114
شجر شاخوں کو جب سے کھا رہے ہیں
پرندے غم سے مرتے جا رہے ہیں
جنہیں دریا تلک میں لے کے آیا
مجھے وہ نیکیاں گنوا رہے ہیں
میں کیوں بیزار سا رہنے لگا ہوں
ادھورے خواب کیونکر آ رہے ہیں
اجالے سے نہیں بنتی ہماری
چراغوں کو یہی سمجھا رہے ہیں
ترے ہم نام سے ہم بات کر کے
اداسی کو ذرا بہلا رہے ہیں
وہ میرا سامنا کیسے کریں گے
جو میرے سائے سے گھبرا رہے ہیں
ہمارا عکس ہم کو ڈھونڈ لے گا
اگرچہ آئنے الجھا رہے ہیں
ذرا اوقات سے باہر ہوا ہے
جسے اوقات میں ہم لا رہے ہیں
احامر منزلوں کی چاہ کب ہے
فقط ہم راستے سلجھا رہے ہیں
رانا عثمان احامر
