103
تماشا ختم ہونے تک
رکوں گا
ترے ہاتھوں سے بہتی
روشنی کی بوند
گرنے تک
مجھے اس دھوپ میں رکنا
پڑا تو
میں رکوں گا
ستارے رات بھر جو آسماں
پر ٹمٹماتے ہیں
ہمیشہ دسترس سے دور
ہوتے ہیں
مگر جب دن نکلتا ہے
ترے جیسے فلک
کے ہاتھ آتے ہیں
مرے جیسوں کو دِکھتے ہیں
ذرا میری زمیں کو دیکھ سائیں
ستارہ پھینک سائیں
عمران سیفی
