خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپاکستانی عدالتوں کا نظامِ استحصال
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

پاکستانی عدالتوں کا نظامِ استحصال

از سائیٹ ایڈمن مئی 8, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 8, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

پاکستان میں عدالت کو انصاف کا آخری دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ دروازہ عام آدمی کے لیے اذیت گاہ بن چکا ہے۔ ایک مظلوم سائل جب عدالت کے دروازے پر پہنچتا ہے تو وہ انصاف کی اُمید لے کر آتا ہے لیکن برسوں کی پیشیاں اس کی اُمیدوں کو چاٹ جاتی ہیں۔ عدالتوں کی راہداریوں میں سفید رِیش بوڑھے انصاف کے انتظار میں مر جاتے ہیں۔ عورتیں بچوں کو اُٹھائے تاریخ پر تاریخ بھگتتی رہتی ہیں۔ مزدور اپنی دیہاڑی کھو دیتا ہے۔ کسان زمین کے مقدمے میں نسلوں تک الجھا رہتا ہے۔ دوسری طرف طاقتور طبقہ وکیلوں کی فوج اور وسائل کے توسط سے نظام کو اپنے حق میں موڑ لیتا ہے۔
پاکستان کے عدالتی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف کم اور استحصالی طریقہ کار زیادہ طاقتور ہے۔ عدالت میں آنے والا شخص سب سے پہلے خوف کا شکار ہوتا ہے۔ پولیس کی دھمکیاں الگ، وکیلوں کی فیس الگ اور عدالتی عملے کا رویہ الگ۔ کیس فائنل ہونے کے بعد تاریخوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ انسان نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ سائلین عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے قرض میں ڈوب جاتے ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ مقدمے کی لاگت اصل تنازعے سے زیادہ ہو جاتی ہے۔
مشہور مقولہ ہے:
"انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے”۔
یہ قول برطانوی سیاست دان ولیم گلیڈ اسٹون سے منسوب کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں یہ جملہ روزانہ حقیقت بنتا دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان کے عدالتی نظام میں لاکھوں مقدمات برسوں سے زیرِ التوا ہیں۔ مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق دیوانی و سِول عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق بعض مقدمات سپریم کورٹ تک پہنچتے پہنچتے پچیس سال تک کھنچ جاتے ہیں۔
ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے دُنیا کی نچلے درجوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس انڈیکس میں انصاف تک رسائی، انصاف کی رفتار، عدالتی شفافیت اور کرپشن جیسے عوامل شامل کیے جاتے ہیں۔
یہ صورتحال صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کا المیہ ہے۔ ایک شخص اگر جائیداد کے تنازعے میں عدالت جائے تو ممکن ہے اس کا فیصلہ اس کی اگلی نسل کو ملے۔ خاندانی مقدمات میں عورتیں برسوں خلع، نان نفقہ اور بچوں کی حوالگی کے لیے دربدر رہتی ہیں۔ فوجداری مقدمات میں ملزم سالہا سال جیل میں رہتا ہے جبکہ جُرم ثابت ہی نہیں ہو پاتا۔ کئی لوگ بے گناہی ثابت ہونے سے پہلے اپنی جوانی کھو دیتے ہیں۔
سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا تھا:
"ریاست کی بقا انصاف سے اٹیچ ہوتی ہے”۔
یہ جملہ پاکستان کے موجودہ حالات میں ایک تلخ سوال بن چکا ہے۔یعنی اگر انصاف کمزور ہو جائے تو ریاست کا اعتماد کیسے باقی رہ سکتا ہے۔
عدالتی نظام کی خرابیوں میں سب سے بڑا مسئلہ مقدمات کا غیر ضروری اِلتوا ہے۔ وکیل تاریخ لے لیتے ہیں، گواہ پیش نہیں ہوتے، پولیس تفتیش مکمل نہیں کرتی، جج صاحبان کا تبادلہ ہو جاتا ہے، کبھی ہڑتال ہو جاتی ہے اور کبھی فائل غائب ہو جاتی ہے۔ستم یہ کہ سائل ہر بار اُمید لے کر آتا ہے مگر اگلی تاریخ لے کر واپس چلا جاتا ہے۔
تحقیقی مطالعات کے مطابق پاکستان میں عدالتی تاخیر کی بڑی وجوہات میں ججز کی کمی، ناقص تفتیش، پرانا عدالتی نظام، کرپشن اور کمزور انتظامی ڈھانچہ شامل ہیں۔
عدالتوں میں عام آدمی کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ سائلین بیان کرتے ہیں:” عدالتی عملہ ان سے ایسے پیش آتا ہے جیسے وہ مُجرم ہوں”۔ سِول عدالتوں میں بعض اوقات طاقتور افراد کے لیے الگ ماحول اور غریب کے لیے الگ رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سفارش اور تعلقات رکھنے والے افراد کے مقدمات تیزی سے آگے بڑھتے ہیں جبکہ غریب آدمی فائلوں کے انبار میں دب جاتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں جج صاحبان اور اعلیٰ عدالتی افسران کو وسیع سرکاری مراعات حاصل ہیں۔ سرکاری گاڑیاں، پروٹوکول، رہائش گاہیں اور دیگر سہولیات ان کے پاس موجود ہوتی ہیں جبکہ دوسری طرف سائلین عدالت کے باہر دُھوپ میں کھڑے رہتے ہیں۔ کئی دیہاتی دور دراز علاقوں سے کرایہ خرچ کرکے آتے ہیں اور اگلی تاریخ لے کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ یہ تضاد عوام میں احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے۔
امریکی مفکر مارٹن لوتھر کنگ نے کہا تھا:
"کہیں بھی ناانصافی ہر جگہ انصاف کے لیے خطرہ ہے”۔
پاکستان میں عدالتی ناانصافی اب ایک سماجی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ جب لوگوں کو یقین نہ رہے کہ عدالت سے انصاف ملے گا تو وہ ذاتی انتقام جِرگوں یا طاقت کے استعمال کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں قانون کی بالادستی کمزور ہوتی ہے۔
پاکستان میں سیاسی مقدمات نے بھی عدالتی نظام کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اکثر یہ بحث ہوتی رہتی ہے کہ طاقتور سیاسی شخصیات کے مقدمات اور عام شہریوں کے مقدمات میں فرق برتا جاتا ہے۔ مختلف عوامی ردِعمل اور مباحثوں میں عدالتی تاخیر اور مقدمات کے التوا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
عدالتی اصلاحات کے نام پر کئی منصوبے بنائے گئے مگر خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آسکے۔ ماڈل کورٹس، ای کورٹ سسٹم اور نیشنل جوڈیشل پالیسی جیسے اقدامات کیے گئے مگر مقدمات کا بوجھ مسلسل بڑھتا رہا ہے۔
پاکستان کو اگر واقعی انصاف پر مبنی ریاست بنانا ہے تو عدالتی نظام میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
سب سے پہلے ججوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے ججوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ایک جج کے پاس ہزاروں مقدمات ہوں گے تو فوری انصاف ممکن نہیں رہے گا۔
دوسرا اہم قدم عدالتی نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے۔ مقدمات کی فائلیں آن لائن ہوں۔ تاریخوں کی معلومات موبائل پر دستیاب ہوں۔ ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کا نظام مضبوط کیا جائے۔ اس سے وقت اور اخراجات دونوں کم ہوں گے۔
تیسری اہم اصلاح پولیس اور تفتیشی نظام میں بہتری ہے۔ ناقص تفتیش مقدمات کو کمزور کرتی ہے اور انصاف میں تاخیر پیدا کرتی ہے۔ جدید فرانزک نظام اور غیر سیاسی پولیس عدالتی اصلاحات کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔
چوتھا قدم وکیلوں کی غیر ضروری ہڑتالوں اور تاخیری حِربوں پر پابندی ہے۔ بار کونسلوں کو اس حوالے سے سخت ضابطے بنانے چاہییں تاکہ سائلین کا وقت اور پیسہ ضائع نہ ہو۔
پانچواں اہم پہلو عدالتی احتساب ہے۔ اگر کسی جج یا عدالتی افسر کی غفلت یا کرپشن ثابت ہو تو اس کے خلاف شفاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انصاف کا نظام خود احتسابی کے بغیر قابلِ اعتماد نہیں بن سکتا۔
تعلیمی اداروں اور میڈیا کو بھی انصاف کے شعور کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوام کو اپنے قانونی حقوق کا علم ہونا چاہیے تاکہ وہ استحصال کا شکار نہ ہوں۔
دنیا کے کئی ممالک نے عدالتی اصلاحات کے ذریعے انصاف کی رفتار بہتر بناکر جدید ٹیکنالوجی اور متبادل تنازعاتی حل کے نظام سے مقدمات کم کیے گئے۔ پاکستان میں بھی ثالثی اور مصالحتی نظام کو فروغ دیا جا سکتا ہے تاکہ ہر چھوٹا مسئلہ عدالت تک نہ پہنچے۔
پاکستان کا عدالتی نظام اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اصلاح نہ ہوئی تو عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوگا۔ انصاف صرف فیصلے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان کی عزت، وقت اور حقوق محفوظ رہیں۔ اگر عدالتیں عوام کے لیے خوف کی علامت بن جائیں تو یہ کسی بھی ریاست کے لیے خطرناک صورتحال ہوتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالتیں طاقت کی علامت نہیں بلکہ اُمید کی علامت بنیں۔ سائل کو ذلیل کرنے کی بجائے اس کی داد رسی کی جائے۔ تاریخوں کے انبار کی بجائے بروقت فیصلے کیے جائیں۔ جج اور وکیل دونوں یہ یاد رکھیں کہ ان کے سامنے کھڑا شخص صرف ایک فائل نہیں بلکہ ایک زندہ انسان ہے جس کی پوری زندگی انصاف کے ایک فیصلے سے وابستہ ہوتی ہے۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پاک – امریکہ تعلقات
  • غالب اور میر: مطالعے کے چند پہلو
  • پیٹ کا مسئلہ
  • علامہ اقبال اور ملت اسلامیہ کی فلاح
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عالمی امن اسرائیلی خواہشات سے مشروط
پچھلی پوسٹ
تہذیب کا جنازہ اور ڈیجیٹل بدتہذیبی

متعلقہ پوسٹس

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

اپریل 28, 2026

شعر وشاعری کیا ہے

جون 26, 2021

بیانیے کا زہر

فروری 3, 2026

بسم اللہ

جنوری 12, 2020

آنکھوں کے راز اور خول

مارچ 24, 2026

تمام خوابوں کی تعبیر

دسمبر 9, 2025

ہماری غلامی اور اقبال کی تنبیہ

مارچ 30, 2025

ہماری اصل اوقات

فروری 17, 2026

الجھن

نومبر 15, 2019

گُل رخے

نومبر 2, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کھدر کا کفن

جنوری 22, 2020

"فالسہ” موسم گرما کا معالج

اکتوبر 24, 2021

موٹی چھوڑ کے لاڈو

مئی 21, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں