خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباانتظار
آپکا اردو بابااردو نظمسید عدیدشعر و شاعری

انتظار

ایک عمدہ نظم از سید عدید

از سائیٹ ایڈمن نومبر 21, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 21, 2019 0 تبصرے 547 مناظر
548

انتظار

ہم نے تم کو چاہا ہے
تم سے پیار کرتے ہیں
تم سے ملنے کی خواہش بار بار کرتے ہیں

منزلیں مسافر ہیں
آرزو ٹھہرتی ہے
زندگی کے میلے میں
جب کبھی اکیلے میں
کچھ چراغ جلتے ہیں
روشنی کے ریلے میں
راستے بھی چلتے ہیں
تم کو پا لیا ہے پر انتظار کرتے ہیں
کل بھی نامکمل تھے آج بھی ادھورے ہیں
درد کی کہانی میں
ساری زندگانی میں
خواہشیں ہزاروںہیں
دل کے شاخساروں میں آرزو پنپتی ہے
زلف کے اندھیرے میں
جسم کے سویرے میں
انتظار ہوتا ہے
انتظار کس کا ہے
دل میں پیار کس کا ہے
آج اس نتیجے پر ہم پہنچنے والے ہیں
زندگی کی راہوں میں دور تک اجالے ہیں

اجنبی حویلی ہے
اجنبی حویلی میں
ادھ کھلا دریچہ ہے
ادھ کھلے دریچے میں چاند جیسا چہرہ ہے
چاند جیسے چہرے پر نیم باز آنکھیں ہیں
نیم باز آنکھوں میں خواہشوں کا ڈیرا ہے
خواہشوں کا ڈیرا ہے نیند کا بسیرا ہے
اور ایک سپنا ہے
خواب زار کے در پر انتظار لکھا ہے
پیار پیار لکھا ہے
اس کی سرخ آنکھوں میں انتظار کس کا ہے
دل میں پیار کس کا ہے
آج اس نتیجے پر ہم پہنچنے والے ہیں
زندگی کی راہوں میں دور تک اجالے ہیں

آبشار پر کوئی اجنبی اکیلا ہے
سوچیے تو کون اس کی آرزو سے کھیلا ہے
آسماں پہ شب کا اک آخری ستارا ہے

رات سونے والی ہے
صبح ہونے والی ہے
اور زندگی کا وہ آخری سہارا ہے
انتظار کا سورج ڈوبنے ہی والا ہے
اور وہ یوں بیٹھا ہے
جیسے کوئی اترے گا آرزو کے ساحل پر
آدمی زمانے میں جو بھی پیار کرتا ہے
انتظار کرتا ہے
انتظار کس کا ہے
دل میں پیار کس کا ہے
آج اس نتیجے پر ہم پہنچنے والے ہیں
زندگی کی راہوں میں دور تک اجالے ہیں

اجنبی حویلی ہے
اجنبی حویلی میں
ایک ماں اکیلی ہے
اور اس حویلی کا صحن بھی کشادہ ہے
زندگی سے بیٹے دکھ اسے زیادہ ہے
درد تو بلا کا ہے
صبر انتہا کا ہے
ضبط کا تقاضا ہے
آنکھ میں نہیں آنسو
ہونٹ پر دعائیں ہیں
جانے کون آئے گا
ان اداس آنکھوں میں خواب رنگ لائے گا
اس کی مردہ آنکھوں میں انتظار کس کا ہے
دل میں پیار کس کا ہے
آج اس نتیجے پر ہم پہنچنے والے ہیں
زندگی کی راہوں میں دور تک اجالے ہیں

جسم و جاں کے مندر میں
دیویاں سلامت ہیں
ناگ راج بیٹھے ہیں دودھ کی سبیلوں پر
اک پجاری آئے گا
جستجو کی آواز یں
سن رہا ہوں مدت سے
آرزو کا سناٹا
کب چٹخ کے ٹوٹے گا
آب دار آنکھوں سے خواب کوئی پھوٹے گا
خواب خواب ہوتا ہے خواب پہ بھروسا کیا
زندگی حقیقت ہے
اور اس حقیقت کو خواب کی ضرورت ہے
کون خواب دیکھے گا
کون اس کی تعبیریں اب بتانے آئے گا
منتظر زمانہ ہے جانے کس نے آنا ہے
انتظار کس کا ہے
دل میں پیار کس کا ہے
آج اس نتیجے پہ پہنچنے والے ہیں
زندگی کی راہوں میں دور تک اجالے ہیں

ایک چھوٹا بچہ ہے
اس کے نرم ہاتھوں میں
سخت بھاری پتھر ہیں
زخم زخم پیروں میں جسم کا پسینہ ہیں
سامنے وہ زینہ ہے
جس پر اس نے جانا ہے
اور اس مشقت کا شام تک تسلسل ہے
ظلم یہ مشقت کا اجر اتنا تھوڑا ہے
جس نے ایک بچے کا خواب زار توڑا ہے
سوچ کی زمینوں پر
ایک بوڑھیماں اس کی ایک چھوٹا بھائی ہے
اک بہن اپاہج ہے
سوچو تو دو ہاتھوں کے چار پیٹ ہوتے ہیں
باوجود محنت کے کیوں وہ بھوکے سوتے ہیں
آسماں سے جانے کب ان کا رزق اترے گا
وعدہ تو کیا ہے پر وعدہ کب وفا ہو گا
بھوک پیاس کی شدت وہ بھی جانتا ہو گا
بھوک جب ستاتی ہے
پیٹ کی منڈیروں پر
زرد زرد آہوں کے کچھ نشاں ابھرتے ہیں
بھوک جب ستاتی ہے
دن کو سونے والے بھی رات کو سنورتے ہیں
جسم کی صلیبوں سے پیرہن اترتے ہیں
وہ تو خیر عورت ہے اس کا اس زمانے نے کام ہی یہ سمجھا ہے
اس سے کیا گلہ کرنا
اس کی اپنی مجبوری
خواہشوں کے اژدر ہیں شاخ جسم سے لپٹے
پیٹ کی بدولت ہیں
لوگ جو زمانے میں باوقار ہوتے ہیں
ان میںلوگ ایسے بھی کچھ شمار ہوتے ہیں
کار زار ہستی میں
خواہشوں کی منڈی میں
سب کو بیچ دیتے ہیں
جب پڑے ضرورت تو رب کو بیچ دیتے ہیں
ظلم کے افق سے کب آفتاب ابھرے گا
جانے اس زمانے میں کون عیسی اترے گا
انتظار کس کا ہے
دل میں پیار کس کا ہے
آج اس نتیجے پر ہم پہنچنے والے ہیں
زندگی کی راہوں میں دور تک اجالے ہیں

ہر کوئی یہاں اس کا انتظار کرتا ہے
جس سے پیار کرتا ہے
اور اس حوالے سے اپنی زندگی ہم ہیں
اپنی ہر خوشی ہم ہیں
اپنی زندگانی میں مستقل کمی ہم ہیں
نام اس کا لیتے وجہ شاعری ہم ہیں
آدمی سے دنیا ہے اور آدمی ہم ہے
آئنہ سا حیراں ہوں آئنہ مقابل ہے
آئنے کی آنکھوں میں عکس ایک اترا ہے
راز اپنی خلقت کا اب سمجھ میں آیا ہے
مجھ کو کیوں بنایا تھا سب سمجھ میں آیا ہے
اک طویل قصہ ہے مختصر کہانی میں
خواہشیں سمندر ہیں ایک بوند پانی میں
انتظار اپنا تھا انتظار اپنا ہے
آدمی حقیقت میں خود سے پیار کرتا ہے
اور اپنی خواہش پر جاں نثار کرتا ہے
ہر کوئی یہاں اپنا انتظار کرتا ہے

سید عدید

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سچ کی جیت
  • 21 فروری عالمی یوم مادری زبان!
  • اس بار اس کے ہجرکا شکوہ نہیں کیا
  • جو بھی تیرے لیے بنی ہو گی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سنگم کا ٹینڈوا
پچھلی پوسٹ
دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پر

متعلقہ پوسٹس

نوجوان نسل اور معاشرتی ذمہ داریاں

اکتوبر 20, 2025

وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا

ستمبر 18, 2022

وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے

مئی 14, 2020

سو خونچکاں گلے ہیں لب سے مری زباں تک

جون 27, 2020

سفر تنہا نہیں کرتے

دسمبر 3, 2019

سو اب دیوار کے اندر سے پھر اک در نکالوں...

مئی 18, 2020

چہرہ کوئی بھی آنکھ میں ٹھہرا نہ پھر کبھی

نومبر 18, 2020

وہی سائل وہی مسؤل وہی حاجت مند

فروری 8, 2020

زندہ ہیں تِرے شہر میں امید و یقیں پر

جولائی 13, 2022

پہاڑیے

اپریل 23, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

صاحب زادے کرتے کیا ہیں

جنوری 2, 2022

گلزارِ دل

مئی 27, 2025

جس پہ اس موج سی شمشیر...

جون 26, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں