758
کیا سمجھتے ہو جناب ٹکڑے ٹکڑے کر کے
یہ میرا دل تھا تمھارے باپ کی جاگیرتو نہیں
اک طوفان برپا کر دیا گھر کے اندر
تم مکین تھے اس کے کوئی راہگیر تو نہیں
رخ پہ پڑتے ہی مل جائے سکوں ساجیسے
نگاہ یار عطا ہوتی ہے کوئی شمشیر تو نہیں
چاہتوں کے بٹوارے کا سوال کر کے آئی ہوں
حصّےدار بننے گئی تھی کوئی فقیر تو نہیں
عورت ہوں جزبات کی ملکہ ٹھری
جو لٹکتی ہو دیوار پہ وہ تصویر تو نہیں
جیسے گیے ہومڑ کے آ بھی سکتے ہو
خالصتا ضد تھی تیری پتھر پہ لکیر تو نہیں
ٹھنڈے چشمے اونچے پربت،پیڑاور دریا لیکن
دل اب یہ کھنڈر سا ہے وادی بے نظیر تو نہیں
بےحسی،بےوفائی پس پردہ رکھی اس نے
تہمینہ جانتی تھی سب وہ بے ضمیر تو نہیں
تہمینہ مرزا
