خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ ابنِ انشاءکسٹم کا مشاعرہ
ابنِ انشاءاردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریر

کسٹم کا مشاعرہ

ابن انشا کی مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 14, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 14, 2019 0 تبصرے 413 مناظر
414

کسٹم کا مشاعرہ

کراچی میں کسٹم والوں کا مشاعرہ ہوا توشاعرلوگ آؤبھگت کےعادی دندناتے پان کھاتے،مونچھو پرتاؤدیتےزلف جاناں کی ملائیں لیتےغزلوں کے بقچےبغل میں مارکر پہنچ گئے۔ان میں سے اکثر کلاتھ ملوں کے مشاعروں کے عادی تھے۔جہاں آپ تھان بھر کی غزل بھی پڑھ دیں اوراس کے گز گز پرمکررمکررکی مہر لگادیں تب بھی کوئی نہیں روکتا۔ پھر تانا بانا کمزور بھی ہو تو ذراسا ترنم کا کلف لگانےسےعیب چھپ جاتا ہے۔ لیکن کسٹم والوں کے قاعدے قانون بڑے کڑے ہوتے ہیں۔ منتظمین نےطےکردیا تھا کہ ہر شاعر زیادہ سے زیادہ ایک غزل وہ بھی لمبی بحر کی نہیں، درمیانہ بحر کی بلا کسٹم محصول پڑھ سکے گا،جس کا حجم پانچ سات شعر سے زیادہ نہ ہو۔ پیچ یہ آن پڑا کہ مصرعہ ایک نہیں پانچ دیئے گئے تھے۔ ایک صاحب نے نیفے میں ایک لمبی سی مثنوی اڑس رکھی تھی۔ ایک اپنے موزوں میں رباعیاں چھپا کرلے جارہے تھے۔ لیکن کسٹم کے پریونیٹو افسروں کی تیز نظروں سے کہاں بچ سکتے تھے۔ان فرض شناسوں نے سب کو آن روکا اور سب کے گریبانوں میں جھانکا۔ استاد ہمدم ڈبائیوی پر بھی انہیں شک ہوا۔ استاد نے ہر چند کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ یہی پانچ سات شعر ہیں لیکن کسٹم والوں نے ان کے کرتے کی لانبی آستیں میں سےان کے تازہ ترین دیوان’مار آستین‘کا ایک نسخہ برآمد کر ہی لیا۔ اتنی احتیاطوں کے باوجود سنا ہے۔بہت سے لوگ اپنا کلام ناجائز طور پر حافظے میں رکھ کر اندر گھس گئے اور موقع پاکر بلیک میں داد کھری کی۔یعنی بلا سامعین رہائش کے اسے دوبارہ سہ بارہ پڑھا۔

ہمارے کرم فرما ملک الشعراء گھڑیال فیروز آبادی نے ہمیں فون کیا تم بھی آٹھوں گانٹھ شاعر ہو۔ موقع اچھا ہے۔ ایک غزل کہ لو۔ گھڑیال صاحب نغز گویا شاعراورگھڑیوں کےتاجر ہیں۔ فیروز آبادی اس نسبت سے کہلاتے ہیں کہ فیروز آباد تھانے کی حوالات میں کچھ روز رہ چکے ہیں۔ ہم نے عذر کیا کہ ہمارے پاس شعر کہنے کے لئے کسٹم والوں کا پرمٹ یا مشاعرے کا دعوت نامہ نہیں لہٰذا مجبوری ہے۔بولے:اس کی فکر نہ کرو میں تمہیں کسی طوراسمگل کردوں گا۔ ہم نے کہا۔ہم کوئی گھڑی تھوڑا ہی ہیں۔ منغض ہو کر بولے: یہ کیا ٹک ٹک لگا رکھی ہے۔غزل لکھو۔

ہم نےاپنےکوشاعری کی چابی سےکوکتےہوئے پوچھا۔ مصرع طرح کیا ہے؟ فرمایا:ایک نہیں پانچ ہیں۔ ایک تو یہی ہے:

؎ کون جیتا ہےتری زلف کےسر ہونےتک

ہم نے کہا: اس کا قافیہ ذرا ٹیڑھا ہے۔ ہونے تک، کونے تک،بونےتک کیا زرعی مضامین باندھنے ہیں اس میں؟

گھڑیال صاحب نے وضاحت کی کہ نہیں، اس کے قوافی ہیں سر،خر، شروغیرہ۔

ہمیں اس مصرعے سے کچھ شرکی بو آئی۔ لہٰذا ہم نےکہا کوئی دوسرامصرع بتائیے۔ یہ نظیراکبرآبادی کا تھا۔

؎ طور سے آئے تھے ساقی سن کے میخانے کو ہم

یہ بھی ہمیں نہ جچا۔ ہم نے کہا۔ اگراس کےقافیے ہیں:سن کے،دھن کے۔ بن کے وغیرہ تو اس سے ہمیں معاف رکھئے۔

اس پر گھڑیال صاحب نے ہمیں تیسرا مصرع دیا۔

؎ ہائے کیا ہوگیا زمانےکو

یہ کس کا مصرع ہے؟ ہم نے دریافت کیا

جواب ملا: مہمل دہلوی کا

‘‘مہمل دہلوی؟’’یہ کون صاحب تھے؟‘‘ ہم نے حیران ہو کر پوچھا۔پتہ چلا کہ سننے میں ہم سے غلطی ہوئی۔ گھڑیال صاحب نے مومن دہلوی کہا تھا۔ چوتھا اور پانچواں مصرع طرح بھی ہماری طبع رواں کو پسند نہ آئے۔ پھر ہماری صلح کل طبیعت کو یہ گوارا نہ ہوا کہ ایک مصرع لیں اور باقیوں کو چھوڑدیں۔ بڑی ترکیب سے ایک غزل تیارکی جو بیک وقت ان پانچوں بحروں اور پانچوں زمینوں میں تھی۔یوں کہ ایک مصرع ایک بحر میں دوسرا دوسری میں۔ ہمارا خیال تھا اس سے سبھی خوش ہوں گے۔ لیکن کوئی بھی نہ ہوا۔ جانے مس بلبل کیسے نبھا لیتی ہیں اوراس شاعر کا کیا تجربہ ہے جس نے اقبال کے کلام میں قلم لگا کر یہ شاہکار تخلیق کیا ہے۔

غلامی میں نہ کام آتی ہیں تقدیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

اہاجی ۔زنجیریں۔زنجیریں۔زنجیریں

لئے آنکھوں میں سرور کیسے بیٹھے ہیں حضور

جیسے جانتے نہیں پہچانتے نہیں

بعض محکمے شاعری سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں، بعض کم،ایکسائز یعنی آبکاری کی فضا شاعری کے لئے زیادہ موزوں معلوم نہیں ہوتی ہمارے دوست میاں مولا بخش ساقی نکودری پہلے اسی محکمے میں تھے۔ ایک روز کہیں ان کا ساقی نامہ کسی رسالے میں چھپا ہوا ان کے ڈائریکٹر صاحب نے دیکھ لیا فوراً بلایا اور جواب طلب کیا کہ آپ سارے محکمہ کے کام پر پانی پھیر رہے ہیں۔ حکومت اتنا روپیہ ناجائز شراب کی روک تھام پر خرچ کرتی ہے اور آپ کھلم کھلا لکھتے ہیں۔

خدا ساراساقیا مجھے

شراب خانہ ساز دے

یا نوکری چھوڑیئے یا شاعری چھوڑیئے۔ شاعری تو چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافرلگی ہوئی۔ نوکری چھوڑ کرجوتوں کی دوکان کرلی۔

کسٹم والوں کے مصرع ہائےطرح برےنہیں لیکن ہماری سفارش ہےکہ آئندہ کوئی محکمہ مشاعرہ کرائے تو مصرع طرح کے اپنے کام کی مناسبت سے رکھے۔ مثلاً کسٹم کے مشاعرے کے لیے یہ مصرع زیادہ موزوں رہے گا۔

؎ دادرحشر مرا نامۂ اعمال نہ دیکھ

؎ حج کا ثواب نذر کروں گا حضورکی

؎ جتنےعرصےمیں مرالپٹا ہوا بسترکھلا۔ وغیرہ

اگلے ہفتے گوردھن داس کلاتھ مارکیٹ میں کپڑے والوں کی طرف سےجومشاعرہ ہورہا ہےاس کےلئےہم یہ مصرعےتجویزکریں گے۔

؎ ہائے اس چارہ گرہ، کپڑے کی قسمت غالبؔ

؎ یا اپنا گریباں چاک، یا دامن یزداں چاک

؎ اندر کفن کے سر ہے تو باہر کفن کے پاؤں

دھوبی، ڈرائی کلینر، ٹیلرماسٹرحضرات مشاعرہ کرائیں توان کے حسب مطلب بھی اساتذہ بہت کچھ کہہ گئے ہیں۔ منجملہ

؎ دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہوگئے

؎ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

؎ تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

؎ دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بندِ قبا دیکھ

موٹرڈرائیورحضرات تو اپنے بس یا ٹرک کی باڈی پرلکھا ہوا کوئی مصرع بھی چن سکتے ہیں۔ جیسے ؎ سامان سو برس کے ہیں کل کی خبر نہیں۔ ورنہ یہ بھی ہوسکتا ہے!

نے ہاتھ باگ پر ہے، نے پا ہے رکاب میں

سب سےزیادہ آسانی گورکنوں کےلیےہےکیونکہ اردوشاعری کا ایک بہت بڑا حصہ کفن،دفن،گورکنی اورمردہ شوئی کےمتعلق ہے۔ہماری شاعری میں مردےبولتےہیں اورکفن پھاڑکربولتےہیں۔ بعضے تو منکر نکیر تک سے کٹ حجتی کرتے ہیں۔

چھیڑو نہ میٹھی نیند میں اے منکرونکیر

سونے دو بھائی میں تھکا ماندہ ہوں راہ کا

اسی طرح ہمارے شاعروں نے بہت کچھ حکیموں، ڈاکٹروں اور عطائیوں کے بارے میں کہہ رکھا ہے۔ کل کلاں میڈیکل ایسوسی ایشن یا طبی کانفرنس والے یا جڑی بوٹی سنیاسی ٹونکا ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سائیں اکسیر بخش کشتہؔ مشاعرہ کرائیں توحسب ذیل تیر بہدف مصرعے کام میں لاسکتے ہیں:

؎ یا الہٰی مٹ نہ جائے درد دل

؎ آخر اس درد کی دوا کیا ہے

؎ پہلے تو روغن گل بھینس کے انڈے سے نکال اور

؎ مریض عشق پر رحمت خدا کی ۔ وغیرہ

فیملی پلاننگ کے محمکے نے پچھلے دنوں ڈھیروں نمیںو لکھوائی ہیں جن میں بعض میں ایسی تاثیر سنی ہے کہ کسی جوڑے کو پانی میں گھول کر پلا دیں تو نہ صرف ان کو بقیہ عمر کے لیے چھٹی ہوجائے بلکہ ان کی اگلی پچھلی سات نسلیں بھی لاولدہوجائیں ہمارے محکمہ زراعت اور آبپاشی نے ہمیں ذیل کے مصرعے بھیجے ہیں:

؎ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

؎ کھیتوں کو دے لو پانی، اب بہہ رہی ہے گنگا

؎ تُو برائے فصل کردن آمدی

جنگلات والوں کی پسند ملاحظہ ہو۔

؎ پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

؎ کانٹوں سے بھی نباہ کئے جارہا ہوں میں

؎ مجنوں جو مر گیا ہے تو صحرا اداس ہے

؎ ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

ایک مشاعرہ ہم ملتان کے چڑیا گھر میں پڑھ چکے ہیں جس کی طرحیں حسب ذیل تھیں

؎ لاکھ طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا

؎ کیا ہی کنڈل مار کر بیٹھا ہے جوڑا سانپ کا

؎ رگِ گل سے بلبل کے پر باندھتے ہیں

محکمے ہوگئے۔ اب اہل حرفہ کی بھی تو ضرورتیں ہیں۔کریانہ فروشوں کی عید ملن پارٹی ہونے والی ہے۔ اس کے لیے بھی مصرع طرح تجویز کردیں:

؎ وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

بار برایسوسی ایشن کے سالانہ مشاعرے کے لئے:

؎ کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

؎ زخم کے بڑھتے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گےکیا؟

ہاکرز فیڈریشن والوں نے بھی ہم سے مصرع مانگا تھا۔ ایک نہیں دو حاضر ہیں۔

؎ میں دل بیچتا ہوں، میں جاں بیچتا ہوں۔ اور

؎ بیٹھے ہیں رہگذر پہ ہم، کوئی ہمیں اٹھائےکیوں

ایک مصرع جوتے والوں کی نذر ہے:

؎ پاپوش میں لگادی کرن آفتاب کی

وکیل اس مصرع سے کام چلا سکتے ہیں

؎ مدعی لاکھ برا چاہے پہ کیا ہوتا ہے

اور قصاب حضرات کے لئے ہم نے :

؎ کاغذ پہ رکھ دیا ہے کلیجا نکال کے

ایک زمانے میں ہماری شاعری نے بادشاہوں اورنوابوں کی سرپرستی میں ترقی کی۔ایک مشہور شاعر فرخی کو تو بادشاہ وقت نے خوش ہو کر مویشیوں کا ایک گلہ انعام میں دے دیا تھا۔اس نے غالباً غزل گوئی چھوڑ چھاڑ کر دودھ بیچنے کا پیشہ اختیار کر لیا کیونکہ پھر اس کے خاندان میں کوئی شاعر ہم نے نہ سنا۔ ہمارے زمانے میں وارفنڈ والے، محکمہ زراعت والے، میلہ مویشیاں والے اس فن کے فروغ کا ذریعہ ہیں پھر کلاتھ ملوں والوں نے اس نیم جان کا پردہ ڈھکا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ انکم ٹیکس اور کسٹم والے بھی شاعری کی سرپرستی کی طرف توجہ کرنے لگے۔ ہمارے ایک دوست پولیس میں ہیں۔ انہوں نے ہمیں اطلاع دی ہے کہ وہ بھی اپنا دھوم دھامی مشاعرہ کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم نے کہا، اس میں خرچ بہت پڑتا ہے۔بولے یہ تم ہم پر چھوڑدو۔ پماراپٹے والا جہاں طلب نامہ لے کر پہنچا۔ شاعر اپنے خرچ پر رکشہ میں بیٹھ بھاگا آئے گا۔ کھانا اسے سامنے کے تندور والے مفت کھلائیں گے۔ اور شب بسری کے لئے جگہ ہماری حوالات میں بہت ہے۔ البتہ سنا ہے مشاعرے میں ہوٹنگ وغیرہ کرتے ہیں لوگ۔

ہم نے کہا۔ ہاں کرتے تو ہیں۔

بولے۔ اچھا پھر تو آنسو گیس کا بھی انتظام رکھنا ہوگا۔ آپ آئیں گے مشاعرے میں یا بھیجوں لال پگڑی والے کو ہتھکڑی دے کر؟

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بھارتی فالس فلیگ آپریشن کی سیاست
  • نابینا علمائے کرام
  • یوم نسواں، تبدیلی کا تخم
  • جدید الحاد
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا حادثہ
پچھلی پوسٹ
جنتری نئے سال کی

متعلقہ پوسٹس

نیا سال، نیا عزم – نئے ارادے!

جنوری 1, 2026

سنگم کا ٹینڈوا

نومبر 21, 2019

کفن چور

دسمبر 7, 2025

شعر وشاعری کیا ہے

جون 26, 2021

کیا اسلام دین، ہندو ہی تھا؟

جون 14, 2020

ٹیکنالوجی کا زمانہ اور ہمارا جمود

اکتوبر 28, 2025

ہوئے مر کے ہم جو رسوا

جنوری 2, 2020

معاصر اُردو غزل کا نمایندہ شاعر- ارشاد نیازی

جنوری 15, 2021

مجو بھیا

فروری 13, 2022

مندر والی گلی

جون 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جدید دور میں اردو زبان کی...

ستمبر 15, 2025

خدا اور رسول ﷺ بننے کی...

اپریل 26, 2025

پاکستان بھارت میچ: کھیل یا سیاسی...

ستمبر 21, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں