104
دلیل پختہ نہ تھی معتبر حوالہ نہ تھا
چراغ جل تو رہے تھے مگر اجالانہ تھا
بھنور اٹھے تھے مرے نا خدا کی آنکھوں سے
وگرنہ مجھکو یہ دریا ڈبونے والا نہ تھا
کمال یہ ہے کہ اس بے وفا کوعلم نہیں
کہ روگ ہم نے بھی سنجیدگی سے پالا نہ تھا
ہر ایک لب پہ تھا تنگیِٗ رزق کا شکوہ
کسی ہتھیلی پہ محنت کا کوئی چھالا نہ تھا
تو میں نے اپنی صدا کو ہی کر لیا زخمی
دکھوں کا گیت کوئی اور گانے والا نہ تھا
قصیدے پڑھتا رہا شہر روشنی کےمگر
کہیں چراغ نہ تھے اور کہیں اجالا نہ تھا
نہ سوزِآبلہ پائی تھا اور نہ لطفِ سفر
کوئی جو راہ میں کانٹے بچھانے والا نہ تھا
ڈاکٹر طارق قمر
