خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاماپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

از سائیٹ ایڈمن جون 19, 2026
از سائیٹ ایڈمن جون 19, 2026 0 تبصرے 87 مناظر
88

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
آج کی تحریر کی شروعات ایک حکایت سے کرتے ہیں جو معروف صوفی شاعر مصنف اور عالم حضرت محمد ابن محمد ابن حسین حسینی خطیبی بکری بلخی عرف رومی یعنی مولانا رومی کی ایک معروف ” مثنوی رومی ” سے لی گئی جس میں مولانا نے اپنے مخصوص انداز تحریر کے ساتھ مخصوص طریقے سے اس حکایت کو ہمارے لیئے ایک سبق ایک علم اور سیکھنے کے لیئے ایک بہترین بات کہی ہے کیونکہ اس دنیاوی عارضی زندگی میں ہمارا سب سے بڑا دشمن ہمارا اپنا ” نفس ” ہے اگر ہم نے اپنے نفس کو قابو میں نہ کیا اور قابو میں نہ رکھا تو یہ ہمیں ہماری ساری عبادتوں اور ریاضتوں کو ضائع کرواکر ہمارا ایمان ہم سے چھین سکتا ہے اور ہم ساری زندگی مسلمانوں والی زندگی گزار کر ایمان سے خارج ہوکر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں پھر ہمارا ٹھکانہ سوائے جہنم کے اور کچھ نہیں ہوگا ( اللہ تعالیٰ ہمارا خاتمہ ایمان کے ساتھ کرے ) آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔ آیئے اب ہم حکایت کی طرف بڑھتے ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ایک سپیرا سانپ پکڑ کر اپنی روٹی روزی کا سامان کیا کرتا تھا وہ ہمیشہ دن رات نئے اور زھریلے سانپوں کی تلاش میں جنگلوں ویرانوں اورصحراﺅں میں سرگرداں رھتا تھا ایک دفعہ جب برف باری کا موسم تھا تو برفباری کے موسم میں اسے ایک قوی الجثہ اژدھا یعنی بہت بڑا اژدھا مردہ حالت میں دکھائی دیا آج سے پہلے اس سپیرے نے اتنا بڑا اژدھا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اس کے دیکھنے سے اس کے دل پر ھیبت طاری ھوئی.. پھر خیال آیا کہ اگر اسے کسی طریقے سے اٹھا کر شہر میں لے جاﺅں تو تماشیائیوں کا ایک رش جمع ھو جائیگا اور میری آمدن میں بیش از بیش اضافہ ھو جائے گا.. سو وہ بڑی محنت اور مشقت سے اس مردہ اژدھے کو لیکر شہر میں آگیا اس کے اندر حوس تھی دولت کمانے کی وہ اژدھا کیا تھا بلکہ ایک طویل اور بہت بڑا ستون لگ رہا تھا لہذہ اس کو شہر تک لانے کے لیئے اس سپیرے کو موٹے موٹے رسوں کی ضرورت پڑ گئی پھر ان رسوں سے باندھ کر وہ سپیرا اس کو کھینچتا ہوا شہر لایا اور یہاں آکر اس نے اعلان کروایا کہ میں نے آج ایک بہت بڑے اژدھےکو اپنی جان مشکل میں ڈال کر قابو کیا لیکن یہاں لاتے ہوئے وہ راستے میں دم توڑ گیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں سپیرے کے اس کارنامے پر پورے شہر بغداد میں اس کی دھوم مچی ہوئی تھی اور کچھ ہی دیر میں لوگوں کا ایک جم غفیر لگ گیا سینکڑوں لوگ وہاں جمع ہوگئے وہ سپیرا لوگوں کو اس کا دیدار کرواتا اور ان سے پیسے بٹورتا تھوڑی ہی دیر میں اتنا رش ہوگیا کہ تل دھرنے کی جگہ بھی نہیں بچی دوسری طرف وہ سپیرا جس خطرناک اژدھے کو مردہ سمجھ رہا تھا حقیقت میں وہ مردہ نہیں بلکہ زندہ تھا سردی کی شدت اور برفباری کی وجہ سے اس کا جسم دراصل سن ہوگیا تھا لیکن لوگوں کے رش اور شہر کی گرم دھوپ کی وجہ سے اس کے جسم میں گرمی کی حرارت پیدا ہوگئی اور اچانک اس نے ایک جنبش لی اور یوں ہوش میں آتے ہی اس نے اپنا منہ کھول لیا بس پھر کیا تھا لوگوں کے لیئے یہ ایک ناقابل یقین منظر تھا اور بھگدڑ مچ گئی ‎اس سپیرے کے لیئے بھی یہ ایک ہلادینے والا منظر تھا بھگدڑ میں کئی لوگ کچلے گئے اس خطرناک اژدھے نے ساری رسیوں کو توڑ ڈالا جسے دیکھ کر سپیرے کے ہاتھ پائوں پھول گئے وہ سوچنے لگا کہ یہ کیا ہوگیا یہ میں کس بلا کو اٹھا لایا ہوں ابھی وہ کچھ سوچ ہی رہا تھا کہ اژدھے نے غار نما منہ کھولا اور اس سپیرے کو نگل لیا اور پھر ایسا بل کھایا کہ اس سپیرے کی ہڈیاں چور چور ہوگئیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ” مثنوی روم ” کے خالق حضرت مولانا رومی نے اس حکایت میں ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ دراصل ہمارے اندر موجود ہمارا نفس بھی ایک اژدھے کی مانند ہے ہم اپنے نفس کو مردہ سمجھ کر اپنی زندگی میں مصروف عمل ہیں اور جس دن یہ ہوش میں آگیا تو سب کچھ بہا کر لے جائے گا نفس کی حالت یہ ہے کہ اگر ہم اس کی غلامی میں زندگی بسر کرتے رہیں گے تو یہ ہوش میں آتے ہی ہمیں نگل جائے گا اور ہماری عبادات اور ہمارا ایمان ہم سے چھین کر چلاجائے گا اسی نفس کے بارے میں بابا بلھے شاہ فرماتے ہیں انسان اپنے نفس کو اپنے آگے کرکے خود اس کے پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے وہ نفس کو اپنا محبوب بنالیتا ہے جس کی وجہ سے یہ نفس ” نفس امارہ ” یعنی ( من چاہی زندگی ) بن جاتا ہے پھر اسے اچھے برے کا کچھ خیال نہیں رہتا جو اس کے دل میں آتا ہے وہ وہی کام کرتا ہے کیونکہ انسانی ذہن ماعوف ہو جاتا ہے اور اسے ندامت بالکل نہیں ہوتی وہ انسان کو غلط راستے پر چلا دیتا ہے جہاں صرف گڑھے ہی گڑھے ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے اس کا جسم ہچکولے کھاتا رہتا ہے اور جب تک نفس انسان کے آگے آگے رہے گا تو وہ انسان کو کبھی بھی سیدھی راہ پر چلنے نہیں دیگا وہ اپنی مرضی کرتے ہوئے آپ کو گمراہ کرتا رہے گا بابا فرماتے ہیں کہ اگر تم نفس امارہ سے بچنا چاہتے ہو تو جس طرح ایک قصائی کوئی بیل کاٹتا ہے اس طرح تم اس نفس کو ذبح کروادو اور کہو کہ اب ہمارا دل تجھ سے بھر چکا ہے کیونکہ تو نے ہمیں غلط راستے پر چلایا اور گمراہ کرتا رہا نفس یعنی شیطان کے اندر سب سے زیادہ پاور اس کا فریب ہے فریب کی طاقت سے بڑھ کر اس کے پاس کوئی طاقت نہیں ہوتی وہ فریب کے ذریعے انسان پر قابو پاتا ہے اور انسان کو اپنی طاقتوں سے اس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے بابا بلھے شاہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے نفس کو اپنے رب تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہوں جو مجھے سیدھی راہ پر چلا دیتا ہے یعنی پھر وہ نفس نفس امارہ نہیں رہتا بلکہ وہ نفس مطمئنہ بن جاتا ہے ( رب چاہی زندگی ) بس پھر میں اپنے آپ کو رب کی مرضی کے سپرد کردیتا ہوں اور وہ ہی کام کرنا جس کا رب نے حکم دیا ہے پھر کیا ہے نہ کبھی کوئی خاندانی دستور آڑے آیا اور نہ ہیں کوئی ذاتی خواہش بس اب میں اس کا غلام نہیں بلکہ وہ میرا تابع ہے کیونکہ میں نے اسے اپنے اوپر حاکم نہیں ہونے دیا بس پھر انسان وہی کرتا ہے جس کا رب تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہ ہی کامیابی ہے اپنے نفس امارہ کو مار کر اسے نفس مطمئنہ میں تبدیل کرنے کا نام ہی کامیاب زندگی ہے
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں نفس کی جنگ بڑی سخت ہوتی ہے خاص طور پر اج کے دور میں ہمارے اسلاف کی طرف جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے نفس کو کس طرح قابو میں رکھتے تھے ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی اصلاح کے لیے سخت محاسبہ کرتے تھے۔ ایک بار نفل نماز میں کچھ تاخیر ہوئی تو ایک باغ بطور سزا صدقہ کر دیا
اسی طرح صالحین کے ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ ان کا نفس کسی خواہش کی طرف مائل ہوا تو سزا کے طور پر کئی دنوں تک سوکھی روٹی کھائی ۔
اسی طرح حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک پرندے کو دیکھنے کی وجہ سے نماز میں توجہ ہٹی تو آپؓ نے محاسبہ کیا کہ یہ باغ میری توجہ ہٹانے کا باعث بنا۔ ندامت میں انہوں نے اپنا قیمتی باغ راہِ خدا میں صدقہ کر دیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاایک مرتبہ نمازِ مغرب پڑھنے میں اتنی تاخیر ہوئی کہ ستارے نکل آئے۔ اس کوتاہی پر انہوں نے اپنے نفس کو سزا دیتے ہوئے دو غلام آزاد کر دیے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک شخص نے آپؓ کو برا بھلا کہا، آپؓ خاموش رہے۔ جب آپؓ نے جواب دیا تو نبی اکرمﷺ وہاں سے چل دیے۔ آپؓ نے اپنے عمل کا محاسبہ کیا اور معلوم کیا کہ خاموشی میں فرشتے جواب دے رہے تھے، لیکن بولنے پر شیطان آگیا۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب کوئی غلطی ہو جاتی توآپؓ رات کو اپنے پاؤں پر درہ (کوڑا) مارتے اور خود سے پوچھتے: "آج یہ کام کیوں کیا؟”۔
یہ واقعات سکھاتے ہیں کہ نیکیوں میں اضافہ اور گناہوں کی تلافی کے لیے انسان کو مسلسل اپنی خود احتسابی کرتے رہنا چاہیے۔
بس جب رات کو سونے کے لیئے لیٹے تو اپنا محاسبہ کریں جو کام اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کیئے ان سے استغفار کریں اور جو اچھے اور نیک کیئے ان پر رب العزت کا شکر ادا کریں جو غلطیاں ہوئی ان سے بچنے کا آئندہ کے لیئے عہد کریں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں دوسروں کی غلطیوں اور عیبوں کی طرف نظر جمانے کی بجائے ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر نظر ڈالیں تو ہمارے لیئے یہ دنیا اور آخرت میں بھلائی کا سامان ہوگا کیونکہ اپنا محاسبہ کرنا سب سے زیادہ آسان کام ہے اگر ہم تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ہمارے اسلاف کے اپنے محاسبے کے بیشمار واقعات ملتے ہیں جنہوں اپنے نفس کے ساتھ بڑی سخت لڑائیاں لڑی ہیں کیونکہ نفس شیطان سے بھی بڑا دشمن ہے جیسا کہ حضرتِ ابوبکر کَتَّانِی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک شخص برائیوں اور خطاؤں پر اپنے نفس کا محاسبہ کیا کرتا تھا۔ ایک دن اس نے اپنی زندگی کے سالوں کا حساب لگایا تو 60 سال بنے ، پھر دنوں کا حساب کیا تو 21ہزار 5 سو دن بنے تو اس نے ایک زوردار چیخ ماری اور بے ہوش ہو کر گِر پڑا ، جب ہوش میں آیا تو کہنے لگا : ہائےافسوس ! اگر روزانہ ایک گناہ بھی کیا ہو تو اپنے ربِّ کریم کے حضور 21 ہزار 5 سو گناہ لے کر حاضر ہوں گا تو ان گناہوں کا کیا حال ہوگا جن کا شمار ہی نہیں؟ ہائےافسوس ! میں نے اپنی دنیا آباد کی اور آخرت برباد کی اور اپنے پروردگار کی نافرمانی کرتا رہا ، میں دنیا میں تو آبادی سے بربادی کی طرف منتقل ہونا پسند نہیں کرتا تو بروزِقیامت بغیر ثواب وعمل کے حساب و کتاب کیسے دوں گا؟اورعذاب کا سامنا کیسے کروں گا؟
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ سوچ کر اس نے ایک زوردار چیخ ماری اور گر گیا اور جب اس کو حرکت دی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کی روح پرواز کرگئی یہ ہے محاسبہ اسی طرح اپنے محاسبے کا ایک بہت عظیم اور یادگار واقعہ پڑھیئے اور اپنا ایمان تازہ کرتے ہوئے اپنا محاسبہ کرنے کی عادت بنائیں حضرت رابعہ بصریہ رحمتہ اللہ علیہا کا نام ہر اہل ایمان مسلمان کے جانا پہچانا ہے حضرت رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہا کا معمول تھا کہ جب رات ہوتی اور سب لوگ سو جاتے تو اپنے آپ سے کہتیں ، اے رابعہ ( ہوسکتا ہے کہ ) یہ تیری زندگی کی آخری رات ہو ، ہوسکتا ہے کہ تجھے کل کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہو ، اُٹھ اور اپنے ربِّ کریم کی عبادت کر لے تاکہ کل قیامت میں تجھے ندامت ( یعنی شرمندگی ) کا سامنانہ کرنا پڑے ، ہمت کر ، سونا مت ، جاگ کر اپنے رب کی عبادت کر۔یہ کہنے کے بعد آپ اُٹھ کھڑی ہوتیں اور صبح تک نوافل اداکرتی رہتیں۔جب فجر کی نماز ادا کر لیتیں تو اپنے آپ کو دوبارہ مخاطب کر کے فرماتیں ، اے میرے نفس ! تمہیں مبارک ہو کہ گزشتہ رات تُونے بڑی مشقت اُٹھائی ، لیکن یادرکھ ! یہ دن تیری زندگی کا آخری دن ہوسکتا ہے۔یہ کہہ کر پھر عبادت میں مشغول ہو جاتیں اور جب نیند کا غلبہ ہوتا تو اُٹھ کر گھر میں ٹہلنا شروع کر دیتیں اور ساتھ ساتھ خود سے فرماتی جاتیں : رابعہ ! یہ بھی کوئی نیند ہے ، اس کا کیا لطف؟اسے چھوڑ دو اور قبر میں مزے سے لمبی مدت کے لئے سوتی رہنا ، آج تو تجھے زیادہ نیند نہیں آئی لیکن آنے والی رات میں نیند خوب آئے گی ، ہمت کرو اور اپنے ربِّ کریم کو راضی کر لو۔اس طرح کرتے کرتے آپ نے 50 سال ( 50 Years ) گزار دئیے آپ نہ تو کبھی بستر پر سوئیں اور نہ ہی کبھی تکیے پر سر رکھا ، یہاں تک کہ آپ انتقال کر گئیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں نفس کی حفاظت اور اس سے خبردار رہنے کا موضوع ایک طویل موضوع ہے لیکن میں نے مختصر انداز اور جامع طریقے سے اس موضوع کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے اگر موقع ملا تو پھر کسی آرٹیکل میں اس موضوع کو لیکر آپ کی خدمت میں حاضر ہو جائوں گا آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نفس امارہ سے بچنے اور نفس مطمئنہ میں رہنے کی توفیق عطا فرمائے مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • قسط وار ناول بہرام: دوسری قسط
  • سورہ کہف
  • عالم ہمہ صورت ہے، گر جان ہے تو تُو ہے
  • سگنل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محرم الحرام
پچھلی پوسٹ
میرا قیمہ بنا دیجیے

متعلقہ پوسٹس

رشتہ یا خدا

دسمبر 30, 2019

فضائل صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ

جنوری 24, 2022

صدام حسین

مارچ 8, 2026

منقبت اہلِ بیتِ اطہارؑ

جولائی 4, 2025

جج صاحب سیاست میں

نومبر 15, 2025

ایک دن میں قید۔۔۔حضرت اقبالؒ

نومبر 12, 2021

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 18, 2026

طاؤس چمن کی مینا

جون 15, 2020

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

جولائی 15, 2026

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 13, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اختلاف رائے جرم نہیں

جون 5, 2022

بدگمانی سے بنایا گیا

جنوری 22, 2026

منگنی کی خوشیاں

اپریل 4, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں