خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا عورت محبت کی بھوکی ہے؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمز

کیا عورت محبت کی بھوکی ہے؟

از سائیٹ ایڈمن مئی 30, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 30, 2026 0 تبصرے 0 مناظر
1

یہ سوال صدیوں سے عورت کے گرد بُنے گئے اُن تصورات کا حصہ ہے جنہیں مردانہ سماج نے اپنی سہولت کے لیے تراشا۔ عورت کو ہمیشہ ایک ایسے وجود کے طور پر پیش کیا گیا جو محبت کی محتاج ہے جو کسی مرد کے سہارے کے بغیر مکمل نہیں جو چند میٹھے لفظوں، جھوٹے وعدوں اور مصنوعی توجہ کے بدلے اپنی زندگی، خواب، جسم اور جذبات سب کچھ قربان کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عورت محبت کی بھوکی ہے یا اسے جان بوجھ کر ایسا ثابت کیا گیا تاکہ اس کے جذبات سے کھیلا جا سکے؟
پاکستانی معاشرے میں عورت کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ اسے ایک انسان کی بجائے ایک جذباتی مخلوق سمجھا گیا۔ بچپن سے اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد کسی مرد کی محبت حاصل کرنا ہے۔ اسے کہانیوں، ڈراموں، فلموں اور شاعری کے ذریعے باور کرایا جاتا ہے کہ عورت کی کامیابی اس کے محبوب یا شوہر سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی مرد محبت کے نام پر اُس کے قریب آتا ہے تو عورت اکثر اسے اپنی زندگی کا مرکز سمجھنے لگتی ہے۔ مرد اسی نفسیات کو استعمال کرتا ہے۔ وہ محبت کو ایک ہتھیار بناتا ہے، وعدوں کو جال بناتا ہے اور عورت کے اعتماد کو شکار گاہ میں بدل دیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں جنہیں شادی کے خواب دکھا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ "میں تم سے شادی کروں گا”، "تم میرے بغیر ادھوری ہو”، "تم میری زندگی ہو” جیسے جملے عورت کے لیے صرف الفاظ نہیں ہوتے، وہ ان میں مستقبل دیکھتی ہے۔ بہت سے مردوں کے لیے یہ محض شکار کی تکنیک ہوتی ہے۔ عورت کو محبت کے نام پر ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ جب تک دل چاہا، تعلق رکھا، جذبات لیے، جسم استعمال کیا، وقت گزارا پھر ایک دن خاموشی سے الگ ہو گئے۔ عورت پیچھے رہ جاتی ہے، اپنے وجود کے ٹکڑوں کو سمیٹتی ہوئی۔
المیہ یہ ہے کہ یہی معاشرہ بعد میں عورت کو ہی قصوروار ٹھہراتا ہے۔ اگر عورت دھوکا کھا جائے تو کہا جاتا ہے کہ وہ محبت کی بھوکی تھی۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ دھوکا دینے والا کون تھا؟ جھوٹے خواب دکھانے والا کون تھا؟ ہوس کو محبت کا نام دینے والا کون تھا؟ مرد کی خواہشات کو اکثر "فطرت” کہہ کر معاف کر دیا جاتا ہے جبکہ عورت کے جذبات کو "کمزوری” بنا دیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عورت نے کب محب ہونے کا دعویٰ کیا ہے؟ عورت تو زیادہ تر تحفظ، عزت، اعتبار اور قبولیت چاہتی ہے۔ وہ ایک ایسا رشتہ چاہتی ہے جہاں اسے انسان سمجھا جائے، محض جسم نہیں۔ افسوس دنیا عورت کی محبت کو بھی جسم کے زاویے سے دیکھتی ہے۔ اگر عورت کسی سے محبت کرے تو فوراً اس کے کردار پر سوال اٹھا دیے جاتے ہیں۔ اگر وہ محبت سے انکار کرے تو مغرور کہلاتی ہے۔ اگر خاموش رہے تو اسے کمزور سمجھا جاتا ہے۔ عورت ہر حال میں کٹہرے میں کھڑی رہتی ہے۔
اکیسویں صدی کی عورت بدل رہی ہے۔ اب وہ محبت کو صرف جذباتی سہارا نہیں سمجھتی۔ وہ جان چکی ہے کہ محبت اگر عزت، اعتماد اور برابری سے خالی ہو تو وہ محض استحصال ہے۔ آج کی عورت تعلیم یافتہ ہے اور معاشی طور پر خود مختار ہو رہی ہے۔وہ اپنے فیصلے خود لینا چاہتی ہے۔ عہد حاضر کی عورت اب محبت کے نام پر خود کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ جان گئی ہے کہ محبت اگر انسان کی آزادی چھین لے، اس کی خودی کو کچل دے، اس کی شخصیت کو ختم کر دے تو وہ محبت نہیں، قید ہے۔
اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ محبت انسانی ضرورت ہے۔ صرف عورت نہیں، مرد بھی محبت چاہتا ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ کوئی اسے سمجھے، قبول کرے، اس کے دکھ میں شریک ہو۔ مسئلہ محبت نہیں، مسئلہ محبت کے نام پر ہونے والا دھوکا ہے۔ محبت جب خلوص سے خالی ہو تو فریب بن جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر محبت کو ذمہ داری کی بجائے جزوقتی لطف سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے تعلقات کمزور ہو رہے ہیں اور اعتماد ٹوٹ رہا ہے۔
عورت کو محبت کی بھوکی کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ عورت صدیوں سے محبت دیتی آئی ہے۔ ماں کی صورت میں، بہن کی صورت میں، بیوی کی صورت میں، بیٹی کی صورت میں۔ اس نے اپنے حصے کی خوشیاں قربان کیں، رشتوں کو سنبھالا، گھر کو جوڑا، دکھ سہے، مگر بدلے میں اکثر اسے شک، بے وفائی، تشدد اور تنہائی ملی۔ اگر عورت واقعی محبت چاہتی ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟ محبت تو انسان کا بنیادی جذبہ ہے۔ عورت کی محبت کو ہمیشہ کمزوری کیوں سمجھا گیا؟
شاید اس لیے کہ محبت کرنے والی عورت کو کنٹرول کرنا آسان سمجھا جاتا ہے۔ مرد جانتا ہے کہ اگر عورت جذباتی طور پر وابستہ ہو جائے تو وہ بہت کچھ برداشت کر لے گی۔ یہی وجہ ہے کہ محبت کے نام پر عورت کو خاموش رہنے، صبر کرنے اور قربانی دینے کا درس دیا جاتا ہے۔ آج کی عورت ویسی نہیں رہی اب وہ سوال کر رہی ہے۔ وہ پوچھ رہی ہے کہ صرف عورت ہی کیوں قربانی دے؟ صرف عورت ہی کیوں وفاداری ثابت کرے؟ صرف عورت ہی کیوں محبت کا امتحان دے؟
اکیسویں صدی کی عورت محبت سے انکار نہیں کرتی، اب محبت کی تعریف بدل رہی ہے۔ وہ ایسی محبت چاہتی ہے جہاں اس کی شناخت باقی رہے۔ جہاں اسے برابر سمجھا جائے۔ جہاں اس کے خواب بھی اہم ہوں، جہاں اس کے جسم سے زیادہ اس کی روح کو دیکھا جائے۔ وہ محبت کو عبادت بنانا چاہتی ہے، کاروبار نہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ ہر مرد ظالم نہیں اور ہر عورت مظلوم نہیں۔ دنیا میں سچے تعلقات بھی موجود ہیں، خالص محبت بھی ذندہ ہے۔ دراصل مسئلہ اُس سماجی ذہنیت کا ہے جو عورت کو جذباتی ضرورت بنا کر پیش کرتی ہے اور مرد کو اختیار کا مرکز ٹھہراتی ہے۔ جب تک یہ سوچ نہیں بدلے گی،تب تک محبت کے نام پر استحصال جاری رہے گا۔
عورت محبت کی بھوکی نہیں، عزت کی بھوکی ہے اور قبولیت کی بھوکی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اسے انسان سمجھا جائے، احساسات رکھنے والا جیتا جاگتا وجود تسلیم کیا جائے۔ اگر محبت اسے یہ سب دے تو وہ محبت خوبصورت ہے۔ اگر محبت عورت کو صرف استعمال کرنے، توڑنے اور خاموش کرنے کا ذریعہ بن جائے تو پھر وہ محبت نہیں، ایک سماجی دھوکا ہے جسے صدیوں سے "رومان” کا نام دے کر بیچا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ نورین

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم
  • خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ماں تیری ممتا
  • خَیْرُ النَّاسِِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاس
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محسن سے ڈاکٹر محسن خالد محسن ؔ تک
پچھلی پوسٹ
گم شدہ چراغ

متعلقہ پوسٹس

افشائے راز

نومبر 15, 2019

اجنبی آنکھیں

اپریل 25, 2019

اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں

جون 3, 2020

ڈیڈی

مارچ 20, 2020

بنت ِحوا تشدد کی زد میں کیوں؟

جولائی 13, 2022

طوفان کے بیچ سفرِ شجاعت

نومبر 27, 2024

اعصاب شکن!

فروری 26, 2024

اہل منصب ، دکھاوا اور انجام

جون 10, 2024

ویرا

جنوری 3, 2020

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بنام مولوی منشی حبیب اللہ خاں...

دسمبر 8, 2019

شکوہ شکایت

جنوری 29, 2019

اول پوزیشن

مارچ 5, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں