خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا ہمیں بندر بن جانا چاہیے؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا ہمیں بندر بن جانا چاہیے؟

از سائیٹ ایڈمن مئی 1, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 1, 2026 0 تبصرے 27 مناظر
28

انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا۔ اسے عقل دی گئی، شعور دیا گیا،تمیز دی گئی اور خیر و شر میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی۔اتنی صفات کے برعکس جب یہی انسان اپنی عقل کو ظلم کے لیے استعمال کرے، اپنے شعور کو فریب کا ہتھیار بنا لے اور اپنی طاقت کو کمزور کے گلے کا پھندا بنا دے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی وہ اشرف المخلوقات کہلانے کے لائق رہ جاتا ہے؟ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید بندر بن جانا انسان بنے رہنے سے بہتر ہے کیونکہ بندر کم از کم اپنی فطرت کے خلاف نہیں جاتا جبکہ انسان اپنی فطرت سے بھی غداری کر گزرتا ہے۔
قرآن مجید میں ایک واقعہ آتا ہے کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگوں نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی۔ ہفتے کے دن مچھلی کا شکار منع تھا،اس حکم کو انہوں نے حیلے بہانے سے توڑا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان پر عذاب آیا اور وہ بندر بنا دیے گئے۔ یہ واقعہ صرف جسمانی تبدیلی کی داستان نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ جب انسان حرص اور لالچ میں اندھا ہو جائے تو اس کی صورت چاہے انسانی رہے مگر سیرت بندر سے بھی بدتر ہو جاتی ہے۔
آج کا انسان بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج چہرے نہیں بدلے، کردار بدل گئے ہیں، دل پتھر کے ہو گئے ہیں اور آنکھوں میں صرف مفاد کا دُھواں بھرا ہے۔ انسان اب انسان کو نہیں دیکھتا بلکہ فائدہ دیکھتا ہے۔ رشتہ ہو یا دوستی ہر چیز ترازو میں تولی جاتی ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ

مطلب نکل گیا تو پہچانتےنہیں

آج کے معاشرے کی یہ سب سے بڑی بیماری ہے۔
لالچ وہ آگ ہے جو پہلے دل کو جلاتی ہے پھر پورے معاشرے کو راکھ کر دیتی ہے۔ ایک شخص جب اپنی دولت بڑھانے کے لیے دوسروں کا حق کھاتا ہے تو وہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں کرتا بلکہ انصاف کی بنیاد ہلا دیتا ہے۔ رشوت خور افسر ہو یا ذخیرہ اندوز تاجر دونوں معاشرے کی ساخت میں وہ دیمک ہیں جو خاموشی سے ستون چاٹتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ بظاہر سوٹ بوٹ میں ملبوس ہوتے ہیں مگر اندر سے جنگل کے درندے ہوتے ہیں۔
تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے مفاد کے لیے انسانیت کو نیلام کیا۔ ہٹلر نے اپنی برتری کے جنون میں لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اس کے نزدیک انسان نہیں صرف نسل اہم تھی۔ چنگیز خان نے خون کی ندیاں بہا دیں۔ شہروں کو جلا دیا اور بستیاں راکھ کر دیں۔ فرعون نے اپنی خدائی کے زُعم میں انسانوں کو غلام بنایا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے نفس کو خدا بنا لیا تھا۔
عہدِ حاضر میں اسی روش کو پوری آب و تاب کے ساتھ دُہرایا جس رہا ہے یعنی صرف چہرے بدلے ہیں کردار نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے کچھ بڑے نام ایسے ہیں جو غریب ملکوں کے وسائل کو نچوڑ کر اپنی سلطنتیں قائم کرتے ہیں۔ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں ، بازاروں میں بھی ہوتی ہیں۔ اسلحہ بیچنے والے امن کی بات کرتے ہیں اور دوا بنانے والے بیماریوں سے منافع کماتے ہیں۔ انسانیت یہاں بھی نیلام ہوتی ہے۔ صرف قیمت بدل جاتی ہے۔
اس گھٹیا سوچ کی ہمارے سماج میں بھی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ وہ بااثر لوگ جو غریب کی زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ وہ اُستاد جو علم بیچتا ہے۔ وہ ڈاکٹر جو مریض کو صرف بِل سمجھتا ہے۔ وہ مذہبی رہنما جو عقیدت کو تجارت بنا لیتا ہے۔ یہ سب انسانی خدو خال میں چھپے ہوئے وہ ناسور ہیں جنہیں دیکھ کر بندر بھی شرما جائے۔
اکیسویں صدی کو ترقی کا زمانہ کہا جاتا ہے مگر یہ ترقی انسان کے دل تک نہیں پہنچی۔ مشینیں جدید ہوئیں مگر جذبات پرانے زخم بن گئے۔ سوشل میڈیا نے رابطے بڑھائے لیکن دلوں کے فاصلے بھی بڑھا دیے۔ آج کسی کی موت روزمرہ خبر سے زیادہ کچھ نہیں۔ چند لمحوں کی اُداسی پھر اگلی تفریح۔ یہ بے حِسی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
غزہ ہو، کشمیر ہو، ایران ہو یا دُنیا کا کوئی اور خطہ انسانیت روز ذبح ہوتی ہے۔ بچے ملبے تلے دبے ہوتے ہیں اور دُنیا اشتہاری قراردادیں لکھتی رہتی ہے۔ مزے کی بات یہ کہ عورتوں کی عزت بازار کی خبر بن جاتی ہے اور طاقتور صرف تماشائی رہتے ہیں۔ انسانی بے توقیری اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب جانور زیادہ باوفا محسوس ہوتے ہیں۔ کُتا اپنے مالک کا وفادار آج بھی ہے اور انسان اپنے محسن کو کاٹ کھانے کو تیار بیٹھا ہے۔
اقبال نے کہا تھا:

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

یہ شعر آج کے دور کی مکمل تصویر ہے۔ انسان نے سہولتیں تو پیدا کر لیں لیکن احساس کھو دیا۔ دل زندہ نہ ہو تو جسم صرف چلتی پھرتی لاش رہ جاتا ہے۔
یہ صرف سیاسی جبر کی بات نہیں بلکہ اس معاشرتی زوال کی تصویر بھی ہے جہاں سچ بولنا جُرم اور ظلم سہنا معمول بن گیا ہے۔
ایک محاورہ ہے "اندھا بانٹے ریوڑیاں بار بار اپنے/اپنوں کا”۔ یہی حال ہمارے اداروں کا ہے۔ انصاف کمزور کے لیے نہیں طاقتور کے لیے ہے۔ سفارش کے بغیر دروازے نہیں کھلتے اور حق بغیر قیمت کے نہیں ملتا۔ ایسے ماحول میں اخلاقیات کا پودا کیسے اُگے گا؟
حضرت علیؓ سے منسوب قول ہے:”ظلم کرنے والا ظلم سہنے والے سے زیادہ نقصان میں ہے”۔ کیونکہ مظلوم کی آہ زمین سے آسمان تک جاتی ہے۔ مگر آج کا انسان اس آہ سے بے خوف ہو چکا ہے۔ اسے نہ خدا کا ڈر ہے نہ ضمیر کی خلش۔ جیسے پانی سر سے گزر جائے ویسے ہی بے حیائی حد سے گزر چکی ہے۔
شیخ سعدی نے "گلستان” میں لکھا تھا:” بنی آدم اعضائے یکدیگر اند”۔ یعنی انسان ایک جسم کے اعضا کی مانند ہیں۔ اگر ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہوتا ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ہم دوسروں کے زخم پر نمک چھڑکتے ہیں اور اسے ذہانت سمجھتے ہیں۔ کسی کی ناکامی ہمیں خوشی دیتی ہے اور کسی کی بربادی ہمارے لیے تماشا بن جاتی ہے۔
آج کے انسان کو دیکھا جائے تو وہ اس شیشے کی مانند ہے جو باہر سے چمکتا ہے مگر اندر سے کھوکھلا ہے۔ زبان پر شہد اور دل میں زہر۔ چہرے پر مسکراہٹ اور نیت میں خنجر۔ ایسے انسان سے تو جنگل کا بندر بہتر ہے جو کم از کم منافقت نہیں کرتا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہمیں بندر بن جانا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم پہلے ہی اخلاقی طور پر بندر نہیں بن چکے؟ جب ضمیر بِک جائے، جب انصاف مر جائے، جب محبت مفاد بن جائے اور جب انسان دوسرے انسان کی عزت کو روند کر آگے بڑھنے لگے پھر صرف شکل انسان کی رہ جاتی ہے روح نہیں۔
ہمیں بندر نہیں انسان بننے کی ضرورت ہے۔ انسان دراصل وہ ہے جو رحم جانتا ہو، شرم رکھتا ہو، انصاف پر قائم ہو اور دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہو۔ اگر یہ انسانی صفات ختم ہو جائیں تو پھر انسان اور بندر میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں۔ اپنے نفس کے فرعون کو پہچانیں۔ اپنی حرص کے ہٹلر کو روکیں اور اپنے دل کے اندھیرے میں روشنی پیدا کریں۔ ورنہ تاریخ صرف یہ نہیں لکھے گی کہ انسان نے ترقی کی بلکہ یہ بھی لکھے گی کہ انسان اپنی انسانیت ہار گیا۔
میرا ذاتی احساس یہ ہے کہ بندر بن جانا مسئلہ نہیں اصل المیہ انسان رہ کر حیوان بن جانا ہے۔ اگر دل مُردہ ہو جائے تو چہرے کی خوبصورتی بے معنی ہے۔ اگر ضمیر زندہ ہو تو فقر بھی بادشاہی ہے۔ انسان کو بندر نہیں بننا چاہیے بلکہ اسے دوبارہ انسان بننا چاہیے۔
دُنیا کو مشینوں سے نہیں انسانوں سے اُمیدیں ہیں۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اسلام میں نوجوانوں کا کردار اور ذمہ داریاں
  • عجب نہیں کہ برس جائے ابر چھائے بغیر
  • قدیم ترین عشقیہ گیت
  • فطرت کے توازن میں ایک مکمل وجود
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کھلنے لگے اس دل میں گلاب اور زیادہ
پچھلی پوسٹ
اپنی حیا میں اشک سموتی ہے آج بھی

متعلقہ پوسٹس

گلشنِ اقوال

جون 5, 2024

ہماری غلامی اور اقبال کی تنبیہ

مارچ 30, 2025

جنٹلمینوں کا بُرش

جنوری 31, 2020

ایک خط لکھنا ہے !

مئی 20, 2020

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

وہ بڈھا

جنوری 15, 2020

جلتا ہوں تو سینے میں دھواں ہے

دسمبر 12, 2025

رشید حسرتؔ

نومبر 18, 2025

خالد میاں

جنوری 12, 2020

دعوت اسلام روکنے کی سازشیں

اکتوبر 19, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کوئی تو اپنا ہو کوئی تو...

دسمبر 7, 2025

رنگِ سوات

جنوری 19, 2020

تنقید نگاری سے توبہ

دسمبر 15, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں