خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریربابا جمہورا
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرڈاکٹر یونس بٹ

بابا جمہورا

از سائیٹ ایڈمن مارچ 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن مارچ 10, 2020 0 تبصرے 37 مناظر
38

بابا جمہورا

بابا جمہورا کو میں بزرگ سیاست دان اس لئیے نہیں کہوں گا کہ وہ خود بزرگ ہوں تو ہوں، مگر اس کی سیاست میں ابھی لڑکپن ہے ، اس وقت سے سیاست میں ہیں جب انہوں نے ابھی ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سیاست میں نوادر ہیں، اتنے بڑے سیاست دان ہیں کہ اکیلے پارٹی میں پورے نہیں آ سکتے ، سو دوسری پارٹیوں سے اشتراک کر کے رہنے کی جگہ بناتے ہیں، کچھ لوگ انہیں اقلیتوں کا رہنما مانتے ہیں، ویسے ان کی پارٹی ممبروں کی تعداد دیکھ لیں تو آپ بھی مان جائیں گے ۔
ہمارے ہاں آج کل اگر آپ اپنا شجرۂ نسب اور سارا خاندانی کچا چھٹا معلوم کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو کسی لائبریری میں جانے کی ضرورت نہیں، سیاست میں آ جائیں، مخالفین خود ہی بتا دیں گے کہ آپ کے داد پر داد کیا کیا کرتے تھے ، نواب زادہ صاحب نے سیاست کو عبادت بنا دیا ہے ، جس سے یہ پتہ چلے نہ چلے کہ وہ سیاست کو کیا سمجھتے ہیں، یہ پتہ چلتا کہ وہ عبادت کو کیا سمجھتے ہیں، ان کی پوری زندگی میں ان کی پیدائش کے علاوہ کوئی غیر سیاسی واقعہ رونما نہیں ہوا، وہ تو صبح اٹھ کر سیب بھی یوں کھاتے تھے جیسے اپنی صحت کیلئے نہیں جمہوریت کیلئے کھا رہے ہوں، ان کی تو چھینک تک غیر سیاسی نہیں ہوتی، تشدد کے اس قدر خلاف کے اسکول میں ضرب سے کئی کتراتے ، تقسیم تو کبھی کی ہی نہیں ، البتہ جمع ایسی کرتے کہ حساب کا ماسٹر حساب داد دیتا، ذہین اتنے کہ جس روز ماسٹر شیو بڑھائے بغیر استری کے کپڑے پہن کر کلاس روم میں آتا، انہیں فوراً پتہ چل جاتا، کہ آج ماسٹر صاحب اردو شاعری پڑھائیں گے ، مزاج ایسا جمہوری کہ ایچی سن کالج میں کرکٹ کھیلتے وقت اردو شاعری کے دوران اسی گیند کو پکڑنے بھاگتے ، جس کی طرف سب سے زیاد کھلاڑی بھاگتے ۔
پیر پگارا صاحب کو نابالغ سیاست دان کہتے ہیں، ان کے بقول نواب زادہ کا مطلب ہی نواب کا لڑکا ہے اصغر خان فرماتے ہیں نواب زادہ صاحب 80 فیصد شاعری اور 20 فیصد سیاست کرتے ہیں، انہوں نے سیاست اور اپنی شاعری کی کتاب کا نام جمہوریت رکھا، ایک صاحب سے کہا دیکھیں یہ نام ٹھیک ہے یا بدل دوں؟ اس نے ان کی شاعری پڑھ کر کہا نام تو ٹھیک ہے مگر شاعر بدل دیں۔
حقہ اور نواب صاحب اس قدر لازم و ملزوم ہیں کہ دونوں کی شخصیت ٹوپی کے بغیر مکمل نہیں،مادر ملت فاطمہ جناح نے ایک بار کہا تھا، نواب زادہ نصر اللہ خان حقے کے بغیر کچھ نہیں، حالانکہ ان کے پاس حقہ نہ بھی ہو تب بھی لگتا ہے ، کہ ہے ، حقے کی نے منہ میں یوں دبائے ہوتے ہیں جیسے مخالف کی گردن، وہ حکم عدولی برداشت کر لیتے ہیں، مگر حقہ عدولی نہیں، حقہ وہ ساتھی ہے جو اس وقت بولتا ہے جب آپ چاہتے ہیں، مارشل لاء کے دنوں میں جب کوئی نہیں بولتا،حقہ پھر بھی بولتا ہے م حقہ اجتماعیت کی علامت ہے اور سگریٹ الگ الگ کرنے کی، وہ سیاست کا حقہ ہیں، جس کے گرد کئی پارٹیاں کش لگا رہی ہیں، ان کی پسندیدہ موسیقی تازہ حقے کی آواز ہے ، وہ حقہ نہ بھی پی رہے ہوں، پھر بھی دھواں دیتے ہیں ، سگار بھی پیتے ہیں، جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سگار صرف پئے ہی جا سکتے ہیں کھائے جانے سے تور ہے ۔
کھانے میں مچھلی پسند ہے ، مچھلی اور سیاست دانوں میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں سانس لینے کیلئے منہ کھولتے ہیں، البتہ ایک مچھلی پورے جال کو گندا کر دیتی ہے مگر وہ سیاست دان مل کر بھی یہ نہیں کر سکتے ، البتہ نہ مل کر کر سکتے ہیں، جمہوریت کیلئے کوشش کرنے والوں کو جو پھل ملتا ہے ، وہ نواب صاحب کے باغ کے آم ہوتے ہیں، جو عام نہیں ہیں، ہمیں تو آم میں یہی خوبی لگتی ہے ، کہ یہ کھایا بھی جا سکتا ہے اور پیا بھی، انہیں سنترہ بھی اچھا لگتا ہے مگر ہمیں تو سنتری کا مذکر لگتا ہے ۔
نواب زادہ صاحب کئی دہائیوں سے وہی کر رہے ہیں جس کی دہائی آج دے رہے ہیں، وہ ہے اتحاد بنانا، ہر حکومت کے خلاف اتحاد بناتے ہیں، جس کی حکومت کے خلاف اتحاد نہ بنائیں، اس میں اتحاد نہیں رہتا، ان کا بنایا اتحاد اتنا پائیدار ہوتا ہے کہ اب تو لوگ انہیں اپنے بچوں کی شادیاں پر بھی بلانے تاکہ نومولود اتحاد اٹوٹ ہو، ان کی طبعیت خراب ہو تو ڈاکٹر کہتا ہے ،تین دن تک نہار منہ اتحاد بنائیں، انشاء اللہ افاقہ ہو گا، شیاد اس کی وجہ یہی ہو کہ اس میں بہت سے لوگ اتحاد کرے یوں گاتے ہیں کہ کسی ایک کی آواز بھی صاف سنائی نہیں دیتی ، قوالی بندہ فاصلے سے سنے تو بہت مزہ آتا ہے ، یعنی اتنے فاصلے سے جہاں تک آواز نہ آتی ہو۔
سیاست کو انہوں نے کبھی دکان نہیں سمجھا، ویسے بھی سیاست میں دکان تو کیا، ایک کان کی بھی ضرورت نہیں،البتہ زبان چاہئیے اور ان کی زبان ایسی ہے کہ اتنی ان کہ منہ میں نہیں رہتی جتنی صحافیوں کے کانوں میں رہتی ہے ، ان کی تقریر بہرے بھی سمجھ جاتے ہیں، کیونکہ اتنا منہ سے نہیں، جتنا ہاتھوں سے بولتے ہیں، ہر سوال کا جواب سوچ کر دیتے ہیں، نام تک پوچھیں تو سوچ میں پڑ جائیں گے ، گفتگو کا ایسا انداز کہ بندہ بات سننے سے پہلے کنونس ہو جائے ، شاید کنونس ہونے کی وجہ بھی یہی ہو، ویسے ہم ایک ایک ایسے سیاست دان کو جانتے ہیں جو روز کنوسنگ کیلئے نکلتے ہیں، کئی دنوں کے بعد آخر ان سے ایک خاتون کنونس ہوہی گئیں، اب وہ ماشاء اللہ ان کے بچوں کی ماں ہیں، نواب صاحب کی تقریر کا آغاز اور انجام تقریر کو دلکش بنا دیتا ہے ، تقریر اور بھی دلکش بن سکتی ہے بشرطیکہ اختتام آغاز سے پہلے کا ہو۔
وہ ان سیاست دانوں میں سے ہیں جو عوام کے نمائندہ نہیں، سیاست دانوں کے نمائندہ ہوتے ہیں، وہ غور ہے ، نواب صاحب پوزیشن بنا کر نہیں اپوزیشن بنا کر خوش ہوتے ہیں، وہ پیدائشی حزب اختلاف ہیں، اب تو انکی اس عادت کی وجہ سے یہ صورتحال ہے کہ اگر وہ کسی بات پر فورا متفق ہو جائیں تو لوگ پریشان ہو جاتے ہیں، کہ اللہ کرے ان کی طبعیت ٹھیک ہو، گھڑ سواری کرتے ہیں، اب بھی کرسی پر بیٹھے باتیں کرتے ہوئے دائیں ٹانگ سے کرسی کو ایڑھ لگا رہے ہوتے ہیں، ٹانک اس قدر پسند ہے کہ کھانے میں مچھلی کا بھی لیگ پیس ہی مانگتے ہیں۔
مارک ٹوئن نے کہا ہے صحت مند رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ کھاؤ جو آپ پسند نہیں کرتے ، وہ پیو جو آپ نہیں چاہتے اور وہ کرو جو آپ ویسے بھی کبھی نہ کرتے ، اس حساب سے انہوں نے کبھی صحت مند رہنے کی کوشش نہیں کی، پرانی چیزیں دیکھنا پسند ہیں، اس لئے کمرے میں شیشہ ضرور رکھتے ہیں، اپنی چیزیں نہیں بدلتے ، ان کا وہ برش ہس سے شیو کرتے وقت صابن لگاتے ہیں، اتنا پرانا ہو گیا ہے کہ اس کے آدھے بال سفید ہو چکے ہیں، جمہوریت میں مارشل لاء کی راہ ہموار کرتے ہیں، مارشل لاء میں جمہوریت کی راہ بناتے ہیں، اور ہمیشہ راہ میں ہی رہتے ہیں، حکومت میں کبھی نہیں رہے کیونکہ کبھی عہد ان سے بڑا ہوتا ہے اور کبھی وہ عہدے سے بڑے نکلتے ہیں، مغطر گڑھ جو کبھی ان کا گڑھ تھا اب ان کیلئے گڑھا بن چکا ہے ، جنرل ضیا الحق کے جنازے پر نہ گئے مگر غفار خان کے جنازے پر گئے جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ سرحدی گاندھی غفار خان کے جنازے پر یہ یقین کرنے گئے تھے ، کہ واقعی سرحدی گاندھی غفار خان مر گئے ہیں۔
مزاج ایسا کہ سردیوں میں گرمیاں اور گرمیوں مین سردی چاہتے ہیں، صحافی ان کے پاس خبر لینے یوں جاتے ہیں جیسے ان کی خبر لینے جا رہے ہوں، بھینسیں پالنے کا شوق ہے ، سنا ہے جو بھینسیں پالتے ہیں، وہ اچھے شوہر ثابت ہوتے ہیں، اس قدر وضع دار کہ جس جگہ ایک بار پاؤں پھسلا، جب بھی وہاں سے گزرے ، پھسل کر ہی گزرے ، ان کی پوری زندگی سے یہی نتیجہ نکلتا ہے سیاست بچوں کا کھیل نہیں، بوڑھوں کا ہے ۔

ڈاکٹر محمد یونس بٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • موجد شاعری شاہ شمس ولی اللہ
  • انشاء کا اعظمی کو چوتھا خط
  • شبِ نیلوفر
  • اب اور کہنے کی ضرورت نہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میرا جسم میری مرضی
پچھلی پوسٹ
پیکاسو کی بیوہ

متعلقہ پوسٹس

کراچی کی بحالی کا محاذ!

جنوری 16, 2022

یہ ہی چراغ جلینگے تو روشنی ہوگی!

دسمبر 7, 2020

دلشاد نظمی کی نظم نگاری

مارچ 4, 2025

دیوالی کے دِیے

فروری 3, 2020

انٹرنیٹ کے دور میں کالم نگاری کی جہتیں

نومبر 6, 2025

میں ایک مرتبہ

نومبر 26, 2020

پنجاب اُجڑ گیا

اگست 31, 2025

کیا یہ غور طلب نہیں!

اگست 30, 2024

ضمیر واحد متبسم

دسمبر 16, 2019

احسان علی

جنوری 17, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تین موٹی عورتیں

دسمبر 7, 2019

ڈاکٹر وحید احمد کا نظم نامہ

جون 2, 2020

انجمن پنجاب

اپریل 11, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں