100
خوف طاری نہیں ہوتا کبھی شہبازوں پر
قدغنیں لاکھ لگاؤ مری پروازوں پر
اس نے اک بار پکارا نہ پلٹ کر دیکھا
ایک مدت میں لپکتی رہی آوازوں پر
عمر کٹتی ہے بھٹکتے ہو ئے پردیسوں میں
تختیاں نام کی رہ جاتی ہیں دروازوں پر
بدگماں وقت سے پہلے ہی میں کیونکر ہوتی
لوگ چھوڑے نہیں جاتے کبھی اندازوں پر ۔
ہم وہ حساس طبیعت کہ ازالے کرتے
زندگی اپنی بسر کرتے ہیں خمیازوں پر .
وہ ترے بعد بھلا سوچ جیئیں گے کیسے
وہ جو پلتے ہیں ترے لاڈ ترے نازوں پر
میں نے ہر بار حقیقت سے چرائی نظریں
میں نے ہر بار بھروسہ کیا ہمرازوں پر
جن کے الفاظ سے نفرت کی مہک آتی ہے
مجھ کو آتا ہے ترس ایسے سخن سازوں پر
فوزیہ شیخ
