خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےافشائے راز
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

افشائے راز

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن نومبر 15, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 15, 2019 0 تبصرے 491 مناظر
492

افشائے راز

’’میری لگدی کسے نہ ویکھی‘ تے ٹٹدی نوں جگ جاندا‘‘

’’یہ آپ نے گانا کیوں شروع کر دیا ہے‘‘

’’ہر آدمی گاتا اور روتا ہے۔ کونسا گناہ کیا ہے؟‘‘

’’کل آپ غسل خانے میں بھی یہی گیت گا رہے تھے‘‘

’’غسل خانے میں تو ہر شریف آدمی اپنی استطاعت کے مطابق گاتا ہے۔ اس لیے کہ وہاں کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ میرا خیال ہے‘ تمھیں میری آواز پسند نہیں آتی‘‘

’’آپ کی آواز تو ماشاء اﷲ بڑی اچھی ہے‘‘

’’مجھے بنا رہی ہو۔ مجھے اس کا علم ہے کہ میں کُن سرا ہوں‘ میری آواز میں کوئی کشش نہیں۔ کوئی بھی اسے پھٹے بانس کی آواز کہہ سکتا ہے‘‘

’’مجھے تو آپ کی آواز بڑی سریلی معلوم ہوتی ہے‘ باقی اﷲ بہتر جانتا ہے۔ لیکن میں پوچھتی ہوں ‘ ہر وقت یہ پنجابی بولی وردِ زبان کیوں رہتی ہے‘‘

’’مجھے اچھی لگتی ہے۔ بیگم تم کو اگر ادب اور شعر سے ذرا سا بھی شغف ہو۔ ‘‘

’’یہ شغف کیا بلا ہے۔ آپ ہمیشہ ایسے الفاظ میں گفتگو کرتے ہیں جسے کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا۔ ‘‘

’’شغف کا مطلب۔ بس تم یہ سمجھ لو۔ کہ اس کا مطلب لگاؤ ہے‘‘

’’مجھے شاعری سے لگاؤ کیوں ہو۔ ایسی واہیات چیز ہے‘‘

’’یعنی شاعری بھی اک چیز ہو گئی۔ یہ تمہاری بڑی زیادتی ہے۔ فرصت کے لمحات میں اپنے اندر ذوق پیدا کیا کرو‘‘

’’چھ بچے پیدا کر چکی ہوں۔ اب میں اور کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتی‘‘

’’میں نے تم سے کئی مرتبہ کہا کہ معاملہ ختم ہونا چاہیے‘ پر تم ہی نہیں مانیں۔ چھ بچے پیدا کر کے تم تھک گئی ہو‘ تمہارے پڑوس میں مسز قیوم رہتی ہیں

’’اس کے گیارہ بچے ہیں‘‘

’’اس کا مطلب ہے کہ میں بھی گیارہ ہی پیدا کروں‘‘

’’میں نے یہ کب کہا ہے۔ میں تو ایک کا بھی قائل نہیں تھا۔ ‘‘

’’میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ جب میرے بچہ نہ ہوتا تو آپ اسی بہانے سے دوسری شادی کر لیتے‘‘

’’میں تو ایک ہی شادی سے بھرپایا ہوں۔ تم ساری زندگی کے لیے کافی ہو۔ میں دوسری شادی کے متعلق سوچ ہی نہیں سکتا‘‘

’’اور یہ پنجابی بولی کس لیے گائی جا رہی تھی‘‘

’’بھئی‘ میں کہہ چکا ہوں کہ مجھے یہ پسند ہے۔ تمھیں ناپسند ہو تو میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ میری لگدی کسے نہ ویکھی۔ تے ٹٹدی نوں جگ جاندا‘‘

’’اس بولی میں آپ کو کیا لذت محسوس ہوتی ہے‘‘

’’میں اس کے متعلق وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا‘‘

’’آپ نے اب تک کوئی بات وقوث سے نہیں کہی‘‘

’’وقوث نہیں۔ وثوق۔ یعنی یقین کے ساتھ‘‘

’’آپ نے ابھی تک کوئی بات ایسی نہیں کی جس میں یقین پایا جاتا ہو‘‘

’’لو ‘ آج یہ نئی بات سُنی۔ میری باتوں پر آپ کو یقین کیوں نہیں آتا۔

’’مردوں کی باتوں کا اعتبار ہی کیا ہے؟‘‘

’’عورتوں کی باتوں کا اعتبار ہی کیا۔ گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ۔ آپ ہی پھاڑتی ہیں‘ آپ ہی رفو کرتی ہیں‘ سمجھ میں نہیں آتا یہ آج کی برہمی کس بات پر ہے۔ ‘‘

’’آپ ایسے واہیات گیت گاتے رہیں اور میں چپ رہوں۔ اب سے دُور قرآن درمیان‘ آپ نے ہمیشہ مجھ سے بے اعتنائی کی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کو غزلوں اور گیتوں سے اتنی دلچسپی کیوں ہے۔ ابھی پچھلے دنوں آپ مسلسل یہ شعر گنگناتے رہے: سُنا ہے مہ جبینوں کوبھی کچھ کچھ مروّت کے قرینے آ رہے ہیں مجھے اس پر سخت اعتراض ہے۔ کوئی شریف آدمی ایسے شعر نہیں گاتا۔ آپ: ؂ تیری ذات ہے اکبری سروری میری بار کیوں دیر اتنی کری نہیں گاتے‘‘

’’لاحول ولا۔ تم بھی کیسی اوٹ پٹانگ باتیں کرتی ہو‘‘

’’یہ باتیں گویا آپ کے نزدیک اوٹ پٹانگ ہیں؟۔ اس لیے کہ پاکیزہ ہیں؟‘‘

’’دنیا میں ہر چیز پاکیزہ ہے‘‘

’’آپ بھی؟‘‘

’’میں تو ہمیشہ صاف ستھرا رہتا ہوں‘ تم نے کئی مرتبہ اس کی تعریف کی ہے‘ دن میں دو مرتبہ کپڑے بدلتا ہوں‘ سخت سردی بھی ہو غسل کرتا ہوں‘ تم تو تین چار دن چھوڑ کے نہاتی ہو‘ تمھیں پانی سے نفرت ہے‘‘

’’اجی واہ۔ میں تو ہر ہفتے باقاعدہ نہاتی ہوں‘‘

ہر ہفتے کا نہانا تو سفید جھوٹ ہے۔ قرآن کی قسم کھا کے بتاؤ ‘ تمھیں نہائے ہوئے کتنے دن ہو گئے ہیں‘‘

’’میں قرآن کی قسم کھانے کے لیے تیار نہیں۔ آپ بتائیے کب غسل کیا تھا‘‘

’’آج صبح‘‘

’’جھوٹ۔ آپ کا اول جھوٹ‘ آخر جھوٹ۔ آج صبح تو نل میں پانی ہی نہیں تھا۔ میں نے ساڑھے نو بجے کے قریب دو مشکیں منگوائی تھیں‘‘

’’میں بھول گیا۔ واقعی آج میں نے غسل نہیں کیا‘‘

’’آپ کو بھول جانے کا مرض ہے‘‘

’’بھولنا انسان کی فطرت ہے۔ اس پر تمھیں اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔ چند روز ہوئے تم دس کا نوٹ کہیں رکھ کے بھول گئی تھیں اور مجھ پر الزام لگایا کہ میں نے چوری کر لیا ہے۔ یہ کتنی بڑی زیادتی تھی‘‘

’’جیسے آپ نے میرے روپے کبھی نہیں چُرائے۔ پچھلے مہینے میری الماری سے آپ نے سو روپے نکالے اور غائب کر گئے‘‘

’’ہوسکتا ہے وہ کسی اور نے چُرائے ہوں۔ اگر تمہیں مجھ پر شک تھا تو بتا دیا ہوتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تُم نے وہ سوروپے کا نوٹ کسی محفوظ جگہ رکھا ہواور بعد میں بُھول گئی ہو۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے۔ ‘‘

’’کب؟‘‘

’’پچھلے سال اسی مہینے تُم نے پانچ سو روپے کے نوٹ اپنے پلنگ کے بستر کے نیچے چھپا رکھے تھے اور تم اُن کے متعلق بالکل بُھول گئی تھیں۔ مجھ پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ میں نے چرائے ہیں۔ آخر میں نے ہی تلاش کر کے نکالے اور تمھارے حوالے کردیے‘‘

’’کیا پتا ہے کہ آپ نے چرائے ہوں اور بعد میں میرے شور مچانے پر اپنی جیب سے نکال کر بستر کے نیچے رکھ دیے ہوں۔ ‘‘

’’میری سمجھ میں تمہاری یہ منطق نہیں آتی‘‘

’’آپ کی سمجھ میں تو کوئی چیز بھی نہیں آتی۔ کل میں نے آپ سے کہا تھاکہ دہی کھانا آپ کے لیے مفید ہے، لیکن آپ نے مجھے ایک لکچر پلا دیا کہ دہی فضول چیز ہے‘‘

’’دہی تو میں ہر روز کھاتا ہوں‘‘

’’کتنا کھاتے ہیں‘‘

’’یہی، کوئی آدھ سیر‘‘

’’میں ہر روز سیر منگواتی ہوں۔ باقی پڑا جھک مارتا رہتا ہے‘‘

’’دہی کو جھک مارنے کی کیا ضرورت ہے۔ جو بچ جاتا ہے اُس کی تم کڑھی بنا لیتی ہو‘‘

’’میں دہی کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ کڑھی بناتی ہوں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میں سلیقہ شعار عورت ہوں۔ میں نے آپ سے صرف اتنا پوچھا تھا کہ آپ آج کل ایک خاص پنجابی بولی کیوں ہر وقت گاتے رہتے ہیں۔ ‘‘

’’اس لیے کہ مجھے پسند ہے‘‘

’’کیوں پسند ہے؟۔ اس کی وجہ بھی تو ہونی چاہیے‘‘

’’تمہیں کالا رنگ کیوں پسند ہے۔ اس کی وجہ بتاؤ۔ تمھیں بھنڈیاں مرغوب ہیں۔ کیوں؟ تمھیں سینما دیکھنے کاشوق ہے۔ اس کا جواز پیش کرو۔ تم لٹھے کی بجائے ریشم کی شلواریں پہنتی ہو۔ اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘

’’آپ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ مجھ سے اس قسم کے سوال کریں۔ میں اپنی مرضی کی مالک ہوں۔ ‘‘

’’اپنی مرضی کا مالک میں بھی ہوں۔ کیا مجھے یہ حق حاصل نہیں کہ جو شعر بھی مجھے پسند ہو، اپنی بھونڈی آواز میں دن رات گاتا رہوں۔ ‘‘

’’مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن میں سمجھتی ہوں۔ ‘‘

’’رُک کیوں گئیں۔ ‘‘

’’دیکھیے۔ آپ میری زبان نہ کھلوائیے۔ میں نے آج تک آپ سے کچھ نہیں کہا‘ حالانکہ میں سب کچھ جانتی ہوں۔ ‘‘

’’تم میرے متعلق کیا جانتی ہو‘‘

’’سب کچھ‘‘

’’کچھ مجھے بھی بتادو، تاکہ میں اپنے متعلق کچھ جان سکوں۔ میں تو سالہاسال کے غوروفکر کے بعد بھی اپنے متعلق کچھ جان نہ سکا‘‘

’’آپ کو اُس پنجابی بولی میں جو آپ مسلسل گنگناتے رہتے ہیں۔ سب کچھ جان سکتے ہیں۔ ‘‘

’’تم اس قدر شاکی کیوں ہو‘‘

’’ہر مرد بے وفا ہوتا ہے‘‘

میں نے تم سے کیا بیوفائی کی ہے۔ اصل میں عورتیں جا و بے جا اپنے شوہروں پر شک کرتی رہتی ہیں۔ ‘‘

ٹھہریے۔ دروازے پر دستک ہوئی ہے۔ میرا خیال ہے‘ ڈاکیا ہے‘‘

’’یہ خط میرا ہے۔ لاؤ ادھر‘‘

’’میں کھولتی ہوں۔ پڑھ کے آپ کے حوالے کر دُوں گی‘‘

’’تمھیں میرے خط پڑھنے کا کوئی حق حاصل نہیں‘‘

’’میں ہمیشہ آپ کے خط پڑھتی رہی ہوں۔ یہ حق آپ نے کب سے چھین لیا؟‘‘

’’اچھا یہ بتا دو کہ خط کس کا ہے‘‘

’’آپ ہی کا ہے؟‘‘

’’کس نے لکھا ہے؟‘‘

’’آپ کی ایک سہیلی ہے۔ جس کا نام عذرا ہے۔ وہ پنجابی بولی جو آپ گاتے پھرتے ہیں اس کاغذ کی پیشانی پر لکھی ہے میری لگدی کسے نہ دیکھی وے۔ تے ٹُٹدی نوں جگ جاندا یہ ٹوٹ ہی جائے تو بہتر ہے۔ 15 مئی 1954

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک بار الکشن میں
  • مسٹر حمیدہ
  • کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
  • بنام سید بدر الدین احمد المعروف بہ فقیر صاحب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پرمیشر سنگھ
پچھلی پوسٹ
سہائے

متعلقہ پوسٹس

ادب کی روشنی میں اُردو

اکتوبر 14, 2025

شادی کی دعوت

نومبر 19, 2019

بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو!

دسمبر 7, 2020

زندگی

اگست 19, 2025

چکوترا ۔ بیماریوں کے خلاف موثر غذا

نومبر 14, 2021

موج دِین

جون 11, 2016

21 شہادتیں اور ایک قوم کی آنکھوں میں نمی

جون 13, 2026

سچ کی جیت

اکتوبر 12, 2025

حسینیت کا پیغام – انسانیت کے نام!

ستمبر 7, 2021

فیلڈ مارشل کا وژن

نومبر 27, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عیدکادن

جنوری 14, 2021

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

اپریل 28, 2026

ڈارون کا نظریہء ارتقاء اورجدید سائنس

دسمبر 20, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں