376
تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے
یہ دشت مجھے نیا نہیں ہے
میں کون سے دور میں ہوں زندہ
یہ راز ابھی کھلا نہیں ہے
جو مجھ کو تری طرف بلائے
وہ عشق ابھی ہوا نہیں ہے
میں وقت سے پہلے آ گیا ہوں
یہ وقت ابھی مرا نہیں ہے
سب اپنی کہانی کہہ رہے ہیں
کاغذ پہ تو کچھ لکھا نہیں ہے
یہ آگ جلی ہوئی ہے کیسے
جب اس میں کوئی جلا نہیں ہے
میرا تو قبیلہ کھو چکا ہے
لیکن تو مجھے ملا نہیں ہے
