خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامالوداع ڈاکٹر بشیر بدر
آپ کا سلاماردو کالمزبشیر بدرڈاکٹر الیاس عاجز

الوداع ڈاکٹر بشیر بدر

از سائیٹ ایڈمن مئی 30, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 30, 2026 0 تبصرے 0 مناظر
1

ڈاکٹر بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ وہ 15 فروری 1935ء کو ایودھیا (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید نذیر ایک اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ تھے۔ بشیر بدر کی فطرت میں بچپن ہی سے شعر و شاعری کا مادہ موجود تھا انہوں نے محض سات برس کی عمر میں اپنی پہلی غزل کہی تھی۔ان کی ابتدائی زندگی کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ 16 برس کی عمر میں والد کی بیماری کے باعث انہیں عارضی طور پر تعلیم چھوڑنی پڑیBasir Badar لیکن علم کی پیاس نے انہیں دوبارہ پڑھائی کی طرف راغب کیا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) سے بی اے، ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی (Ph.D) کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اردو کے علاوہ فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی گہری گرفت رکھتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی بشیر بدر نے ایم اے کی تعلیم مکمل بھی نہیں کی تھی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نصاب میں ان کے اشعار شامل کر لیے گئے تھے۔
ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بشیر بدر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہی بطور لکچرار اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں وہ میرٹھ چلے گئے، جہاں انہوں نے میرٹھ کالج میں شعبہ اردو کے صدر کی حیثیت سے تقریباً 17 برس تک خدمات انجام دیں۔ وہ اپنی زندگی میں ‘بہار اردو اکیڈمی’ کے چیئرمین بھی رہے۔
میرٹھ کے فسادات نے ان کی زندگی کو تباہی کرکے رکھ دیا۔1987ء میں میرٹھ میں ہونے والے بھیانک فرقہ وارانہ فسادات بشیر بدر کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ثابت ہوئے۔ اس دوران شرپسندوں نے ان کا گھر جلا دیا جس میں ان کی زندگی بھر کی کمائی، کتابیں اور سب سے بڑھ کر ان کے بے شمار غیر مطبوعہ شعری مسودات جل کر راکھ ہو گئے۔ اس دلخراش واقعے نے انہیں اندر سے توڑ دیا اور وہ میرٹھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے بھوپال منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے اپنی باقی زندگی گزاری۔
بشیر بدر شاعری میں اپنا نمایاں پہلو اور اسلوب رکھتے تھے۔بشیر بدر نے غزل کو روایتی ثقالت اور مشکل پسندی سے نکال کر عام فہم، سادہ اور روزمرہ کی بول چال کا حصہ بنایا۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کالج کے طالب علموں سے لے کر پارلیمنٹ کے ایوانوں تک یکساں مقبول تھی۔ وہ عام لفظوں سے خاص اثر پیدا کرنے کے ماہر تھے۔ ان کے اشعار میں محبت، تنہائی، جدائی اور انسانی رشتوں کے پیچیدہ فلسفے کو اتنی سادگی سے بیان کیا گیا کہ سننے والا فوراً دنگ رہ جاتا۔انہوں نے صرف عشق و محبت کی باتیں نہیں کیں بلکہ اپنے دور کے سیاسی و سماجی حالات اور منافقت پر بھی گہرا طنز کیا۔ ان کے لہجے میں گنگا جمنی تہذیب کی جھلک نمایاں تھی۔ وہ اردو غزل میں ہندی کے نرم اور رسیلے الفاظ اس خوبصورتی سے پروتے تھے کہ غزل کا حسن دوبالا ہو جاتا تھا۔
ڈاکٹر بشیر بدر نے اردو ادب کی جھولی میں کئی یادگار مجموعے ڈالے۔ ان کی مشہور کتابوں میں درج ذیل شامل ہیں۔اکائی، امیج، آہٹ، آس اور
کلیاتِ بشیر بدر ان کی مشہور تصانیف ہیں۔ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ان کی غزلوں کو دیوناگری (ہندی) رسم الخط میں بھی "اجالے اپنی یادوں کے” کے نام سے شائع کیا گیا جسے ہندی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی ملی۔ ان کے اشعار بالی ووڈ فلموں (جیسے ‘مسان’ اور ‘ڈیڑھ عشقیا’) اور مقبول کلچر میں بکثرت استعمال ہوئے۔
ادب کے میدان میں ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند اور دیگر اداروں نے انہیں اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا جن میں پدما شری (1999ء) جو بھارت کا چوتھا بڑا سویلین اعزاز، ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ (1999ء) جو ان کے شعری مجموعے "آس” کے لیے اردو زبان کا معتبر ترین ادبی انعام دیا گیا۔
ڈاکٹر بشیر بدر نے ہزاروں لافانی اشعار
اشعار کہے جن میں سے چند ایسے ہیں جو آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں۔(یہ شعر انہوں نے 1972ء میں پاک-بھارت شملہ معاہدے کے وقت کہا تھا جو سفارتی دنیا میں ایک مثال بن گیا)
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں ہی کوئی بے وفا نہیں ہوتا
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
زندگی کی آخری شام اور وداعی نوٹ
بشیر بدر کی زندگی کا ایک تضاد یہ رہا کہ انہوں نے محبت، رشتوں اور یادوں پر 18 ہزار سے زائد اشعار کہے لیکن زندگی کے آخری ایام میں ڈیمنشیا کی وجہ سے وہ خود اپنی ہی لکھی ہوئی شاعری اور اپنے قریبی لوگوں کو بھول چکے تھے۔ 28 مئی 2026ء کو دوپہر تقریباً 12:15 بجے ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی اور اسی شام انہیں بھوپال کے بڑا باغ قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔مشہور نغمہ نگار جاوید اختر نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا:
"آج ہماری زبان اردو تھوڑی غریب ہو گئی ہے۔ بشیر بدر ایک انتہائی مدھر اور جادوئی شاعر ہمیشہ کے لیے ہماری محفل سے رخصت ہو گئے لیکن یہ شاعر اور ان کی شاعری ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔”
ڈاکٹر بشیر بدر جسمانی طور پر اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن جب تک اردو غزل زندہ ہے ان کا نام، ان کا لہجہ اور ان کے رسیلے اشعار دلوں کو گرماتے رہیں گے۔

ڈاکٹر الیاس عاجز

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • محسن ِ پاکستان کا ناقابلِ تسخیر پاکستان!
  • زبان کے زخم
  • سماج کی خدمت
  • جعلی خبروں کی روک تھام کیسے ؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اس نے مجھ کو ہاتھ لگایا اور لگا کے چھوڑ دیا
پچھلی پوسٹ
آسودگی

متعلقہ پوسٹس

فيه ذكركم

جنوری 24, 2026

محبت اور ماضی و حال

جولائی 26, 2020

اسلام کی اہمیت

مارچ 12, 2026

فرحت پروین

دسمبر 19, 2020

ٹک ٹاک کالم

جنوری 20, 2021

آ جاندی کول تیرے دل دے

فروری 18, 2026

جنرل (ر) فیض حمید کی سزا

دسمبر 14, 2025

کتنی دور سے چلتے چلتے

جنوری 12, 2026

رازِحیات

دسمبر 30, 2021

نہ جانے کیا بات تھی اس شخص میں

اپریل 17, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شبنم زادی جتنی تیری آنکھوں میں

فروری 22, 2026

عمران خان کے حواس پر سوار...

اپریل 16, 2023

عمران خان کی اپیل اور روس...

اپریل 18, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں