37
ذائقہ بدلیں گے کیف و وجد میں آئیں گے کیا
خون ہے محنت کشوں کا ، نوش فرمائیں گے کیا
ہم بھی دیکھیں جھوٹ کا ہوتا ہے کتنا حافظہ
آپ کچھ فرما رہے تھے ،پھر سے فرمائیں گے کیا
خوش لباسی زیب دیتی ہے ، مبارک آپ کو
یہ جو دامن چاک ہے اس کو بھی سی پائیں گے کیا
ان چراغوں کو الجھنا ہے ، الجھنے دیجئے
آپ یہ سوچیں ، ہوا کو حکم فرمائیں گے کیا
شہر بھر میں اب دھواں ہے آگ ہے اور خون ہے
اور کچھ خدمت ہے باقی ، حکم فرمائیں گے کیا
مذہبی شدّت تو اپنا کام پورا کرچکی
اب ذرا الفاظ کا مرہم لگا آئیں گے کیا
مشتعل ہونے لگی ہے منتظر لوگوں کی بھیڑ
اب حرم سے اک ذرا تشریف لے آئیں گے کیا
اب جو مظلوموں کے حق میں کرنے آئے ہیں دعا
آنسوؤں کا پھر کوئی تعویز پہنائیں گے کیا
ڈاکٹر طارق قمر
