خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریراردو میں ادبی تاریخ کی روایت
اردو تحاریرمقالات و مضامین

اردو میں ادبی تاریخ کی روایت

رضوان احمد کی ایک اردو تحریر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019 0 تبصرے 535 مناظر
536

 اردو کے نام ور نقاد اور دانش ور شمس الرحمن فاروقی

معروف نقاد اور محقق شمس الرحمن فاروقی نے بیس فروری کو تاریخی خدا بخش لائبریری میں ”اردو ادب کی نئی تاریخ کی ضرورت“ کے موضوع پر اپنا عالمانہ خطبہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے اردو میں ادبی تاریخ کی ترتیب کی کوئی اعلیٰ اور صالح روایت موجود نہیں رہی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوشخص ڈیڑھ سو برس کی ذہنی غلامی سے آزاد ہو، وہی اردو ادب کی غیر جانب درانہ تاریخ لکھ سکتا ہے -انہوں نے اپنے لکچر کے آغاز میں کہا کہ پروفیسر رالف رسل نے ادب کی تاریخ لکھنے کے لیے تین نکات کی ضرورت بتائی ہے۔ پہلا انتخاب دوسرا اختصار اور تیسرا تاریخی اور سماجی پس منظر۔ لیکن وہ ان تینوں نکات کو رد کرتے ہیں کیوں کہ یہ کسی طرح بھی ادبی تاریخ لکھنے میں معاون نہیں ہو سکتے۔ اس لحاظ سے رسل صاحب نے جو قاعدے کلیے وضح کیے ہیں ان کا اردو ادب کی تاریخ تحریر کرنے پر اطلاق نہیں ہو تا۔

انہوں نے کہا کہ سب سے بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ ہم فورٹ و لیم کی کتابوں کو فخر سے سر پر اٹھائے پھرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتابیں انگریز افسروں کو اردو سکھانے کے لیے لکھوائی گئی تھیں۔ میر امن کی باغ و بہار کا ناقدین بار بار ذکر کرتے ہیں لیکن اس کی ادبی حیثیت مشکو ک ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ رفیع الدین نے سنہ 1800ءمیں اردو میں قرآن کا ترجمہ کیا تھا اور اس میں لکھا تھا کہ میں قرآن کا ہندی میں ترجمہ کر رہا ہوں تو در اصل حقیقت بھی یہی ہے کہ اردو کا اولین نام ہندی، ہندوی یا ریختہ تھا۔ ہندی زبان کا اس وقت تک کوئی وجود ہی نہیں تھا اور اردو کی بہت ہی پختہ ادبی روایات قائم ہو چکی تھیں جسے ہندی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم لوگوں نے اس نام کو ترک کر دیا اس کے ساتھ ساتھ اس ورثے کو بھی چھوڑ دیاگیا۔ اس زمانے میں بنارس سے لے کر مرشد آباد تک ہندی یا ہندوی میں لکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ سورت میں تو چودھویں صدی میں اسی زبان یعنی ہندی، ہندوی یا اردو کا بول بالا تھا۔

شمس الرحمن فاروقی نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ اردو کبھی بھی سرکاری زبان رہی ہے یا سرکار دربار سے اس کی سرپرستی ہو تی رہی ہے کیوں کہ اس زمانے کے جتنے بھی دربار تھے سب کی زبان فارسی تھی۔ صرف ٹیپو سلطان نے اردو کو سرکاری زبان بنایا تھا لیکن اس کا عرصہ 8-9سال سے زیادہ نہیں رہا۔

جناب فاروقی نے کہا کہ سب سے بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اردو میں ادبی تاریخ لکھنے کی روایت کی جو بنیاد رکھی گئی وہی کج تھی۔ اس سلسلہ کی پہلی کتاب محمد حسین آزاد کی ”آب حیات“ ہے لیکن ان کے ذہن میں یہ واضح ہی نہیں تھا کہ و ہ تذکرہ لکھ رہے ہیں یا تاریخ۔جب انہوں نے خود ہی لکھ دیا کہ وہ نام ور شعرا کے حالات لکھ رہے ہیں توا س سے ان کے ذہنی تعصبات صاف ظاہر ہو رہے ہیں کہ وہ جنہیں نام ور مان رہے ہیں وہی بڑے شاعر ہیں، باقی شعرا کسی شمار قطار میں نہیں ہیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا بھی ہے۔ قائم چاند پوری جیسے باکمال شاعر کا ذکر ایک سطر میں حاشیہ میں کیا گیا ہے۔

” آب حیات “ کی اس خامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ محمد حسین آزاد کے سامنے ایک ایجنڈا تھا اور انہوں نے اسی ایجنڈے کے تحت وہ کتاب لکھی، اس طرح سے غلط روایت کی بنیاد پڑ گئی۔ آب حیات کی اس خامی نے اردو ادب کی تاریخ کو مسخ کر دیا۔ آزاد کے ذہن میں تعصبات بہت ہیں، انہوں نے اردو کے ہندو شعرا کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے علاوہ شاعرات کی بھی اردو میں بڑی مضبوط بنیاد تھی، مگر آزاد نے کسی شاعرہ کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

فاروقی نے پروفیسر شارب ردولوی کی ادبی تاریخ کے اصول و نظریات کا بھی ذکر کیا۔ لیکن اس کے بارے میں بھی انہوں نے بتایا کہ ایک طرح کی تدریسی کتاب ہے اور اس میں ادب کی تاریخ لکھنے کے اصول واضح نہیں کیے گئے ہیں اور یہ اس کتاب کی بڑی خامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر رام بابو سکسینہ کی کتاب بھی صرف تدریسی کتاب ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ التبہ انہوں نے ڈاکٹر گیان چندر جین کی کتاب اردو کی ادبی تاریخیں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر جین نے اردو کی ادبی تاریخوں کا تفصیل سے جائزہ تو لیا ہے اور ان کی خامیاں بھی بیان کی ہیں لیکن اس کے ساتھ انہوں نے اس بات کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا ہے کہ ادبی تاریخ لکھنے کا فلسفہ کیا ہے۔ اس کے واضح نکات کیا ہیں اور اس کی سائنسی تشکیل کس طرح سے کی جانی چاہیئے۔

شمس الرحمٰن فاروقی نے ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی تاریخ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تاریخی حوالے اور اصل مواد بھی پیش کیا گیا ہے، اس لیے اس کی ادبی اور تاریخی حیثیت ہے لیکن جمیل جالبی بھی اپنے ذہنی تحفظات کو بالائے طاق نہیں رکھ سکے ہیں۔ ہمارے ادبا اور ناقدین کی سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ وہ ذہن میں یہ مفروضہ رکھ کر چلتے ہیں کہ اردو میں بس دو ہی دبستان تھے، ایک لکھنئو اور دوسرا دہلی۔ حالانکہ جس زمانے کے ان دو دبستانوں کا ذکر کیا جاتا ہے اس وقت دکن میں ادب کی تخلیق ہو رہی تھی، بنگال کے مرشدآباد میں بھی اردو لکھنے پڑھنے والے تھے، عظیم آباد میں بھی اور گجرات کے سورت میں بھی اور ان سب کا کتابوں میں تفصیل سے ذکر ملتا ہے۔ اس کے باوجود صرف دبستان دہلی اور دبستان لکھنو کا ذکر کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔

بد قسمتی سے ادبی تاریخیں لکھنے والوں کے ذہن پر آج بھی لکھنویت یا دہلویت سوار ہے، اسی لیے وہ منصفانہ اور غیر جانب دارانہ تاریخ نہیں لکھ پاتے۔ اس کے لیے انہوں نے جامعات کے اردو اساتذہ کو ذمہ دار قرار دیا جو درسیات کی کتابوں تک محدود رہتے ہیں اور یہ درسی کتابیں اردو ادب کی تاریخ کو مسخ کر تی رہی ہیں اور اب بھی کر رہی ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اب تک ہمارے یہاں ادبی تاریخ لکھنے کی صالح روایت نہیں بن سکی ہے، جو ایک بڑا المیہ ہے۔

 

رضوان احمد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • صوفے پر ایک لمحہ
  • شبِ معراج
  • ہیری پوٹر ان ٹربل
  • تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ
پچھلی پوسٹ
مرثیہٴ حسین اور انقلاب

متعلقہ پوسٹس

موسیقی کی حرمت

جون 29, 2020

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

ستمبر 6, 2024

نیا سال

نومبر 15, 2019

جیسا بیج ویسا پھل

فروری 14, 2020

ستارہ یا بادبان (حسن عسکری)

مئی 24, 2026

جانشینی سرٹیفیکیٹ

نومبر 26, 2025

گڈ ڈیڈ،بیڈ ڈیڈ

اگست 25, 2025

مینارِمحبت کا شہزادہ

فروری 17, 2020

پی آئی اے کی نجکاری

دسمبر 25, 2025

گُل رخے

نومبر 2, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک بیوقوف عورت

جنوری 24, 2020

عید اور رسم مصافحہ

مئی 22, 2020

پروفیسر گوہر نوید کے تنقیدی نظریات...

فروری 13, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں