104
زندگی کو نہ بنا لیں وہ سزا میرے بعد
حوصلہ دینا انہیں میرے خدا میرے بعد
کون گھونگھٹ کو اٹھائے گا ستم گر کہہ کے
اور پھر کس سے کریں گے وہ حیا میرے بعد
پھر محبت کی زمانے میں نہ پرسش ہوگی
روئے گی سسکیاں لے لے کے وفا میرے بعد
ہاتھ اٹھتے ہوئے ان کے نہ کوئی دیکھے گا
کس کے آنے کی کریں گے وہ دعا میرے بعد
کس قدر غم ہے انہیں مجھ سے بچھڑ جانے کا
ہو گئے وہ بھی زمانے سے جدا میرے بعد
وہ جو کہتا تھا کہ ناصرؔ کے لیے جیتا ہوں
اس کا کیا جانئے کیا حال ہوا میرے بعد
حکیم ناصر
