٹ تھی اسے قتل کر دیا گیا۔ میرے نزدیک وہ ایک شہید ہے جس کی جان ایک جنگ لڑتے ہو ئے گئی اور وہ جنگ تھی عورتوں کی ذہنی آزادی کی جنگ۔کاش شاہینہ کا کوئی بھائی ہو تا جو اسے پہلے سے ہی قید کر دیتا تو وہ آج زندہ ہو تی کیونکہ ہمارے سی سی پی او لاہور عمر شیخ اس واقعہ پر بیان دیتے تو یہی کہتے۔۔
اسی تسلسل میں دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ کر اچی کی ننھی منی پانچ سالہ ماروا، بسکٹ لینے دکان تک نہ جاتی تو ریپ نہ ہو تی، اور شائید وہ ہنستی مسکراتی جا رہی تھی اور اس کا فراک بھی یقینیناگھٹنوں سے اوپر ہو گا اور سر کے بال بھی کھلے ہو نگے اور ترغیب دے رہے ہو نگے توکوئی بھی للچا سکتا تھا اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اس بچی کو ہنسنے کھیلنے اور چھوٹے چھوٹے کپڑے پہننے کے جرم میں ہوس کا نشانہ بنا کر، جلا نا، کسی بھی مشرقی غیور مرد کا پہلا حق ہو سکتا ہے سو اس نے وہی حق استعمال کیا۔
انڈیا کے دارلحکومت دلی میں ایک 86سالہ عورت کو ایک تیس سال کا لڑکا ریپ کر دیتا ہے۔جو زیادتی کے دوران چیخ چیخ کر منت سماجت کر تے ہو ئے اس درندے کو بتاتی رہیں کہ میں دادی ہوں،تم میرے پو تے کی عمر کے ہو گے۔ تفصیل کے مطابق یہ خاتون، گھر کے باہر دودھ والے کا انتطار کر رہی تھیں۔وہاں ایک درندہ آ پہنچا اور اس نے کہا آج گوالا نہیں آئے گا، آئیں میں آپ کو وہاں لے جاؤں جہاں سے آپ کو دودھ ملے گا اور بوڑھی عورت جو اپنی طرف سے اپنی تمام عمر گزار چکی تھیں اس کے ساتھ اعتماد سے چل پڑیں اور وہ انہیں ایک ویرانے میں لے گیا اور پھر۔۔۔
اس بوڑھی عورت کے پاس، اس تیس سال کے مرد کو للچانے کے لئے کیا بچا ہو گا؟ عمر شیخ صاحب اس پر بیان دیتے تو کیا کہتے؟ وہ بوڑھی عورت کیا کر تی یا کیا نہ کر تی تو بچ پاتی؟
موٹر وے پر ہونے والے گینگ ریپ پر عمر شیخ کا بیان، ایک سی سی پی او کا بیان نہیں ہے بلکہ یہ بیان برصغیر کے پو رے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ اور میں نے عمر شیخ کا نام لے کر جو کچھ اوپر لکھا ہے، وہ طنز نہیں ہے، وہ حقیقت ہے۔عمر شیخ نے وہی کہا جو یہ معاشرہ کہتا ہے۔ اس میں پلنے والی عورتوں کے کندھوں پر اپنی عزت بچانے کی ذمہ داری تو ہو تی ہی ہے مگر” پاؤں کی اس جوتی” کے سر پر پورے خاندان کی عزت کا بوجھ بھی ہو تا ہے۔ ایک پانچ سال کی بچی کا ریپ ہو یا ایک ۶۸ سالہ بڑھیا کا۔۔قصور اس کا ہی نکلتا ہے۔
عمر شیخ کا بیان، حقیقت میں برصغیر کی پو ری نفسیات کا آئینہ دار ہے۔ اس پر سیخ پا ہونے سے پہلے گور تو کریں ہم کیسے معاشرے میں رہ رہے ہیں؟ جہاں مائیں خود بیٹوں کو بیٹیوں کو مارنے پیٹنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
آزادی حقوق ِ نسواں میں ہم سے کئی سال آگے مغربی ممالک بھی آج تک اس بحث میں الجھے ہو ئے ہیں کہ ریپ کیسز میں عورتوں کے اشتعال انگیز کپڑے یا اداؤں کا کتنا حصہ ہو تا ہے؟ اس پر بحث کی گنجائش ہو گی مگر بوڑھی عورتوں اور معصوم بچوں کا ریپ، ذہنی مر ض کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
انسان جب جنگل میں جا تا ہے تو یا تو ذہنی طور پر تیا ر رہے کہ درندے اسے چیر پھاڑ دیں گے اور یا اپنے دفاع کا مکمل انتظام کر کے جائیں۔ مچھروں سے بچاؤ کے لئے بھی پورے کپڑے اور ریپلینٹس لگائے جاتے ہیں یہ تو انسان ہیں جس کے اندر کا درندہ بھی دماغ ہو نے کی وجہ سے اشرف المخلوقات ہی ہو گا۔جب تک ان درندوں کو مکمل طور پر ٹرینڈ(تعلیم و تربیت کے ذریعے باشعور بنانا) نہیں کر لیا جاتا، یا مار نہیں دیا جا تا، یا سلاخوں کے پیچھے، نشان ِ عبرت بنا کر بٹھا نہیں دیا جاتا۔ عورتیں اپنا اور اپنے بچوں کا دفاع ایسے ہی کریں جیسے جنگل میں وحشی درندوں کے درمیان ہیں۔جہاں چیر پھاڑ کر نے والے درندے سے لے کر خون چوسنے، کان میں بھنبھانے والے مچھر تک سب دندناتے پھر رہے ہیں۔۔
انسانی حقوق یا عورتوں کے حقوق کی تنظیموں کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ کسی ایک واقعے پر چند دن الٹا سیدھا شور مچا دینے سے یا مظلوم کے کیس کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کر کے وہ مظلوم کا بھلا نہیں کر رہے بلکہ ظالموں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔آزادی آزادی کا نعرہ ٹھیک سہی مگر اس سے پہلے کر نے کو بہت کچھ ہے۔ معاشرے میں اجتماعی شعور نہ آیا تو اس طرح کے خالی شور شرابے سے یہ واقعات کم نہیں بلکہ اورزیادہ ہو نگے۔ دونوں طرف کے شدت پسندوں کے ناجائز پر وپگنڈے سے معصوم بچیاں اور کمزور عورتیں ماری جارہی ہیں اور ایسا ہی وہ تا رہا تو اور ماری جا ئیں گی۔۔ عورت کی ذہنی آزادی اور مرد کی سوچ کو بدلنے کے لئے،ماچس کی ضرورت نہیں جو، ان نام نہاد عورتوں کے حقوق کی آواز اٹھانے والے عناصر اٹھائے پھرتے ہیں،اور جو آگ بجھانے کا نہیں بھڑکانے کا سامان ہے۔
ہمیں اس وقت ایسے معتدل اورمتوازن فکری لیڈروں کی ضرورت ہے جو مرد کو عورت کی صحیح معنوں میں عزت کر نا سکھائے،نہ کہ اس طرح کی فضا بنا دی جائے کہ ایک ٹولہ لنڈے کے مولوی خلیل قمر جیسے انتہا پسندوں کے ساتھ کھڑا ہو کر عورت کی تذلیل کر نی شروع کر دے اور دوسرا ٹولہ موم بتی گروپ کے ساتھ کھڑا ہو کر آگ پھیلانے لگے او ر پھر دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے لایعنی نعروں سے اتنا غبار اڑائیں کہ اصل مدعا ہی کہیں دب کر رہ جائے۔
باقی رہی بات کہ خود کو جنسی مریضوں (درندوں) سے بچابچا کر چلنے کی ضرورت ہے تو اس میں کسی کے انسانی یا نسوانی حقوق پر کوئی ضرب نہیں پڑتی۔ دو چیزوں کو مکس نہ کریں۔۔ ایک طرف عورت کی فکری اور ذہنی آزادی ہے،اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو نا چاہیئے، ہم سب کو اس پر متفق ہو نا چاہیئے۔ دوسری طرف صدیوں سے بنی ہو ئی معاشرے کی سوچ ہے،اندر تک اتری ہو ئی غلاظت ہے۔۔ اسے صاف کر نے کے لئے وقت درکا ر ہے اور اس کو صاف کر نے کے لئے ہاتھوں میں گلوز چڑھانے اور منہ پر ماسک پہننا ضروری ہے۔ کیونکہ اگر ہم خود لتھڑ گئے تو معاشرے کی صفائی کون کرے گا۔۔ آگ بجھانے والا عملہ جب آگ بجھانے آتا ہے تو خود کو محفوظ کرنے والی تمام تدابیر کے ساتھ آتا ہے۔ کم عقلی سے اگر وہ آگ میں کود جائیں گے تو پہلے سے جلنے والوں کو بچانا تو دور کی بات ہے خود بھی اس میں جھلس جائیں گے۔ اور پھر یہ کہتے اچھے نہیں لگیں گے کہ آگ نے ہم کو جلا دیا۔۔
ریپ کر نے والوں کو عبرت کا نشان نہ بنایا گیا تو ایسی خبریں ذہنی مریضوں کو اکساتی رہیں گی، انہیں ایسے فعل کرنے سے باز نہیں رکھیں گی۔یہ ہے حکومتی ذمہ داری اور اگر وہ اس کو نبھا نہیں سکتی تو انہیں اپنے عہدوں کو چھوڑ دینا چاہیئے۔مگر اس سے بھی پہلے والدین کو اپنے بیٹوں کی تربیت میں یہ چیز شامل کر نے کی ضرورت ہے کہ بیٹیوں کی عزت کرنا ان کا کام ہے نہ کہ بیٹیوں کو اپنی عزت کروانے کے لئے سو طرح کی نوٹنکی کر نے کی ضرورت ہے۔ لڑکوں کی گھر وں اور سکولوں سے یہ ٹریننگ ہونے کی ضرورت ہے۔ ایک ماں اور ایک استاد کو لڑکے لڑکی کے درمیان امتیازی سلوک کو ختم کر نا ہو گا۔۔ لڑکوں کو لڑکیوں کی ان کی فکری آزادی کے ساتھ عزت کرنا سکھانا ہو گی۔ یہ نہیں کہ لڑکیاں سر جھکا کر اپنا آپ مار کر خوش کر تی رہیں تو سب راضی جہاں اس نے اپنے لئے جینے کی بتا کی وہیں اسے مطعون ٹھہرا دیا گیا۔
اور ایسے میں پھر جو بغاوت کر تی ہیں وہ اس قدر کر جاتی ہیں کہ راستے میں جو بھی آئے اسے کچل کر آگے بڑھنے کو وہ آزادی سمجھ لیتی ہیں۔۔۔
متوازن گھر، متوازن معاشرے بناتے ہیں۔آئیے چھوٹا قدم اٹھاتے ہیں۔ اپنے گھروں کو متوازن بناتے ہیں جہاں لڑکیوں کو لڑکوں کی طرح ہی سوچنے کی اجازت دی جائے، اعتماد دیا جائے اور محبت و عزت دی جائے۔ معاشرہ خود بخود ٹھیک ہو تا جائے گا۔ یہ کام ہمارے ہاتھ میں ہے یہ تو ہم کر سکتے ہیں؟ باقی حکمرانوں کو جتنی گالیاں دینی ہیں دیں مگر یہ کام تو شروع کر یں۔ورنہ بسکٹ کھاتی بچی، دودھ لینے کے لئے گوالے کا انتظار کرتی بڑھیا یا موٹر وے پر جاتی تنہا خاتون سب کی سب ننگی دھوپ میں کھڑی رہیں گی۔

روبینہ فیصل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میں ہوں نا
  • چچا چھکن نے تصویر ٹانگی
  • زخمِ دل پھر سے مندمل ہوں گے
  • مسٹر چیری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خالد میاں
پچھلی پوسٹ
بھگت سنگھ کون ہے؟

متعلقہ پوسٹس

قرةالعین حیدر – احوال وکوائف

جنوری 5, 2017

پاکستان پیپلز پارٹی کا جنم

دسمبر 3, 2019

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 3)

نومبر 6, 2025

رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

اکتوبر 26, 2025

مسلمان بننا نہیں، مسلمان دکھنا چاہتے ہیں؟

مارچ 23, 2026

کتے کی زبان

مئی 25, 2024

بیٹھے بیٹھے خیال سا آیا

جون 12, 2020

چاند کے ساتھ جب وہ چلتا تھا

فروری 2, 2020

وہ جو مل جاتا تو اس سے بات کرنا تھی...

نومبر 30, 2019

گاجر کا رس

جنوری 7, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

فصیل جاں کے قیدی ہیں مگر...

ستمبر 19, 2023

واسطہ پڑ گیا اذیت سے

مئی 9, 2020

موچنا

نومبر 16, 2016
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں