18
کر کے تعمیر کربلا مجھ میں
ہوگیا ختم معرکہ مجھ میں
یہ خلا بھر نہیں رہا مجھ میں
آ مری جان لوٹ آ مجھ میں
جب بھی دیکھا غرور دریا کا
پیاس نے سر اُٹھا لیا مجھ میں
ایک دیوار گر گئ میری
تب کہیں راستہ کھُلا مجھ میں
کیسے لکھتا قصیدے شاہوں کے
میں کہیں تھا چھپا ہوا مجھ میں
سارا مفہوم ہو گیا تبدیل
کھنچ گیا ایک حاشیہ مجھ میں
زاہدہ جیسی تمکنت اس کی
اور کوئ جون ایلیا مجھ میں
اور پھر عمر بھر کی خاموشی
اک ذرا شور سااُٹھا مجھ میں
طارق قمر
