خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اختر شیرانیسپیرا
اختر شیرانیاردو افسانےاردو تحاریر

سپیرا

از فضّہ مئی 20, 2020
از فضّہ مئی 20, 2020 0 تبصرے 83 مناظر
84

سپیرا

وہ پرانے بھٹّے کے ایک کونے میں اینٹوں کا ڈھیر لگا رہا تھا۔ اُس کا حقیقی نام کسی کو بھی معلوم نہ تھا۔ بلکہ وہ آپ بھی مدّتوں سے اُسے بھول چکا تھا۔ اُس کے یار دوست اُسے "شیخ "کہہ کر پکارتے تھے۔ بنگال میں ہر ایک مسلمان کو اِس نام سے پکارا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ اِس نام کے مطابق ہلکی سی بھی جسمانی یا ذہنی موزونیت نہ رکھتا ہو۔
دوسرے لوگ اُسے لنگڑا کہہ کر یاد کرتے تھے۔ کیونکہ پچپن میں اُس کا بایاں پیر ٹوٹ گیا تھا اور اُس نقص کی یادگار میں بیچارے کو تمام عمر کے لیے یہ خطاب حاصل ہو چکا تھا۔ یہی نہیں بلکہ چونکہ اُس کی جوانی بے احتیاطی، اور بے پروائی میں کٹی تھی۔ اِس لیے اُسے ایک گھناؤنی بیماری سے پالا پڑا۔ جس نے اُس کی ناک کو بالکل غارت کر دیا۔ اور اُس کی جگہ ایک ڈراؤنا گڑھا یاد گار چھوڑ گئی اُس کے بعد چیچک نکلی اور چیچک کے گہرے داغوں نے اُس کی بدصورتی کو بالکل مکمل کر دیا۔
واحد بھٹّے کی طرف اپنا چھکڑا لیے جا رہا تھا۔ اُس نے اپنے بیلوں کو تیز چلانے کے لیے اُن کی دُم مروڑی اور ساتھ ہی ایک فحش سے گیت کی تان لگائی مگر یہ تان جس تیزی سے پیدا ہوئی تھی، اُسی تیزی سے غائب ہو گئی۔ بیل چلتے چلتے اچانک رک گئے اور آنکھیں چڑھا کر اور نتھنے پھُلا کر زور زور سے سانس لینے لگے۔ بیلوں کے ایک دم رُ کنے سے واحد اپنی جگہ سے آگے کی طرف لڑھکا اور بیلوں کو گالیاں دینے لگا۔ بیل کسی طرح آگے نہ بڑھے اور واحد نے اپنی پَینی سنبھالی۔ وہ مارے غصّے کے پاگل ہو گیا تھا۔ پَینی اُوپر اُٹھی، مگر اِس سے پہلے کہ بیل کی کمر تک پہنچتی۔ وہ اپنی پوری طاقت سے چلاّیا۔ "سانپ رے سانپ شیخ او شیخ! ! ”
چھکڑے سے آگے چند گز کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا سانپ پھن اُٹھائے جھوم رہا تھا۔ واحد نے اپنے چھکڑے سے چھلانگ لگائی اور دوڑ کرا یک اینٹ اُٹھا لی۔
شیخ نے واحد کی آواز سنی تو تیزی سے لنگڑاتا ہوا اور ساتھ ساتھ چلّاتا ہوا دوڑا "ارے مارنا مت۔ مارنا مت! میں آتا ہوں! ”
واحد نے اُٹھایا ہوا ا بازو نیچے کر لیا اور اینٹ مارنے سے رُک گیا۔
"اللہ کی قسم کیسا خوب صورت سانپ ہے۔ "واحد بولا۔ "اور دیکھنا شیخ منہ کتنا گہرے سُرخ رنگ کا ہے۔ اور پھن کیسا خوب صورت ہے۔ مگر یار جلدی کرو۔ بھاگ رہا ہے یہ تو۔ ”
سانپ نے خطرہ بھانپ لیا اور واحد سے دور بھاگنے لگا۔ اُسے معلوم نہ تھا کہ ایک اور دشمن اُس کی تاک میں ہے اور پاس آ پہنچا ہے۔
"واحد ذرا اپنی پَینی پھینکنا "شیخ چلّایا "اوہو بھٹّے میں چلا گیا۔۔۔۔۔ "شیخ نے غور سے بھٹّے کے اندر دیکھتے ہوئے کہا۔ جہاں سانپ غائب ہوا تھا۔ "اِسے اُودے ناگ کہتے ہیں، واحد جانتے ہو۔ اُودے ناگ؟ ؟ ”
پھر بولا کہ یہ کوبرے کی قسم کا ہوتا ہے۔ مگر بہت کم ملتا ہے۔ خدا کی قسم اگر یہ ہاتھ آ گیا تو کچھ روپے کما ہی لوں گا۔ ”
شیخ عام سپیروں سے بڑا سپیرا تھا۔ کیونکہ وہ سانپوں کا علاج معالجہ کرنا بھی جانتا تھا۔ وہ اکثر اوقات اپنے گاؤں اور آس پاس کے دیہات میں اپنے سانپوں کو نمائش کے طور پر دکھاتا تھا اور دیہاتی دلچسپی سے تماشا دیکھنے آتے تھے۔ وہ سانپوں کو مٹّی کے گھڑوں میں رکھتا تھا۔ جن میں سے اکثر اُس کی گھاس پھونس کی جھونپڑی سے لٹکے رہتے تھے۔
جیسا کہ عام سپیروں کا قاعدہ ہے شیخ بھی اپنے دہشت ناک قیدیوں میں سے بیماروں اور کمزوروں کو آزاد کر دیتا تھا۔ اُن میں سے بعض قید کے صدمے سے مر بھی ضرور جاتے تھے۔ شیخ کا یہ تجارتی سرمایہ اُس کی اچھی خاصی آمدنی کا ذریعہ تھا اور جب تک اُس کی یہ جیتی جاگتی اور چلتی پھرتی پونجی پوری تعداد میں اُس کے قبضے میں ہوتی وہ بھٹّوں پریا کھیتوں میں مزدوری کرنے نہ جاتا تھا۔
ایسی حالت میں وہ ایک ٹوکری میں اپنے سانپ ڈالے ہوئے اور سپیروں کی تونبی میں منہ میں دابے پاس پڑوس کے دیہات میں نکل جاتا اور بہت کچھ کما لاتا مگر اُس کی یہ کمائی جلد ہی ختم ہو جاتی تھی۔ کیونکہ وہ بھنگ اور افیم کا عادی تھا اور اِس پر طرّہ یہ کہ شراب کی چسکیاں بھی لگا لیتا تھا۔ اِس کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا کہ جوں ہی شیخ کی جیب خالی ہوتی۔ وہ ایک پھاؤڑا اور ٹوکرا لیے اپنے کھاتے پیتے پڑوسی کسانوں کے دروازوں پر نظر آتا اور پوچھتا "کوئی مزدوری ؟ کوئی کام؟ "ایسے لوگوں کے سامنے وہ بڑی لجاجت سے مسکراتا اور اُس کی مسکراہٹ سے اُس کے بد نما چہرے پر جو شکنیں پڑتیں وہ چہرے کو اور زیادہ بد نما اور ہیبت ناک بنا دیتیں۔ شیخ میں یہ بات ضرور تھی کہ وہ اپنے اِس قسم کے "گاہکوں "کو کبھی دھوکا نہ دیتا۔ اُسے کیسا ہی سخت کام ملتا۔ وہ بڑی محنت اور دیانت داری سے اُسے انجام دیتا۔ جس دن اُسے کام نہ ملتا وہ بھیک مانگنے نکل جاتا۔ بھیک مانگنا۔ مزدوری کرنا اور سانپوں کا تماشا دکھانا اُس کے لیے سب یکساں کام تھے۔ یہ تھوڑی بہت خیرات بھی جو اُسے ملتی حسبِ معمول اُس کے نشے پانی پر خرچ ہوتی تھی۔ کبھی کبھی وہ کچّی شراب پی آتا اور جھومتا جھامتا گھر لوٹتا۔ ایسی بدمستی کی حالت میں وہ اپنی گھر والی کے پاؤں پکڑ لیتا اور شرابیوں کی طرح آنسو بہاتا ہوا کہتا۔ "میں نے تمہیں بڑے دُکھ پہنچائے ہیں زبیدہ۔ میں نے تمہیں فاقوں مار دیا ہے ‘‘۔
زبیدہ ہنس دیتی اور اپنے پیر چھڑاتے ہوئے کہتی "چھیڑخانی کی باتیں نہ کرو۔ مجھے چھوڑ دو۔ تمہارے کھانے کے لیے کچھ ہو تو لاتی ہوں ‘‘۔
اِس پر شیخ دھاڑیں مار مار کر رو دیتا اور کہتا "ہائے میں نے تمہارے لیے کبھی نئے کپڑے بھی تو نہیں بنوائے۔ ”
***

دوسرے دن صبح پَو پھٹتے ہی شیخ بھٹّے پر پہنچا۔ ایک چھوٹی سی قمچی، اور سرکنڈوں کا بنا ہوا صندوق اُس کے ہات میں تھا۔ مشرق کی طرف آسمان پر ایک گہری سُرخ روشنی کا طوفان منڈلا رہا تھا۔ گنجان درختوں پر چڑیوں کے جھنڈ سہانے گیت گا رہے تھے۔ دور کسی مندر سے صبح کی ٹھنڈی اور دھیمی دھیمی ہَوا کے جھونکے گھنٹیوں اور سنکھوں کی آوازیں لیے آ رہے تھے۔
شیخ مٹّی کے ڈھیر پر بیٹھ گیا اور غور سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ شفق کی سرخی دم بدم پھیلتی جا رہی تھی۔ اُس کا بڑھتا ہوا رنگ اینٹوں کو بہت زیادہ سرخ بنا رہا تھا۔ یہاں تک کہ شیخ کے میلے کچیلے کپڑوں پربھی رنگت آ گئی تھی۔ بک بیک اُس نے کچھ دیکھا اور "یہ رہا وہ "کہہ کر جلدی سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
کچھ فاصلے پر کھلی جگہ میں کل والا سانپ آسمان کی سُرخی کی طرف اپنا پھن پھیلائے خوشی سے جھوم رہا تھا۔ سورج کی ابتدائی کرنوں کا اُس کے ننھّے سے لمبے بدن پر عکس پڑ رہا تھا اور اُس کے سُرخ رنگ کو شوخ اور خوش نما بنا دیا تھا۔ سُرخ رنگت کے ساتھ اُس کے پھن کی سیاہ دھاریاں رنگوں کے امتزاج کا بہت ہی سہانا سماں دِکھا رہی تھیں۔ وہ اِس وقت ایسا ہی خوب صورت معلوم ہوتا تھا جیسے وہ تتلی جس کے سُرخ بازوؤں پر پتلی پتلی سیاہ لکیریں ہوں۔
سپیرا بھی اُس کی خوشنمائی سے بہت متاثّر ہوا اور ہونٹوں ہی ہونٹوں میں "واہ "کہنے پر مجبور ہو گیا۔ اب وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ سانپ سورج کی کرنوں سے کچھ اِس دھُن میں کھیل رہا تھا کہ اُسے کسی دشمن کے آنے کی خبر تک نہ ہوئی۔ نہ اُس کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ وہ بدستور اپنی دھُن میں مگن تھا مگر جب شیخ بالکل ہی قریب جا پہنچا تو اُس نے بجلی کی سی تیزی سے اپنا پھن گھمایا اور پھنکار ماری مگر شیخ کے ماہر ہاتھوں نے سانپ سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ قمچی سے اُس کے پھن کو دبایا اور زمین سے ملا دیا۔ اب اُس سانپ کی دُم پکڑ لی اور اُسے ڈرانے کے لیے اور سدھانے کے لیے دو تین جھٹکے دیے۔ اُس کے بعد اُس نے اپنے قیدی کو اچھی طرح دیکھا بھالا اور بڑبڑایا "یہ تو ناگن ہے ‘‘۔

اختر شیرانی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اوور کوٹ
  • عدم اعتماد کا بحران اور عمران خان!
  • شادی کی بریانی
  • بچنی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
فضّہ

اگلی پوسٹ
ماں کی مامتا
پچھلی پوسٹ
ماں کا دل

متعلقہ پوسٹس

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب

جولائی 12, 2023

وہی منزل، وہی ساتھی

مارچ 22, 2025

چنبیلی

دسمبر 23, 2021

احساس محبت

نومبر 11, 2025

پہلا پتھر

جنوری 3, 2020

بیمار

جنوری 24, 2020

سایہ در غبارِ شام

فروری 8, 2025

دھرنا

فروری 6, 2018

پھسپھسی کہانی

جنوری 28, 2020

تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟

دسمبر 29, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دعا

ستمبر 1, 2022

شب زفاف جب داغدار ہو جائے(حصہ...

نومبر 29, 2019

مہتاب خاں

جنوری 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں