خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپاکستان میں ڈیجیٹل گورننس
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2025 0 تبصرے 53 مناظر
54

پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کا تاریخی پس منظر

پاکستان میں ڈیجیٹل پالیسیوں کی تشکیل کا عمل 2000 کی دہائی کے آغاز میں شروع ہوا جب حکومت پاکستان نے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کو نجی اداروں کے لیے کھولا۔ پی ٹی اے کو 1996 میں ریگولیٹری ادارے کے طور پر قائم کیا گیا، مگر حقیقی معنوں میں اس کی طاقت 2000 کے بعد بڑھی جب انٹرنیٹ عام ہوا، موبائل فون عام صارف تک پہنچا اور سوشل میڈیا نے نئی معاشرتی حرکیات پیدا کیں۔
سن 2016 میں الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) منظور ہوا، جس نے ڈیجیٹل جرائم کی روک تھام، آن لائن ہراسگی، ڈیٹا پروٹیکشن اور سائبر سیکیورٹی کے لیے قانون سازی کی بنیاد رکھی۔ اسی قانون کے تحت صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ، غیر مجاز رسائی اور پرائیویسی کی خلاف ورزی پر واضح سزائیں مقرر ہیں۔
اس تاریخی پس منظر کے ساتھ پی ٹی اے وقتاً فوقتاً مختلف پالیسی گائیڈ لائنز جاری کرتا رہا ہے تاکہ بدلتی ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے ڈیجیٹل اسپیس کو محفوظ رکھا جا سکے۔
28 نومبر 2025 کی جاری کردہ تازہ ہدایت، جو سوشل میڈیا گروپس کی سیکیورٹی اور ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق ہے، موجودہ ملکی سیکیورٹی صورتحال اور آن لائن خطرات کے پیش نظر سامنے آئی ہے۔ عالمی سطح پر بھی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق کڑے قوانین سامنے آ رہے ہیں۔ یورپی یونین کا جی ڈی پی آر ہو یا خلیجی ممالک کی سائبر ریگولیشنز، ہر جگہ توجہ شہریوں کے ڈیٹا کو محفوظ بنانے پر ہے۔
پاکستان میں پچھلے چند برسوں میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے جن میں بیرونی عناصر نے سوشل میڈیا گروپس کے ذریعے افواہیں پھیلائیں، عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی یا صارفین کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔ یہی وہ پس منظر ہے جس نے پی ٹی اے کو اس مخصوص ہدایت جاری کرنے پر مجبور کیا۔
غیر ملکی ممبران کا اندراج اور ان کا اخراج کے لیے قوانین وضع کیے ہیں۔ یہ قانون سب سے زیادہ توجہ طلب ہے۔ حکومت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے پاکستانی ایڈمنز کو پابند کر رہی ہے کہ وہ غیر ملکی اراکین کو گروپس سے نکال دیں۔ اس کے فوائد یہ ہو سکتے ہیں کہ بیرونی اثر و رسوخ کی روک تھام ہوگی، ڈیٹا کے بہاؤ کو پاکستان کی حدود میں محدود رکھا جائے گا، سیکیورٹی اداروں کے لیے مانیٹرنگ کو آسان بنایا جائے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ چند فکری اور عملی سوالات بھی اٹھتے ہیں جن میں چند سوالات یہ ہیں کہ کیا ہر گروپ میں غیر ملکیوں کی موجودگی واقعی خطرہ ہے؟ کیا علمی، ثقافتی یا بین الاقوامی روابط رکھنے والے گروپس پر بھی یہی شرط لاگو ہوگی؟ کیا اس اقدام سے آن لائن آزادی اور عالمی رابطوں پر منفی اثر نہیں پڑے گا؟
پی ٹی اے کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی ممبران کے گروپس میں ہونے سے پاکستانی صارفین کا ڈیٹا بیرون ملک سرورز تک جا سکتا ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے، کیونکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا ڈیٹا بنیادی طور پر عالمی نیٹ ورکس میں گردش کرتا ہے۔ لیکن گروپ کے اندر شیئر کی گئی معلومات کی حساسیت مختلف ہو سکتی ہے۔ جائزہ لیے بغیر blanket policy نافذ کرنا مستقبل میں عوامی اعتماد کو متاثر کرنے کا سبب بنے گا۔ قانونی شق PECA 2016 دفعہ 21 کا اطلاق سخت اقدام ہوسکتا ہے۔ دفعہ 21 عام طور پر ہراسگی، غیر مجاز ڈیٹا شیئرنگ اور پرائیویسی کی خلاف ورزی سے متعلق ہے۔ اسے گروپ ایڈمنز پر لاگو کرنا ایک سخت قدم ہے۔ اس سے ایک طرف احتیاط بڑھے گی مگر دوسری طرف ایڈمنز میں خوف بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ کہیں معمولی غلطی بھی قانونی گرفت کا باعث نہ بن جائے۔
اس پالیسی کے ممکنہ مثبت اثرات بھی ہیں جن میں سرفہرست آن لائن گروپس کی بہتر نگرانی، جعلی اکاؤنٹس اور بیرونی پروپیگنڈہ نیٹ ورکس کی نشاندہی میں آسانی، حساس اطلاعات کے غیر ارادی اخراج میں کمی اور ملکی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے مضبوط ہونے کا امکان بھی ہیں۔
اس پالیسی پر کئی لوگ اور ماہرین تنقید بھی کررہے ہیں اور آن لائن آزادی کا سوال بھی اٹھارہے ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی انٹرنیٹ قوانین پر یہ تنقید موجود رہی ہے کہ وہ کہیں زیادہ سخت ہیں۔ اس نئی ہدایت سے سوشل میڈیا گروپس کی خودمختاری مزید محدود ہو سکتی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے عالمی رابطوں پر اثر پڑے گا۔ کئی گروپس تعلیمی، تحقیقی، ادبی یا پیشہ ورانہ سطح پر غیر ملکی اراکین کے ساتھ مفید روابط رکھتے ہیں۔ انہیں بھی اس حکم کے باعث نقصان پہنچ سکتا ہے ۔
حکومتی نگرانی کی بڑھتی ہوئی حدود کے بارے میں کافی خدشات موجود ہے۔یہ خدشہ موجود ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں کے ذریعے ریاست آن لائن اسپیس کو حد سے زیادہ کنٹرول کرنے کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
پالیسی کا مقصد درست ہے لیکن سیکیورٹی اور ڈیٹا پروٹیکشن بھی انتہائی ضروری ہے۔ مگر بہتر یہی ہوتا کہ حکومت جس قسم کے گروپس زیادہ حساس ہیں، صرف انہیں لازماً اس ہدایت کا پابند کرتی، تمام سوشل میڈیا ایڈمنز کو blanket پابندی کے بجائے واضح زمروں میں تقسیم کرتی، عوام کو ڈیجیٹل لٹریسی اور پرائیویسی پروٹیکشن سے متعلق آگاہی دیتی، اس فیصلے سے پہلے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنی بھی ضروری تھی۔
پی ٹی اے کی تازہ ہدایت پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل سیکیورٹی چیلنجز کا نتیجہ ہیں۔ اس کے ذریعے حکومت نے ایک کوشش کی ہے کہ بیرونی اثرات کو کم کیا جائے اور صارفین کے نجی ڈیٹا کو محفوظ رکھا جائے۔ تاہم اس پالیسی کے مختلف پہلو ایسے بھی ہیں جو بحث اور نظرثانی کے متقاضی ہیں۔ ایک کامیاب ڈیجیٹل پالیسی وہی ہوتی ہے جو سیکیورٹی اور آزادی دونوں پہلوؤں کے درمیان متوازن راستہ اختیار کرتی ہے۔ موجودہ ہدایت اسی توازن کے امتحان کا آغاز ہے۔

 رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق چترال خیبرپختونخوا سے ہے، اردو، کھوار اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ آپ کا اردو ناول ”کافرستان”، اردو سفرنامہ ”ہندوکش سے ہمالیہ تک”، افسانہ ”تلاش” خودنوشت سوانح عمری ”چترال کہانی”، پھوپھوکان اقبال (بچوں کا اقبال) اور فکر اقبال (کھوار) شمالی پاکستان کے اردو منظر نامے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، کھوار ویکیپیڈیا کے بانی اور منتظم ہیں، آپ پاکستانی اخبارارت، رسائل و جرائد میں حالات حاضرہ، ادب، ثقافت، اقبالیات، قانون، جرائم، انسانی حقوق، نقد و تبصرہ اور بچوں کے ادب پر پر تواتر سے لکھ رہے ہیں، آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں آپ کو بے شمار ملکی و بین الاقوامی اعزازات، طلائی تمغوں اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔کھوار زبان سمیت پاکستان کی چالیس سے زائد زبانوں کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا کیبورڈ سافٹویئر بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ آپ کی کھوار زبان میں شاعری کا اردو، انگریزی اور گوجری زبان میں تراجم کیے گئے ہیں ۔

 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اور بنسری بجتی رہی
  • بیگم اور AI کا ٹیکنالوجی ٹکراؤ
  • مرد کی آمریت
  • لاوارث
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اختر شہاب کی کتاب
پچھلی پوسٹ
کی بہاروں سے خزاں نے

متعلقہ پوسٹس

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

جینی

جنوری 15, 2020

غلام سے امامِ امت تک

جنوری 10, 2026

ڈرپوک

جنوری 15, 2020

جہنم میں لیجانے والے کام

ستمبر 6, 2023

بادشاہ چیل

جنوری 24, 2026

رشتہ ایسا ہونا چاہیے

نومبر 22, 2022

روشن ذہن

جنوری 24, 2025

شہزاد نیّر سے ایک مختصر مصاحبہ

اپریل 24, 2025

ٹیڑھی لکیر

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

طلوع ماہتاب

مارچ 25, 2026

حامد کا بچہ

جنوری 12, 2020

حد

اکتوبر 14, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں