329
صدائے منجمد
ان چھوئی آواز جو بیٹھی رہی سینے کے بیچ
کل محبت کی کوئی دستک نہ اس کو چھو سکی
اس کے سارے دائرے
سمٹے رہے ، سہمے رہے
بارہا ایسی کوئی گم نام سی پرسوز لے
درد کی صورت
مرے سینے میں جم کر رہ گئی
بارہا سوچا کہ اس دھن کو کوئی انداز دوں
پیار کے دف کی صدائیں پھونک کر
ان کے اندر پھیلتی آواز کو پہچان دوں
بارہا دیکھا کہ اس گم نام سی آواز میں
تھرتھرا اٹھا مرے بیتےدنوں کا وہ دھواں
جس کی نبضوں میں تھرکتی تھی تری یادوں کی لے
جس کے اندر کھنکھنائیں
اس دھنک کی چوڑیاں
جس کی ساتوں کھڑکیاں کھلتی ہیں آدھی رات کو
بارہا سوچا کہ اس دھن میں اٹھیں وہ مستیاں
جن کی آوازوں میں شامل ہوں
تری پایل کے گیت
کاش میں ایسی کسی آواز کے پر کھولتا
کاش میں ایسی کسی دھن میں اتر کر بولتا
کیا کروں
دل سے کوئی بھی ایسی دھن اٹھتی نہیں
شہزاد نیر
