106
سوچنے کی بات ہے کہ حادثات رکتے ہی نہیں
کوئی بچ گیا تو ٹھیک ورنہ لوگ بچتے ہی نہیں
حکمرانوں پر نالاں ہے تو کوئی انتظامیہ پر برہم
الزامات ایک دوسرے پر کبھی تھمتے ہی نہیں
بے حس لوگوں پر بڑی ڈھیلی ہوتی ہے رب کی
ایسے لوگ اتنی آسانی سے یہاں سے جاتے ہی نہیں
وہ رب تو جبار بھی ہے اور قہار بھی ہے یاروں
مگر ہم ہیں کہ اس رب سے بالکل ڈرتے ہی نہیں
غور کرو اور سوچو تنہائی میں بیٹھ کر یاروں
کون ہے ذمہ دار اور کیوں یہ سامنے آتے ہی نہیں
نہ حکمرانوں کا کوئی دوش ہے نہ ہی انتظامیہ کا
یہ سارا قصور ہمارا ہے کہ ہم کبھی بدلتے ہی نہیں
ذکر ہے قرآن میں صاف پچھلی قوموں کی تباہی کا
یاد رکھو فیصلے قرآن کے کبھی بھی ٹلتے ہی نہیں
درست کرلو اعمال یوسف جو بچنا ہے عذابات سے
پھر نہ کہنا کہ یہ حادثات ہیں کہ رکتے ہی نہیں
محمد یوسف میاں برکاتی
