خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامطلوع ماہتاب
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرسبین علی

طلوع ماہتاب

از سائیٹ ایڈمن مارچ 25, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 25, 2026 0 تبصرے 44 مناظر
45

فلک کے کناروں کو دبیز دھند نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور گہرے اندھیرے میں زمین پر ستاروں کی ٹمٹماتی لو پہنچنے کے کوئی آثار نظر نہ آ رہے تھے۔ فلک بوس برفیلی چوٹیوں اور برف سے ڈھکی وادیوں میں چاند کو دیکھ کر ہوکنے والے جنگلی بھیڑیے شکار ناپید ہونے کے بعد ایک دائرے میں بیٹھے، آنکھوں میں آنکھیں ڈالے غُرا رہے تھے۔ وہ اس انتظار میں تھے کب کسی ایک کی پلک جھپکے اور باقی سب اس کی بوٹی بوٹی کر دیں۔ ٹھٹھرتے جگنوؤں نے جنگل کی راہ بدل لی تھی۔ بانسری بجانے والے نچلی وادیوں میں اتر گئے تھے یا ڈر کے مارے بھیس بدل کر اس علاقے سے نکل چکے تھے۔ جنوری کی کئی سرد اندھیری اور طوفانی راتوں کے بعد ہوا ساکت تھی گہرے بادلوں کے پیچھے کہیں روشن راتوں کا چاند موجود تھا مگر وہ بھی شاید ڈرا سہما چھپا بیٹھا تھا۔
لکڑی کے چوکور بکسوں میں بند شہد کی مکھیاں کچھ دن سے ہر خوارک سے محروم تھیں۔ شدید برفباری اور برفانی تودے گرنے کی وجہ چیڑ کے درخت کی ٹوٹی شاخیں انہیں ڈھانپ ہوئے تھیں اور جنگلی پھولوں کے ننھے بیج کئی فٹ برف کے نیچے رت بدلنے کے منتظر تھے۔

زرغونے یہ اندازہ لگانے کے بعد کہ اب باہر کوئی نقل و حرکت نہیں، پشمینے کی شال اوڑھے اپنے نیم خستہ گھر سے برآمد ہوئی اسے گہرے اندھیرے سے ہمیشہ وحشت ہوا کرتی تھی۔۔۔ اس علاقے میں اماوس کی راتیں بھی اتنی اجلی ہوتی گویا ارب ہا ٹمٹماتے دیے آسمان سے جھک کر نیچے دیکھ رہے ہوں۔ لیکن اس رات آسمان گہرے بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔
سب سے پہلے اس نے شہد کی مکھیوں کے چوکور بکسوں کے پاس بچے کچھے پھلوں کے ٹکڑے اور شیرہ رکھا۔ اور پھر اپنے صحن کی بیرونی دیوار سے پرے گرے پتھر ایک ایک کر کے ترتیب دیتی دھیمی آواز میں کوئی لوک دھن گنگنانے لگی۔۔۔

سپوگمئے سپوگمئے
اے ماہتاب طلوع ہو

بھیڑیے بھوک کی رسم نبھا رہے ہیں
کہرے نے رات طویل تر کر دی ہے

مگس آب حیات کی تلاش میں ہیں
اے ماہتاب طلوع ہو

بتا ابھی فلک کا کتنا سفر باقی ہے
پچھلے سال اس کے بچوں کا سکول بھی اڑا دیا گیا تھا اور اس سال دہشت گردوں کا جزوی صفایا ہونے کے بعد امید تھی کہ کھنڈر میں ہی سہی اس کے بچے آنے والی گرمیوں میں دوبارہ سکول جا سکیں گے۔ کتابوں کے پھٹے اوراق مرمت کر کے اوپر گتے رکھ کر اس نے جلدیں باندھ دی تھیں۔

اسے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کا جنون تھا۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی بھی کہیں تیس ہزار میں فروخت کر دی جائے۔ یا اس کا بیٹا ہیروئین اسمگل کرتا کسی باڈر پر پکڑا جائے۔۔۔ جانے تخریب بہادری کی علامت کب سے ٹھہرائی گئی ہے؟

زرغونے کیا صرف تیس ہزار میں تیرے باپ نے تجھے بیچ دیا تھا۔ اس کے کانوں میں مکھیاں بھنبھنانے لگیں۔ خوبانی کے درختوں پر بور آیا ہوا تھا۔ اس نے نوعمری کے سپنے دیکھنے بھی شروع نہ کیے تھے جب ایک بیمار اور بوڑھا شخص میدانی علاقے سے آکر اس کے باپ کے ساتھ رشتے کا سودا تیس ہزار روپے میں طے کر چکا تھا۔
برفباری کا آغاز ہوا ہی تھا ابھی پھلوں کی فصل بھی تیار نہ ہوئی تھی جب شاخیں چھانگ دی گئیں۔ جب وہ خریدار اسے بیاہ کر میدانی علاقوں میں لے گیا تھا اس کا قد بھی پورا نہیں نکلا تھا۔ اس نے اپنے علاقے کی بیشتر عورتوں کی طرح ان رواجوں کو اپنا مقدر سمجھ کر قبول کر لیا۔ غربت و جہالت میں پروان چڑھی ان لڑکیوں کے پاس کوئی اور چارہ بھی نہ ہوتا تھا۔

چند ہی برسوں میں زرغونے کا مجازی خدا نما لباس مسک کر خستہ ہو چکا تھا۔ وہ اپنے گاؤں کے قریب موجود سرکاری کالونی میں برتن مانجھنے اور کپڑے دھونے کی ملازمت کرنے لگی اور مفلوج شوہر کی دوا یا دو بچوں کی روٹی کے عوض بڑے صاحب سے لے کر چھوٹے صاحب تک کے بدن کا میل اپنے بدن پر اوڑھ لیتی رہی۔
تو گناہ گار نہیں ہوتی زرغونے۔۔۔ باورچن اسے کہتی۔

کس بات کی گناہ گار۔۔۔ روٹی کمانے کی۔۔۔؟
وہ میرا باپ ہوا گناہ گار۔۔۔ کلمے پڑھوا کر چھوٹ جائے گا؟

اور وہ بڈھا جانے کتنے ہزار کما کر اس کی ہتھیلی پر دھر چکی ہوں۔۔۔ وہ ہوا گناہ گار۔۔۔
اور زرغونے اُسی طرح اجلی کی اجلی اور نکھری نظر آتی جیسی پہاڑوں سے رخصت ہوتے وقت تھی۔

مکھیوں کی بھنبھناہٹ میں ڈنگ کی سی تلخی سنائی دے رہی تھی۔
پچیس کا سن چڑھا تو بیوگی نے آن لیا اور وہ میدانوں سے پھر برفیلی وادیوں میں لوٹ آئی۔

موسم بدلا تھا مگس نیا چھتا سینچنے میں لگی ہوئی تھیں جب اس کا دوسرا شوہر سنگین خان اس کی گود میں مزید دو بچے ڈال کر خود بندوق اٹھائے شدت پسندوں سنگ ہو لیا۔
مرغزاروں میں ہر نسل کے بھیڑیے کھلے بندوں پھرنے لگے۔ ان کی غراہٹیں سماعتوں کو مسموم کیے ہوئے تھیں۔ بارود اور لہو کی بساند سیب لوکاٹ اور خوبانی کی خوشبو پر حاوی ہو گئی اور وہ کتابوں کے ورق ورق اکٹھے کرتی حالات بدلنے کا انتظار کرتی رہی۔

آخر یہ مرد بندوق کو زیور کیوں سمجھتے ہیں۔ وہ تلخی سے سوچتی۔ محض بندوقوں سے کبھی حالات بدلے ہیں کیا؟
تپتی دھوپ میں جھلستے پھر برف میں منجمد ہوتے اس نے اتنا سمجھ لیا تھا کہ پڑھ لکھ کر کوئی انسان اخلاقی ضابطوں میں بہتر نہ بھی ہو مگر بہتر زندگی ضرور گزار سکتا ہے۔

وہ اپنے بچوں کو پڑھائے گی۔۔۔ اس کا بیٹا پہاڑوں پر نہیں بلکہ چراٹ جائے گا۔ اس کی بیٹی سکول میں استانی لگے گی۔۔۔ یہی خواب اس کی حیات تھے۔
شہد کی مکھیاں صبح سے شام تک جنگلی پھولوں کا رس اکٹھا کرتیں،چھتے بھرتیں اور تنگ آکر آئے دن کئی نکھٹو مکھے مار دیتیں۔اگلی گرمیوں میں جب سیاح ان علاقوں کا رخ کریں گے تو اس کے بچے سکول سے لوٹ کر مرتبانوں میں شہد اٹھائے اسے مرغزاروں دریاؤں اور جھیلوں کے کنارے بیچنے جائیں گے۔

اگر سیاح آئے۔۔۔ اگر گھوڑے خچر اور جیپیں یہاں پہنچیں۔۔۔اگر بارود کی مہک جامنی پھولوں کی مہک سے دب گئی اس کے صحن میں لگے آلوچے اور خوبانی کے درخت خوب پھل دے دیں تو کتنا اچھا ہوگا۔
اور اگر حالات یہی رہے تو کیا ہوگا؟ وہ تفکر سے بڑبڑائی۔

کاش یہ عجیب و غریب لوگ جنہوں نے دہشت پھیلا رکھی ہے یہاں کبھی نہ آتے، نہ ہی کوئی کمسن ان کے جھانسے میں آتا۔ عورتوں کا بھلا کیا ہے۔۔۔ ان حالت پہلے کمتر تھی اور اب بدتر۔۔۔ دین و دنیا تو ایک طرف زندہ رہنے کے لیے نان روٹی کے بھی لالے پڑ چکے۔۔۔
نان روٹی اور گوشت کا سالن یہی کھلایا تھا اس کے باپ نے اپنی برادری کو۔۔۔ اس کے ولور کی رقم سے اور اس کے جسم کو مقدس کلمات پڑھے پانی کا غسل دے کر دو بار حلال کیا گیا تھا ان فیصلوں کے لیے جن میں زرغونے دل سے کبھی راضی نہ تھی۔

وہ سوچوں کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اپنے خوف پر قابو پانے کی کوشش میں پھر سے انگلی گنگنانے لگی،
اے ماہتاب طلوّع ہو

طویل رات کا گہرا اندھیرا ہے
لعل و جواہر گلیوں کی خاک چھان رہے ہیں اور نان سے روشنی نہیں پھوٹتی

پھولوں کے بیج گہری برف تلے دبے
پھوٹنے کے منتظر ہیں۔۔۔

مگر اندھیرے کی وحشت تھی کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ دیوار پر پتھر جماتے وہ دبے پاؤں بھیڑوں کے باڑے کی طرف بڑھی۔ اپنے سر کے گرد شال جماتے ہوئے اس کا پاؤں خشک لکڑی پر پڑ گیا؟ ایک چرچراہٹ ہوئی۔۔۔
سنگین خان نے ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا تھا۔ اندھیرے کی وحشت آخری حدوں کو چھو کر ختم ہونے لگی تھی۔ اس کا خوف ہوا ہو چکا تھا۔

میرے ساتھ مہمان ہیں گھر کے اندر جاؤ اور کچھ چائے قہوہ بھیجو یہاں۔ خبردار کسی کو پتا چلا ہماری ادھر موجودگی کا ورنہ کھوپڑی اڑا دوں گا۔ پچھلی بار جب سنگین اپنے ساتھ لے کر یہاں آیا تھا تو اسی رات لہو بارود کی آندھی کئی گھر اجاڑ گئی تھی۔۔۔
زرغونے بغیر کوئی جواب دیے مضبوط قدم اٹھاتی واپس گھر کے اندر داخل ہوئی۔ اس نے دہکتے آتش دان میں چند لکڑیاں اور ڈالیں اور کیتلی میں قہوہ دم پر رکھ دیا۔

جب اپنے بچوں پر ڈالا گرم لحاف درست کر رہی تھی تو اسی وقت فوجی جیپیں پورے احاطے کو گھیرے میں لے رہی تھیں۔ چند ہی لمحوں میں جوان دھڑادھڑ عمارت کے اندر کودتے سنگین خان سمیت سب کو مزاحمت کا موقع دیے بغیر گرفتار کر چکے تھے۔
اینٹی ٹیرراسٹ اسکواڈ کے جوان اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت ہوئے تو وہ پھر ٹوٹی ہوئی دیوار کے قریب آن کھڑی ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں چھوٹا سا موبائل فون جگمگا رہا تھا۔ پھر وہ شہد کی مکھیوں کے بکسوں کی طرف لوٹی تو دیکھا کہ آسمان پر بادل چھٹ رہے ہیں اور ہالے میں چمکتا چاند مسکرا رہا ہے ساتھ ہی اربوں ستارے زمین پر جھانک رہے ہیں۔

اے ماہتاب طلوع ہو
اپنی روشنی بکھیرو

تارے تمہارے ہمرکاب
روشنی کا ورد کریں

سبین علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اب اور تب
  • مولوی عبدالحق اور اُردو زبان
  • یوم عہد وفا – 14 اگست
  • ہالی ووڈ کا فریب – پہلی قسط
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سمندر کے نام ایک غنائیہ
پچھلی پوسٹ
گل مصلوب

متعلقہ پوسٹس

آج کی حوا

نومبر 30, 2019

نواب سلیم اللہ خان

جنوری 15, 2020

یومِ آزادی اور ہم

اگست 15, 2020

ذہن کی نسوں میں وہ سوچ کو سجاتا ہے

جولائی 7, 2026

کہنو مجنوں کے مرنے کی

جولائی 5, 2024

بارِ خاک

دسمبر 10, 2024

”جہیز“

اپریل 4, 2021

آلنا

فروری 5, 2022

وہ صبح ہم ہی سے آئے گی

جنوری 11, 2020

تعلیم اور روزگار کا ربط

ستمبر 20, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ٹک ٹاک کالم

جنوری 20, 2021

فيه ذكركم

جنوری 24, 2026

اچھرہ واقعہ کے قابل غور پہلو

مئی 10, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں