خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

از سائیٹ ایڈمن مئی 14, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 14, 2026 0 تبصرے 37 مناظر
38

پاکستان میں انگریزی زبان محض ایک زبان نہیں بلکہ طاقت، اختیار ،روزگار اور سماجی برتری کی علامت بن چکی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں کروڑوں لوگ اپنی مادری زبانوں میں سوچتے ہیں لیکن کامیابی کا دروازہ انگریزی کے نام سے کھلتا ہے؛ وہاں زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ طبقاتی تقسیم کی دیوار بن جاتی ہے۔ آج کا پاکستانی بچہ جب سکول میں داخل ہوتا ہے تو اس کے سامنے سب سے بڑی حقیقت یہی رکھی جاتی ہے کہ اگر وہ انگریزی نہیں سیکھ سکا تو ترقی کے کئی راستے اس پر بند رہیں گے۔ یہ احساس پوری قوم کے ذہن میں احساسِ کمتری اور ذہنی غلامی کو جنم دیتا ہے۔

برطانوی استعمار نے برصغیر میں انگریزی کو اقتدار کی زبان بنایا تھا۔ آزادی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان اپنی قومی زبان اُردو اور علاقائی زبانوں کو ترقی دے گا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ ریاستی اداروں، عدالتوں، بیوروکریسی اور اعلیٰ تعلیم میں انگریزی کو وہی حیثیت حاصل رہی جو نوآبادیاتی دور میں تھی۔ ماہر لسانیات Ngũgĩ wa Thiong’o نے کہا تھا :” جب کسی قوم سے اس کی زبان چھین لی جائے تو اس کی سوچ بھی غلام بن جاتی ہے”۔ پاکستان میں یہ صورتحال مختلف انداز میں دکھائی دیتی ہے۔

پاکستانی نوجوانوں کو انگریزی سیکھنے میں سب سے بڑی مشکل تعلیمی عدم مساوات کا سامنا ہے۔ ایک طرف مہنگے نجی سکول ہیں جہاں بچہ شروع سے انگریزی ماحول میں تعلیم حاصل کرتا ہے اور دوسری طرف سرکاری سکول ہیں جہاں انگریزی ایک خوف کی صورت میں پڑھائی جاتی ہے۔ برٹش کونسل کی ایک رپورٹ کے مطابق” پاکستان میں انگریزی سیکھنے کا معیار شہری اور دیہی علاقوں میں خاصا فرق رکھتا ہے نیزسرکاری سکولوں کے طلبہ کو بنیادی لسانی سہولتیں بھی دستیاب نہیں”۔

پاکستانی سماج میں مڈل اور تھرڈ کلاس طبقے کو عملاً انگریزی سے دور رکھا جاتا ہے ۔ اگر ہر شخص انگریزی سیکھ لے تو نوکریوں اور ریاستی اداروں تک رسائی زیادہ ہوجائے گی۔ حکمران طبقہ اس فرق سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ بیوروکریسی، عدلیہ، کارپوریٹ سیکٹر اور اعلیٰ سرکاری عہدوں میں انگریزی کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ عام آدمی خود کو غیر متعلق محسوس کرے۔ یوں زبان ایک غیر مرئی دیوار بن جاتی ہے۔ پاکستانی سماج میں انگریزی جاننے والا شخص ذہین، مہذب اور قابل تصور کیا جاتا ہے جبکہ مادری زبان بولنے والے کو کمتر ،جاہل،پینڈو اور نالائق سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ صرف لسانی نہیں بلکہ نفسیاتی اور طبقاتی مسئلہ بھی ہے۔

حکمران طبقہ انگریزی کے ذریعے عالمی معیشت اور اقتدار کے مراکز سے وابستہ رہتا ہے۔ بیرون ملک تعلیم ،سفارتی روابط اور بین الاقوامی تجارت میں انگریزی یقیناً اہم ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں انگریزی کو مہارت کی بجائے برتری کی علامت بنا دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور یونیسکو کی متعدد رپورٹس اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے کیونکہ بچہ اپنی زبان میں بہتر سیکھتا اور تخلیقی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے جاپان،چائنہ، فرانس وغیرہ نے اپنی زبان میں علم پیدا کیا ۔ ان ممالک نے انگریزی سیکھی مگر اپنی زبان کو انگریزی پر قربان نہیں کیا۔

پاکستان میں اردو کے بارے میں یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ یہ سائنس اور جدید تعلیم کے لیے ناکافی ہے حالانکہ زبان خود کمزور نہیں ہوتی بلکہ اسے کمزور بنایا جاتا ہے۔ اُردو میں ادب، شاعری ،صحافت، فلسفہ اور تنقید کی ایک صحت مند روایت موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ریاست نے اردو میں سائنسی اور تحقیقی مواد پیدا کرنے پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا۔ اگر جاپانی اور چینی زبانیں جدید سائنس کا بوجھ اُٹھا سکتی ہیں تو اُردو کیوں نہیں۔ زبانیں اپنی ساخت سے نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات سے ترقی کرتی ہیں۔

اسی طرح پنجابی کو پاکستان میں عجیب تضاد کا سامنا ہے۔ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن پنجابی بولنے والے اپنی مادری زبان بولنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ گھروں میں پنجابی بولی جاتی ہے مگر سکول اور دفتروں میں اسے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ بابا فرید ،بلھے شاہ ،وارث شاہ اور میاں محمد بخش جیسے عظیم شعرا نے اسی زبان میں فکری اور روحانی ادب تخلیق کیا۔ پنجابی کو مردود قرار دینے کے پیچھے وہی نوآبادیاتی ذہنیت کام کرتی ہے جو مقامی زبانوں کو دیہاتی اور غیر مہذب سمجھتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا کے پنجاب میں پنجابی زبان کو تعلیمی اور ثقافتی سطح پر زیادہ قبولیت حاصل ہے جبکہ پاکستانی پنجاب میں اس کی حیثیت روز بروز کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

ماہر تعلیم Paulo Freire کا خیال تھا :” تعلیم ذہن کو تبھی آزاد کرتی ہے جب وہ انسان کی اپنی زبان اور تجربے سے ہم آہنگ ہو”۔ پاکستان میں تعلیم رٹہ اور نقل کا شکار ہوچکی ہے کیونکہ بچہ ایسی زبان میں سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے جو اس کی اپنی نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم اردو میں مکمل مہارت حاصل کرپاتا ہے اور نہ انگریزی میں۔

اکیسویں صدی میں پاکستانی قوم ایک لسانی بحران کے درمیان کھڑی ہے۔ ایک طرف نوجوان عالمی دُنیا سے منسلک ہونے کے لیے انگریزی سیکھنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اپنی مادری زبانوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس بحران کو مزید واضح کیا ہے جہاں لوگ آدھی اردو آدھی انگریزی بولتے اور لکھتے ہیں۔ زبان کا یہ امتزاج فطری عمل ہوسکتا ہے تاہم جب اپنی زبان میں اعتماد ختم ہوجائے تو تہذیبی شناخت یقیناً کمزور ہوگی۔

پاکستان کو ایسی لسانی پالیسی کی ضرورت ہے جہاں انگریزی کو مہارت کے طور پر سکھایا جائے نہ کہ برتری کی علامت کے طور پر۔ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جائے۔ اردو کو علمی اور تحقیقی زبان بنایا جائے ۔میرا ذاتی احساس یہ ہےکہ علاقائی زبانوں کو ثقافتی ورثہ سمجھنے کی بجائے عملی زندگی میں جگہ دی جائے۔ ایک صحت مند معاشرہ ہمیشہ اپنی مادری اور علاقائی زبانوں پر فخر کرتا ہے اور دوسری زبانوں سے علم حاصل کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتا۔

زبان انسان کی روح کا لباس ہوتی ہے۔ جو قوم اپنی زبان سے شرمندہ ہوجائے وہ آہستہ آہستہ اپنی تاریخ ،ثقافت اور اجتماعی شعور سے بیگانہ ہوجاتی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ انگریزی سیکھی جائے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا اپنی زبانوں کو قربان کیے بغیر ترقی ممکن ہے۔ تاریخ گواہ ہے ، ترقی وہی قومیں کرتی ہیں جو اپنی مٹی کی خوشبو کو اپنے علم اور شعور کے ساتھ بغل گیررکھتی ہیں۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نصیر اور خدیجہ
  • کبوتروں والا سائیں
  • اوپر نیچے درمیان
  • نظام مملکت اور موکلین
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟
پچھلی پوسٹ
یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

متعلقہ پوسٹس

سمندر کے نام ایک غنائیہ

مارچ 25, 2026

صرف ایک مچھر۔۔۔۔ صرف ایک شاہد مسعود

جنوری 26, 2018

انسان کے اندر مثبت و منفی قوتیں

جنوری 6, 2026

ذہنی صحت کی بگڑتی ہوئی تصویر

فروری 18, 2026

ضرورتاں دے پیالیاں وچ

اپریل 3, 2026

اب اور کہنے کی ضرورت نہیں

نومبر 15, 2019

علمائے دیوبند کا فکری منہج

دسمبر 6, 2025

ایک ادنٰی سی استدعا

مارچ 30, 2020

بیر بہوٹی کی تلاش میں

دسمبر 23, 2021

موت کچھ بھی نہیں بگاڑ سکی

فروری 19, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ماسی گُل بانو

نومبر 2, 2019

فرہاد احمد فگار کی ایک غزل

اگست 20, 2023

زندگی! تجھے کیا چاہیے؟

اپریل 21, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں