خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامتبلیغی جماعت کا جائزہ (زمینی حالات)
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

تبلیغی جماعت کا جائزہ (زمینی حالات)

از سائیٹ ایڈمن جنوری 14, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 14, 2026 0 تبصرے 38 مناظر
39

متحدہ عرب امارات سے ایک جماعت چالیس دن کیلئے روس میں تبلیغ کی غرض سے گئی۔
تو جس مسجد میں انکی تشکیل ہوئی بدقسمتی سے اسکا قفل بھی زنگ آلود ہوچکا تھا ۔
جماعت کے ساتھیوں نے مسجد کھولی تو ساری مسجد مٹی کا ڈھیر بنی ہوئی تھی ۔
پوری مسجد میں گرد جمع تھی انہوں نے پوری مسجد کی صفائی کی نماز کا وقت ہوا آزان کی آواز سن کر ایک بڑھیاتیز قدموں سے چلتی ہوئی مسجد کی دہلیز پر آکھڑی ہوئی ۔
اور حیرت سے جماعت کے ساتھیوں کو تکنے لگی ۔
غور سے اردگرد کا معائنہ کرتی رہی۔
ساتھیوں کے دریافت کرنے پر کہا کہ میں یہی پڑوس میں رپتی ہوں ستر سال ہوگئے ہیں میں نے کبھی اس مسجد میں کسی کو آتے نہیں دیکھا ۔
جیسا آپکو کرتے دیکھا یہ سب میرے باپ دادا کرتے تھے لیکن انکے بعد جوں جوں وقت گزرتا گیا سب بدلتا گیا ۔
جب تبلیغیوں نے یہ دل سوز باتیں سنیں تو رونے لگ گئے کہ ھم نے آنے میں بہت دیر کردی ۔
اگلے دن یہ لوگ محلے میں گھر گھر دکان دکان پر جا کرکے لوگوں کو جو ناسمجھی کی وجہ سے مرتد ہوچکے تھے انکو اسلام کی دعوت دی پھر سے مسلمان کیا اور مسجد میں لائے ۔
چند ہی ہفتوں میں پورے محلے میں دین کی لہر آ گئی ۔ جیسا کہ اسلام انکے کیلئے اک نیا مذہب ہو ۔
کچھ دنوں بعد محلے والوں نے 500 گز کی قالین پر تمام لوگوں کو جمع کیا اور جماعت والوں سے دین کے معاملات سیکھے اور مزید محنت کیلئے لوگوں کو تاکید کی ۔
پھر جب ان کے چالیس دن پورے ہوگئے تو انکی رخصتی کے دن اس محلے میں گھمسان کا عالم تھا جیسے کہ انکا کوئی خاص عزیز فوت ہوگیا ہو ۔ یہ آپ کہاں جا رہے ہیں ؟؟ کیا آپ لوگوں کو دکانیں چاہئیں؟ ؟
کیا آپ لوگوں کو مکان چاہئے یا عورتیں؟ ؟؟ دکان مکان کا بندوبست ھمارے ذمے ہے ھم اپنی بیٹیوں کے نکاح آپ سے کرنے کیلئے تیار ہیں بس آپ لوگ ھمارے ساتھ رہ کر ھماری اسلام سے متعلق مزید رہنمائی فرمائیں ۔
تو جماعت والوں نے انکو اپنی ترتیب سے متعلق بتایا لیکن وہ مانے ۔
وہ لوگ بضد تھے کہ آپ لوگ واپس نہ جائیں کہیں پھر سے ھماری نسلیں تباہ نہ ہوجائیں تبلیغیوں نے اپنی مجبوریاں اور تقاضے بتائے تو بلاخر اس بات پر وہ آمادہ ہوگئے کہ ھم لوگ جاتے ہی اک دوسری جماعت بھیجنے کے لئے اپنے مرکز میں درخواست کریں گے ۔
اس طرح سے یہ جماعت اللہ کی راہ سے واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئی۔

امریکہ میں قریبا 52 صوبے ہیں وہاں کے لوگ جب رائیونڈ میں اجتماع پر آئے تو درخواست کی کہ ھمیں ہر صوبے کیلئے الگ سے ایک جماعت چاہئے جو در
در پہنچ کر اسلام کی حقانیت سے لوگوں کو مستفید کریں۔

امریکہ میں اک جماعت گئی اس جماعت کے دولوگ ایک بندے کے پاس دین کی غرض سے پہنچے تو اس نے اک بندے کا گریبان پکڑ کر کہا میرے ابو امی بغیر کلمہ پڑھے اس دنیا سے چلے گئے ہیں اس سب کے ذمہ دار تم لوگ ہو ۔
تم لوگوں نے دین پہنچانے میں بہت دیر کر دی قیامت کے دن میں تم لوگوں سے اس بات کا حساب لونگا ۔
جب اس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس سے اس ملال کی وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کچھ ہی ماہ پہلے وہاں کی اک دوسری جماعت آئی تھی جنکی بدولت یہ بندہ اسلام سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوا ہے اور اسکو دکھ ہے کہ اسکے والدین بہت بڑی نعمت سے شرمندہ ہوکر ھمیشہ کیلئے جہنم کی آگ میں جلیں گے۔

فلپائن میں 400 سال پہلے 100 فیصد مسلمان تھے لیکن اسلام سے ناھم آہنگی کی بدولت یہ لوگ اسلام سے دور ہوتے گئے اور کچھ لوگ تو برائے نام مسلمان رہ گئے باقی سب مرتد ہوگئے ۔
کسی کا بھائی عیسائی تو کسی کا باپ ۔
جب پہلی بار 1976 میں رائیونڈ سے وہاں جماعت گئی تو سات آدمی اس کام میں لگ گئے پھر 1993 تک ایک لاکھ فلپائینی تبلیغ کی محنت پر گامزن ہوچکے تھے .
بنگلہ دیش میں تبلیغی اجتماع کے موقع پر ایک فرانسیسی آچانک ممبر پر آکر کہنے لگا کہ اے لوگو ھم نے تم لوگوں تک چھوٹی سے چھوٹی اپنی ایجادات بھیجی تاکہ سارے لوگ ھماری ایجادات سے مستفید ہوں لیکن تم نے لوگوں نے مفت کا کلمہ تک ھمارے اجداد سے روکے رکھا اسکا حساب اللہ تم سے لے گا ۔

چند سال پہلے تنزانیہ میں ایک جماعت گئی ۔
کچھ ماہ بعد انکا ایک خط رائیونڈ میں موصول ہوا کہ یہاں کے لوگوں میں دین کی اتنی طلب اور پیاس ہے کہ ایک دن میں 3ہزار لوگوں نے اسلام کی دعوت قبول کر لی ۔
اور جب وہ جماعت سال پورا کرکے واپس آئی تو کارگزاری میں بتایا کہ ایک سال میں 20 ہزار لوگ مسلمان ہوئے ہیں ۔

انگلینڈ میں 1952 میں جب پہلی جماعت گئی تو وہاں صرف دو مسجدیں تھیں اور اب تبلیغ کی محنت اور اللہ کے کرم سے 1500 مساجد ہیں۔ ۔
جن میں سے 100 سابقہ گرجا گھر ہیں ۔
انگلیڈ والوں کا کہنا ہے کہ وہاں اب گرجا گھر بہت کم رہ گئے ہیں جب بھی کوئی گرجا گھر فروخت ہونے لگتا ہے تو مسلمان خریداری میں پہل کرتے ہیں ایک گرجا گھر کی خریداری پر ایک ہندو نے مندر بنانے کیلئے قیمت میں چھڑائی کردی تو مسلمانوں کی عورتوں نے اپنے زیور بیچ کر اسکی رقم ادا کی اور گرجا گھر کی جگہ مسجد تعمیر کرائی ۔
یاد رہے گرجا گھروں کی جگہ مسجدوں کی تعمیر کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے حکومت نے پابندی بھی لگائی تھی ۔ اب وہاں گرجا گھر صرف اتوار والے دن کھولے جاتے باقی پورا ہفتہ بند رہتے ہیں ۔

یوگوسلاویہ میں جب پہلی جماعت گئی تو دور دور تک مسجدوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے انکو ہوٹل میں رہنا پڑا اور اب الحمدللہ دعوت و تبلیغ کی محنت سے وہاں آج 3500مساجد آباد ہیں ۔

ہالینڈ کا موجودہ تبلیغی مرکز پہلے پادریوں کا دینی مدرسہ تھا جہاں پر پادریوں کو دینی تعلیم دی جاتی تھی ۔

لندن میں جو تبلیغی مرکز ہے وہ پہلے عیسائیوں کا گرجا گھر تھا ۔
کینیڈا میں پادریوں کا ایک بہت بڑا مدرسہ تھا لیکن آج وہاں پر قرآن و حدیث کا درس دیا جاتا ہے ۔

فلپائن سے ایک جماعت کو کیوبا بھیجا گیا جس کی برکت سے وہاں کے 3000 مرتدوں نے کلمہ پڑھا اور 30 باقی لوگ بھی اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔
جب یہ جماعت واپس آنے لگی تو کیوبا والے زارو قطار رونے لگے اور درخواست کی کہ ھمارے بھائیوں سے کہنا ھمیں بھول نہ جائیں ھمارے یہاں راہنمائی کیلئے اسلام کے فروغ کیلئے اور ھماری نسلوں کے ایمان کے تحفظ کیلئے آتے رہنا ۔

فلپائن میں عورتوں کی ایک جماعت گئی تو انکا بیان سن کر60 فلپائینی عوروتیں نے وہیں بیٹھ کر اپنے لئے برقعے منگوائے اور واپسی پر برقعوں میں ملبوس ہوکر واپس گھر ہوئی ۔
انہوں نے اپنے بچوں کو دین کی تعلیم کیلئے رائیونڈ بھیجا جب پتہ چلا کہ دینی تعلیم کیلئے پوری دنیا سے لوگ رائیونڈ کی طرف آرہے ہیں اور تعداد میں کثرت کی وجہ سے کچھ بچوں کو واپس کیا جارہا ہے تو فلپائنی عورتوں کی طرف سے ایک خط موصول ہوا کہ خدارا ھم نے اپنے زیور بیچ کر بچوں کو دین کہ تعلیم کیلئے روانہ کیا ہے خدا کیلئے انکو واپس نہ کرنا ورنہ یہ کبھی بھی دین کو سمجھ نہ سکیں گے ۔

ابو خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ٹیسٹ کرکٹ سے لیگ کرکٹ کا سفر!
  • بھٹو آخر کیوں؟
  • صبیحہ سے امامہ کی پہلی ملاقات
  • شعوری جنسیت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
راہ طلب میں کون کسی کا
پچھلی پوسٹ
ایران کے حالات

متعلقہ پوسٹس

رنگ برنگی عینکیں !

جولائی 12, 2021

رشتہ ایسا ہونا چاہیے

نومبر 22, 2022

اِس مُلک سے اب صِرف اتنی

جنوری 6, 2026

سیلاب، سیاست اور بے بس انسان

ستمبر 9, 2025

شجرِ ثمر بار، فرہاد احمد فگار

جولائی 31, 2022

صنوبر کے نایاب جنگلات

مئی 19, 2024

سیلاب، سیاست اور مہنگائی!

اکتوبر 9, 2022

کافی وِد انڈر ٹیکر

دسمبر 23, 2021

دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے

جون 29, 2020

تاریخ کے وارث – تیسری قسط

جنوری 17, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جسمانی طاقت کی بنیاد

اپریل 1, 2023

پاکستان: چیلنجز، مواقع اور مستقبل کی...

دسمبر 11, 2025

ابھی ذوق پرواز باقی ہے!

جون 17, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں