339
اتار لفظوں کا اک ذخیرہ غزل کو تازہ خیال دے دے
خود اپنی شہرت پہ رشک آئے سخن میں ایسا کمال دے دے
ستارے تسخیر کرنے والا پڑوسیوں سے بھی بے خبر ہے
اگر یہی ہے عروج آدم تو پھر ہمیں تو زوال دے دے
تری طرف سے جواب آئے نہ آئے پرواہ نہیں ہے اس کی
یہی بہت ہے کہ ہم کو یا رب! تو صرف اذن سوال دے دے
ہماری آنکھوں سے اشک ٹپکیں ، لبوں پہ مسکان دوڑتی ہو
جو ہم نے پہلے کبھی نہ پایا ، تو اب کے ایسا ملال دے دے
کبھی تمھارے قریب رہ کر بھی دوریوں کے عذاب جھیلیں
کبھی کبھی یہ تمھاری فرقت بھی ہم کو لطف وصال دے دے
تیمور حسن تیمور
