خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےکھدر کا کفن
اردو افسانےاردو تحاریرخواجہ احمد عباس

کھدر کا کفن

ایک اردو افسانہ از خواجہ احمد عباس

از سائیٹ ایڈمن جنوری 22, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 22, 2020 0 تبصرے 600 مناظر
601

کھدر کا کفن

تیس برس کی بات ہے جب میں بالکل بچّہ تھا۔ ہمارے پڑوس میں ایک غریب بوڑھی رہتی تھی۔ اس کا نام تو حکیمن تھا مگر لوگ اُسے حکّو کہہ کر پُکارتے تھے۔ اس وقت شاید ساٹھ برس کی عمر ہو گی، جوانی میں ہی ودھوا ہو گئی تھی اور عمر بھر اپنے ہاتھ سے کام کر کے اپنے بچوں کو پالا تھا۔ بوڑھی ہو کر بھی وہ سورج نکلنے سے پہلے اٹھتی تھی۔ گرمی ہو یا جاڑا۔ ابھی ہم اپنے اپنے لحافوں میں دبکے پڑے ہوتے کہ اس کے گھر سے چکّی کی آواز آنی شروع ہو جاتی۔ دن بھر جھاڑو دیتی، چرخہ کاتتی، کپڑا بنتی، کھانا پکاتی، اپنے لڑکے لڑکیوں، پوتے نواسوں کے کپڑے دھوتی۔ اس کا گھر بہت ہی چھوٹا تھا۔ ہمارے اتنے بڑے آنگن والے گھر کے مقابلے میں وہ جوتے کے ڈبّے جیسا لگتا تھا۔ دو کوٹھریاں، ایک پتلا سا دالان اور نام کے واسطے دو تین گز لمبا چوڑا صحن مگر اتنا صاف ستھرا اور ایسا لِپا پُتا رکھتی تھی کہ سارے محلے میں مشہور تھا کہ حکّو کے گھر کے فرش پر کھیلیں بکھیر کر کھاسکتے ہیں۔ صبح سویرے سے لے کر رات گئے تک وہ کام کرتی تھی پھر بھی جب کبھی حکّو ہمارے گھر آتی ہم اسے ہشّاش ہی پاتے۔ بڑی ہنس مکھ تھی وہ۔ مجھے اس کی صورت اب تک یاد ہے۔ گہرا سانولا رنگ جس پر اُس کے سفید بگلا سے بال خوب کھلتے تھے۔ اس کی کاٹھی بڑی مضبوط تھی۔ اس کی کمر مرتے دم تک نہیں جھکی۔ آخر دنوں میں کئی دانت ٹوٹ گئے تھے جس سے بولنے میں پوپلے پن کا انداز آ گیا تھا۔ بڑے مزے کی باتیں کرتی تھی اور جب ہم بچّے اسے گھیر لیتے تو کبھی تین شہزادوں، کبھی سات شہزادوں، کبھی جِنوں اور پریوں کی کہانی سناتی………… وہ پردہ نہیں کرتی تھی۔ اپنا سارا کاروبار خود چلاتی تھی۔ حکّو پڑھی لکھی بالکل نہیں تھی، نہ اُس نے عورتوں مردوں کی برابری کا اصول سنا تھا، نہ جمہوریت نہ اشتراکیت کا، پھر بھی حکّو نہ کسی مرد سے ڈرتی تھی نہ کسی امیر، رئیس، افسر اور داروغہ سے ڈرتی تھی۔ حکّو نے عمر بھر محنت کر کے اپنے بال بچّوں کے لیے بہت پیسے جمع کیے تھے۔ بے چاری نے بینک کا تو نام نہ سنا تھا۔ اس کی ساری پونجی (جو شاید سو دو سو روپے ہو، ) چاندی کے گہنوں کی شکل میں اس کے کانوں، گلے اور ہاتھوں میں پڑی ہوئی تھی۔ چاندی کی بالیوں سے اُس کے جھکے ہوئے کان مجھے اب تک یاد ہیں۔ ان گہنوں کو وہ جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتی تھی۔ کیوں کہ یہ ہی اُس کے بڑھاپے کا سہارا تھے۔ مگر ایک دن سب محلے والوں نے دیکھا نہ حکّو کے کان میں بالیاں ہیں، نہ اُس کے گلے میں ہنسلی، نہ اُس کے ہاتھوں میں کڑے اور چوڑیاں پھر بھی اُس کے چہرے پر وہی پرانی مسکراہٹ تھی اور کمر میں نام کو بھی خم نہیں۔ ہوا یہ کہ ان دنوں مہاتما گاندھی، علی برادران کے ساتھ پانی پت آئے۔ ہمارے نانا کے مکان میں انھوں نے تقریریں کیں۔

ترکِ موالات اور سوراج کے بارے میں حکو بھی ایک کونے میں بیٹھی ہوئی سنتی رہی۔ بعد میں چندہ جمع کیا تو اس نے اپنا سارا زیور اتار کر ان کی جھولی میں ڈال دیا اور اس کی دیکھا دیکھی اور عورتوں نے بھی اپنے اپنے زیور اتار کر چندے میں دے دیے۔ اس دن سے حکّو ’’خلافتی‘‘ ہو گئی۔ ہمارے ہاں آ کر نانا ابّا سے خبریں سنا کرتی اور اکثر پوچھتی…………. یہ انگریزوں کا راج کب ختم ہو گا؟‘‘ خلافت یا کانگریس کے جلسے ہوتے تو ان میں بڑے چاؤ سے جاتی اور اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق سیاسی تحریک کو سمجھنے کی کوشش کرتی……… مگر عمر بھر کی محنت سے اس کا جسم کھوکھلا ہو چکا تھا۔

پہلے آنکھوں نے جواب دیا، پھر ہاتھ پاؤں نے حکّو نے گھر سے نکلنا بند کر دیا مگر چرخہ کاتنا نہ چھوڑا۔ عمر بھر کی مشق کے سہارے آنکھوں بغیر بھی کپڑا بُن لیتی۔ بیٹوں، پوتوں نے منع کیا تو اس نے کہا کہ وہ یہ کھدّر اپنے کفن کے لیے بُن رہی ہے۔ پھر حکّو مر گئی۔ اس کی آخری وصیت یہ تھی کہ ’’مجھے میرے بنے ہوئے کھدر کا کفن دینا۔ اگر انگریزی کپڑے کا دیا تو میری روح کو کبھی چین نصیب نہ ہو گا۔‘‘ ان دنوں کفن لٹھّے کے دیے جاتے تھے کھدّر کا پہلا کفن حکو کو ہی ملا۔ اس کا جنازہ اٹھا تو اس کے چند رشتے دار اور دو تین پڑوسی تھے۔ نہ جلوس نہ پھول نہ جھنڈے بس ایک کھدّر کا کفن۔

٭٭٭

خواجہ احمد عباس

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وارسا کی شرارتی دیویاں – پہلی قسط
  • بھٹوں پر کام کرنے والے مسیحی مزدوروں کے نام
  • رمضان واپس آ رہا ہے، رمضان واپس نہیں آرہا
  • اُترن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ابابیل
پچھلی پوسٹ
نیلی ساڑھی

متعلقہ پوسٹس

کبھی خوشی کبھی غم

مئی 25, 2024

ادھیڑ عمر کی عورت

جنوری 4, 2022

سفید کبوتری از زکریا تامر​

مئی 17, 2024

گرہن

مارچ 30, 2020

عقل و عقیدہ کے ’’مابین‘‘

جولائی 5, 2024

کتھا سرکس

جون 15, 2020

ایک نیا تماشا، ایک نئی مصیبت

جنوری 5, 2022

محسن خالد محسن کی نظم”میں غلام نہیں ہوں”

اپریل 18, 2026

اصل وراثت

دسمبر 30, 2020

کامیاب خارجہ پالیسی

ستمبر 21, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

معجزاتی ملک اور کرشماتی لوگ!

اپریل 15, 2020

پاکستان کی ترقی اور قیادت کا...

مارچ 30, 2026

عالمی دیگ

مارچ 1, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں