خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامولانا مجھے آپ سے شکایت ہے
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

مولانا مجھے آپ سے شکایت ہے

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 9, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 9, 2025 0 تبصرے 46 مناظر
47

مولانا صاحب! مجھے آپ سے شکایت ہے۔ یہ شکایت کسی ذاتی رنجش یا مخالفت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک دردِ دل ہے، ایک فریاد ہے جسے بیان کیے بغیر چین نہیں آ رہا۔ ہم ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہماری نئی نسل تیزی سے دین سے دور ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے شور نے ان کے ذہنوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے، نیٹ فلیکس اور یوٹیوب کے پروگراموں نے ان کے تصورِ حیات کو بدل دیا ہے، اور مغربی فلسفے نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ شاید مذہب محض پچھلی صدیوں کی روایت ہے جس کا آج کے انسان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ مولانا صاحب! سوال یہ ہے کہ جب یہ فکری طوفان اٹھ رہے ہیں تو آپ کہاں ہیں؟ آپ کی وہ آواز کہاں ہے جو ان نوجوانوں کو بھٹکنے سے بچا سکے؟

الحاد آج کے دور کا سب سے خطرناک وائرس بن چکا ہے۔ بظاہر یہ آزادی اور روشن خیالی کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسان کو اندھیروں کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ یہ انسان کو سب سے پہلے اخلاقی اقدار سے محروم کرتا ہے۔ جب خدا کا انکار کر دیا جائے تو پھر سچ اور جھوٹ، نیکی اور بدی کا کوئی معیار باقی نہیں رہتا۔ نوجوان یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اگر زندگی کا کوئی مقصد نہیں، اگر موت کے بعد کچھ نہیں تو پھر کیوں کسی اصول کی پابندی کروں؟ کیوں میں برائی سے بچوں اور سچائی پر قائم رہوں؟ یہی سوچ الحاد کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ قرآن نے صاف کہا: "وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا” (طہٰ: 124)۔ یعنی جو شخص اللہ کے ذکر سے منہ موڑتا ہے اس کی زندگی تنگ ہو جاتی ہے۔ آج مغرب میں الحاد کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ لوگ ذہنی بیماریوں، بے سکونی، خاندانی نظام کے خاتمے اور خودکشی جیسے مسائل میں جکڑے جا رہے ہیں۔

مولانا صاحب! مغرب کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں خدا کو بامعنی زندگی سے نکال دیا گیا، نتیجہ یہ نکلا کہ خاندان ٹوٹ گیا۔ بچے والدین کے بغیر پروان چڑھ رہے ہیں، شادی کا ادارہ بکھر رہا ہے، تنہائی کا عذاب عام ہے۔ امریکہ اور یورپ میں نوجوان نسل antidepressant دواؤں پر چل رہی ہے۔ وہاں کی یونیورسٹیوں میں خودکشی کی شرح بڑھ رہی ہے۔ کیا یہ ترقی ہے؟ کیا یہ آزادی ہے؟ یہی وہ خواب ہے جو الحاد نئی نسل کے سامنے آزادی اور روشنی کے نام پر پیش کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اندھیروں کا سفر ہے۔

آج کے نوجوانوں کے ذہنوں میں سوالات ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ خدا کا وجود کیوں ضروری ہے؟ اسلام ہی کیوں حق ہے؟ دین کی پابندیاں کیوں لازم ہیں؟ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں جب کوئی نوجوان ایسے سوالات کرتا ہے تو اکثر اسے جھڑک دیا جاتا ہے یا ڈرا دیا جاتا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان سوالات کو دلیل اور حکمت سے حل کیا جائے، ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نوجوان پھر یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ان ملحدانہ چینلز کی طرف رجوع کرتا ہے جہاں اسے بظاہر دلیل کے ساتھ بات سننے کو ملتی ہے۔

مولانا صاحب! حقیقت یہ ہے کہ اسلام عقل و فطرت کا دین ہے۔ قرآن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم کائنات پر غور کریں۔ "أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ” (ابراہیم: 10)۔ کیا آسمانوں اور زمین کے خالق کے بارے میں بھی کوئی شک ہے؟ یہ سوال عقل کو جھنجھوڑتا ہے۔ زمین کا اپنے مدار میں قائم رہنا، سورج کی روشنی کا ایک مقررہ پیمانے پر ہم تک پہنچنا، انسانی جسم کا نظام، دل کی دھڑکن، دماغ کی پیچیدگیاں—کیا یہ سب حادثے کا نتیجہ ہو سکتا ہے؟ سچ یہ ہے کہ ہر ذرے میں خدا کی گواہی موجود ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔” (بخاری)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان انسان کی فطرت میں شامل ہے، الحاد ایک مصنوعی رویہ ہے جو ماحول اور گمراہ نظریات کے زیر اثر جنم لیتا ہے۔

آج کے نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ سائنس اور اسلام میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ بلکہ سائنس جتنا آگے بڑھتی ہے، اتنا ہی خدا کی حکمت اور اس کی قدرت آشکار ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، جدید فلکیات ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات ایک نقطے سے شروع ہوئی جسے "بگ بینگ” کہا جاتا ہے۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے فرمایا: "أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا” (الأنبیاء: 30)۔ کیا کافر نہیں دیکھتے کہ آسمان اور زمین ایک جمی ہوئی چیز تھے، پھر ہم نے انہیں پھاڑ دیا؟ کیا یہ قرآن اور سائنس کے ہم آہنگ ہونے کی واضح دلیل نہیں؟

مولانا صاحب! نوجوانوں کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ مغربی فلسفہ جس آزادی کا دعویٰ کرتا ہے، وہ دراصل بندگی کی زنجیر ہے۔ نطشے نے کہا "خدا مر گیا ہے”، لیکن آج اس کے ماننے والے خود اپنے مقصدِ حیات کو کھو بیٹھے ہیں۔ ڈارون نے کہا کہ انسان ایک حادثاتی ارتقا کا نتیجہ ہے، مگر یہ نظریہ انسان کو حیوان بنا دیتا ہے۔ ہیوم نے کہا کہ اخلاقیات انسانی خواہشات کی پیداوار ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اگر اخلاقیات کا کوئی آفاقی معیار نہیں تو پھر ظلم و انصاف میں فرق کیسے کیا جائے؟ یہ سب نظریات وقتی طور پر دل کو بہلا دیتے ہیں، لیکن انسان کی روح کو سکون نہیں دیتے۔ اسلام کے پاس سکون ہے کیونکہ وہ خدا سے تعلق جوڑتا ہے اور زندگی کو مقصد بخشتا ہے۔

اب ذرا اپنے معاشرے پر بھی نظر ڈالیں۔ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا کی چمک دمک میں کھو گئی ہے۔ نیٹ فلیکس اور ڈراموں نے انہیں یہ سکھایا ہے کہ زندگی صرف مزے لینے کا نام ہے۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک نے ان کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا ہے کہ انسان کی کامیابی صرف ظاہری خوبصورتی، لائکس اور فالورز میں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ اندر سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے پاس علم بھی ہے، ٹیکنالوجی بھی ہے، مگر دل سکون سے محروم ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے اسلام کی روشنی سے ہی پُر کیا جا سکتا ہے۔

مولانا صاحب! آپ سے میری شکایت یہی ہے کہ آپ نے اس خلا کو پُر کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ آپ نے نوجوانوں کے ساتھ وہ تعلق نہیں بنایا جو بنانا چاہیے تھا۔ آپ نے ان کے سوالات کو وہ اہمیت نہیں دی جس کی ضرورت تھی۔ آپ خطبوں میں، درسوں میں ضرور بات کرتے ہیں، مگر وہ صرف انہی کے لیے ہوتی ہے جو پہلے سے مسجد کے قریب ہیں۔ جو نوجوان مسجد سے دور ہیں، جن کے ہاتھ میں موبائل ہے، جو سوشل میڈیا کے نشے میں ہیں، ان تک آپ کی بات کیوں نہیں پہنچتی؟ اگر علما یوٹیوب، فیس بک اور انسٹاگرام پر مضبوط علمی اور مثبت انداز میں آئیں تو ہزاروں نوجوان متاثر ہو سکتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر عذاب نازل کرے گا، پھر تم دعا کرو گے تو قبول نہ کی جائے گی۔” (ترمذی)۔ یہ حدیث ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ اگر ہم نے اپنی ذمہ داری نہ نبھائی تو نہ صرف یہ نسل بلکہ آنے والی نسلیں بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل جائیں گی۔

میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اسلام ہی وہ دین ہے جو انسان کو نہ صرف خدا سے جوڑتا ہے بلکہ اسے اخلاق، عدل اور سکون بھی عطا کرتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات انسان کو یہ سکھاتی ہیں کہ زندگی کا مقصد کیا ہے اور موت کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ الحاد کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہیں۔ الحاد صرف شک اور انکار دیتا ہے، جبکہ اسلام یقین، مقصد اور امید عطا کرتا ہے۔

مولانا صاحب! میری آپ سے فریاد ہے کہ آپ اس شکایت کو سنجیدگی سے سنیں۔ تاریخ کے اس موڑ پر آپ کا کردار بہت اہم ہے۔ اگر آپ اور دوسرے علما نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی، اگر آپ نے نوجوانوں تک نہیں پہنچا، اگر آپ نے ان کے سوالات کو جواب نہ دیا تو یہ نسل ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گی۔ پھر ہم تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے اور سب سے بڑھ کر اللہ کے حضور جواب دہ ہوں گے۔ آئیے! ابھی سے اپنی راہ درست کریں، نئی نسل کو قریب کریں، ان سے محبت اور حکمت کے ساتھ مکالمہ کریں اور اسلام کی روشنی ان کے دلوں میں اتاریں۔ یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور یہی ہماری نجات کا راستہ ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دھان کی بذریعہ بیج براہِ راست کاشت
  • ایران، امریکہ کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کاکردار
  • اردو افسانہ ” دشا  "مصنف نظیر نظر جوہر
  • حُسن اور بغاوت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سیلاب، سیاست اور بے بس انسان
پچھلی پوسٹ
ان سے کہیں کہ چپ رہیں

متعلقہ پوسٹس

گرتی ہوئی حویلی سے

جون 10, 2024

یہ کون سا نظام ہے؟

نومبر 18, 2020

بھٹوں پر کام کرنے والے مسیحی مزدوروں کے نام

دسمبر 30, 2020

کینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ

نومبر 12, 2019

تحفظ ناموس رسالتؐ اور رعب مسلم

نومبر 13, 2020

ڈھیر اُچیری ہو جاواں گی

نومبر 27, 2022

سوچتے رہنے کی ازیت سے بھی نکلے نہیں ہیں

مئی 23, 2020

حاشیہ

دسمبر 18, 2019

سنگترہ ، بہترین پھل بہترین فوائد

نومبر 19, 2021

جس طرف دیکھو قیامت کا سماں ہے

جنوری 7, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

21 فروری عالمی یوم مادری زبان!

فروری 21, 2021

ایک زاہدہ، ایک فاحشہ

جنوری 24, 2020

افغانستان میں دہشت گردی کا نیا...

دسمبر 13, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں