699
نیم وا سی وہ شربتی آنکھیں
ان کہی کو کریں کہی آنکھیں
دل کی دھڑکن کو تیز کرتی ہیں
ایک کھڑکی سے جھانکتی آنکھیں
تیری دنیا میں آ کے دیکھا ہے
دیکھتے کان بولتی آنکھیں
جو کہ پتھر بھی توڑ دیتی ہیں
ایسی ہوتی ہیں واقعی آنکھیں
ایک بھونچال کی علامت ہیں
ہلکی ہلکی یہ کانپتی آنکھیں
دیکھ دیوار و در پہ اُگ آئیں
غم سے پتھرائی حیرتی آنکھیں
کتنے لہجے تراش لیتی ہیں
خامشی میں وہ بولتی آنکھیں
جیسا منظر ہو ویسی ہو جائیں
ایک چہرے پہ ہیں کئی آنکھیں
ہیں ابھی تک تلاشِ گمشدگاں
گھر کی دیوار میں چنی آنکھیں
کتنے دلشاد کر گئیں شکوے
وقتِ رخصت وہ بھیگتی آنکھیں
دلشاد احمد
