زمانہ جتنا آگے بڑھتا جا رہا ہے، انسان پر الٰہی قدرت کے راز بھی ایک ایک کرکے روشن ہوتے جا رہے ہیں۔ سائنس نے ترقی کی، ٹیکنالوجی نے انسان کو نِت نئی ایجادات دیں، مگر ان سب کے باوجود انسان جتنا آگے بڑھ رہا ہے، اتنا ہی اسے محسوس ہو رہا ہے کہ کائنات کے پیچھے ایک ایسی قوت ہے جو ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
قرآنِ مجید اور اسلامی تعلیمات کو سمجھنا بھی پہلے سے زیادہ آسان ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ ہر نئی ایجاد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل علم اور اصل قدرت صرف اللہ کے پاس ہے۔
آپ دیکھئے! قرآنِ کریم میں ارشادِ ربّ تعالیٰ ہے:
قُلْ إِن تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ:
"کہہ دو! جو کچھ تم اپنے دلوں میں چھپاتے ہو یا اسے ظاہر کرتے ہو، اللہ اسے جانتا ہے۔ اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اللہ اسے بھی جانتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔”
یہ آیت ہمیں بتا رہی ہے کہ انسان صرف دوسروں کے سامنے کچھ ظاہر یا چھپا سکتا ہے، مگر اللہ کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ اس کی نظر ظاہر پر بھی ہے اور باطن پر بھی۔ وہ دلوں کے خیالات تک جانتا ہے، نیتوں کے اتار چڑھاؤ سے بھی واقف ہے، اور انسان کے ہر ارادے کو جانتا ہے چاہے وہ ابھی لفظوں میں بھی نہ ڈھلا ہو۔
دنیا میں دیکھ لیجئے: ہم موبائل کے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتے۔ اگر موبائل خراب ہو جائے تو فوراً اس ماہر کے پاس جاتے ہیں جس نے اسے بنانے یا ٹھیک کرنے کا فن سیکھا ہے۔ اگر کسی ایجاد تک براہِ راست اس کے موجد کی رسائی ہو جائے تو سارا مسئلہ لمحوں میں حل ہو جاتا ہے۔
اسی طرح انسان کی زندگی، اس کا دل، اس کے مسائل اور اس کی تقدیر—یہ سب اللہ کی بنائی ہوئی ہے۔
جب خالق تک رسائی ہو جائے، جب رب سے سچی لو لگ جائے، تو پھر زندگی کے بکھرے ہوئے دھاگے خود بخود جڑنے لگتے ہیں۔
اللہ عزت بھی دیتا ہے، روزی بھی عطا کرتا ہے، اچھے دوست بھی دیتا ہے، رزق میں وسعت بھی، دل میں سکون بھی، اور دنیا کے ساتھ آخرت بھی سنوار دیتا ہے۔
بس انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی اس "مخفی دوربین” کو ہمیشہ یاد رکھے—
وہ دوربین جو ہمارے ظاہر ہی نہیں، بلکہ دلوں کی دھڑکنوں تک کو پڑھتی ہے،
جو ہمارے چہرے کے تاثرات ہی نہیں بلکہ نیتوں کے رنگ بھی جانتی ہے،
جو ہمارے قدموں کی آواز ہی نہیں بلکہ منصوبوں کے راز بھی سنتی ہے۔
جو انسان اس حقیقت کو سمجھ لے، وہ گناہ سے بچتا ہے، نیکی کی طرف بڑھتا ہے، اور اس کی زندگی روشنی، سکون اور برکت سے بھر جاتی ہے۔
فکر و نظر:محمد حسین بهشتی
