خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباہمارے زوال کی پہلی سیڑھی!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

ہمارے زوال کی پہلی سیڑھی!

از سائیٹ ایڈمن اگست 28, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 28, 2025 0 تبصرے 90 مناظر
91

کسی بھی مہذب اور باشعور معاشرے کی پہچان اس کے اہل ِقلم سے ہوتی ہے۔ مصنف، شاعر، محقق اور ادیب وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے قوموں کو شعور، نظریہ، مقصد اور سمت عطا کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں نسلوں کے اذہان پر اثر انداز ہوتی ہیں، دلوں کو جلا بخشتی ہیں اور اندھیروں میں چراغ کی مانند راستہ دکھاتی ہیں۔ہمارے ہاتھوں انہی مصنفین کی حوصلہ شکنی ایک معمول بنتی جا رہی ہے۔ہم ایک ایسے ماحول میں جی رہے ہیں جہاں اہل ِ قلم کی قدر نہیں، ان کی تخلیقات کو یا تو نظر انداز کیا جاتا ہے۔کتاب لکھنا آسان نہیں، یہ مہینوں اور برسوں کی محنت کا ثمر ہوتی ہے، مگر اس کا اعتراف، پذیرائی یا سراہنے کی روایت ہماری سوسائٹی سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔یہ روش صرف افراد کی نہیں؛ بل کہ پورے معاشرے کی فکری گراوٹ کا پتہ دیتی ہے۔ کیونکہ جب اہل ِ علم کی حوصلہ شکنی کی جائے، تو نوجوان نسل تحقیق، مطالعے اور تخلیق سے منہ موڑ لیتی ہے، نتیجتاً ایک ایسا خلا جنم لیتا ہے جو معاشرے کو فکری بانجھ پن کی طرف لے جاتا ہے۔آج اکثریت کتاب لکھنے والے ہمارے معاشرتی رویے سے پریشان ہی نہیں،بل کہ دلبراشتہ ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارا رویہ ہے جو اہل ِکتاب سے کیا جاتا ہے اور اسے قابل ِ فخر سمجھا جاتا ہے؛ حالانکہ اپنے وسائل، وقت کو دوسروں کے لئے وقف کر کے کتابیں لکھی جاتی ہیں، جن کا مقصد انسانیت کو شعور کی بیداری ہوتا ہے۔کتب ہی ہیں جو معاشرتی ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ نسل ِ نو کو اپنی تاریخ سے آشنا کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن ہمارا رویہ اہل ِ قلم کے لئے ناقابل ِ بیان ہے۔ہم کتاب لکھنے والے جن کا خون شامل ہوتا ہے اس گلستان میں، ان کی داد کے بجائے ہم کتاب تحفہ لینا بھی ایک احسان سمجھتے ہیں۔
کتاب ایک ایسا خاموش استاد ہے جو بنا کسی تعصب، آواز اور تفریق کے علم بانٹتی ہے۔ اقوامِ عالم کی ترقی، تہذیبی ارتقاء اور فکری بیداری میں کتاب کا کردار ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے۔ یہ محض اوراق کا مجموعہ نہیں، بلکہ صدیوں کے تجربات، مشاہدات، خوابوں اور خیالات کا نچوڑ ہوتی ہے۔ ”ابو الفرج اصفہانی“ اپنی مشہور ادبی کتاب ”الاغانی“ لکھ رہے تھے تو اندلس کے امیر کو علم ہوگیا، تو اس نے اندلس سے ایک نسخے کی قیمت کے طور پر ایک ہزار دینار بھیج دیے اور کہا کہ جوں ہی کتاب مکمل ہو، مجھے بھیج دی جائے۔
معاشرتی تبدیلی محض نظام کی تبدیلی نہیں، بلکہ فکر کی تبدیلی ہے۔ جب معاشرے میں رہنے والے افراد کی سوچ بدلتی ہے، جب وہ جہالت سے علم کی طرف سفر کرتے ہیں تو تبدیلی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ کتاب اس سفر کی اولین سیڑھی ہے۔ کتاب انسان کو شعور عطاء کرتی ہے، اسے اپنے حقوق و فرائض کا شعور دیتی ہے، ظالم اور مظلوم میں فرق سکھاتی ہے، خاموشی کے خلاف آواز بناتی ہے، اور انسان کو انسانیت کی اصل پہچان سے روشناس کرواتی ہے۔کتابیں صرف سبق نہیں دیتیں، یہ خواب دیتی ہیں۔ یہ ہمیں عظمتوں کا سبق پڑھاتی ہیں۔ اقبال، قائداعظم، نیلسن منڈیلا، گاندھی یا دنیا کے کسی بھی بڑے انقلابی رہنما کو دیکھ لیجیے، ان کی شخصیت سازی میں کتاب کا گہرا اثر دکھائی دیتا ہے۔
ہمارے رویوں سے نسل ِ نو کتاب سے دور ہورہی ہے اورکتاب دوری کے سبب آج تک مسلمان مسلسل نشیب میں جا رہے ہیں اور اہل ِمغرب فراز پر چڑھ رہے ہیں، کیوں کہ آج امریکہ، جاپان، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور اٹلی وغیرہ ممالک میں سب سے زیادہ کتابیں پڑھی اور لکھی جارہی ہیں۔
بدقسمتی سے دُنیا میں 28 سے زیادہ وہ ممالک ہیں، جہاں کتابیں سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں، ان میں ایک بھی اسلامی ملک نہیں۔ پاکستان میں تو 72 فیصد پاکستانی کتاب سے دوری اور 27 فیصد کتب بینی کے شوقین ہیں۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ کتابوں کا وجود رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا سبب بن گیا تھا یعنی لڑکیوں کو جہیز میں کتب خانے دیے جاتے تھے۔ ”امام اسحاق بن راہویہ“ نے ”سلیمان بن عبداللہ“ کی بیٹی سے شادی اس لیے کی تھی کہ اس سے انہیں امام شافعی کی جملہ تصانیف پر مشتمل لائبریری مل گئی تھی۔
خلیفہ ہارون الرشید، کاتب ”ابن ِ اسحاق“ کو ہر اس کتاب کا سونے سے تول کر معاوضہ دیا کرتا تھا جو وہ غیردیگر زبانوں سے عربی میں منتقل کرتا تھا۔ غرض یہ کہ عوام سے لے کر امرا تک سارے لوگ علوم و فنون کے قدردان تھے۔ تب ہی تو اسے مسلمانوں کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ اُس وقت عالمِ اسلام میں کوئی شہر، کوئی گاؤں ایسا نہیں تھا جس میں لائبریری نہیں تھی۔ مثلاً ”دارالحکمت“ قاہرہ میں اس قدر عظیم الشان ذخیرہ کتب جمع کیا گیا تھا، جو اس سے پہلے کسی بادشاہ نے جمع نہیں کیا تھا۔

تاریخ شاہد ہے کہ جن قوموں نے کتاب سے دوستی رکھی، وہ زندگی کے ہر میدان میں ترقی اور عروج کی منازل طے کرتی گئیں، لیکن جیسے ہی کتاب و علم سے رشتہ توڑا پستی اور ذلت نے انہیں گھیر لیا۔ ساتویں صدی سے تیرہویں صدی عیسوی تک بغداد علم و ادب کا گہوارہ رہا۔ غرناطہ، قرطبہ اور قاہرہ دنیا کے عظیم تاریخی اور علمی سرمایے تصور ہوتے تھے، لیکن آج علم و ادب سے دوری نے مسلمانوں سے ان کا وقار اور تخت تک چھین لیا ہے۔ 1858ء میں جب مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوا، تو انگریزوں نے لال قلعہ کے شاہی لائبریری سے بھی ہزاروں کتابیں لندن پہنچا دیں۔ آج بھی لندن میں انڈیا آفس لائبریری اور پیرس لائبریری میں مسلمانوں کی ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ آج ہمارے منظر کا ذکر علامہ محمد اقبال نے کچھ اس طرح کیا کہ:مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی،جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا۔

آج جب معاشرہ نفرت، عدم برداشت، جھوٹ، بے حیائی اور فکری انحطاط کا شکار ہے، تو ایسے میں کتاب ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو ہمیں فکری پستی سے نکال سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ کتاب سے اپنا رشتہ دوبارہ مضبوط کریں، لائبریریوں کو آباد کریں، مطالعے کو فیشن نہیں، ضرورت بنائیں۔کیونکہ یاد رکھیں! قلم کی توہین، فکر کی توہین ہے۔ اور فکر کی توہین، زوال کی پہلی سیڑھی!

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عدو کی صف میں وہ کس
  • اُن کی آمد کا انتظام کریں
  • نورِ حجاب و آئینۂ جمال
  • رکھنا نہیں ہے اس کو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا کہنے
پچھلی پوسٹ
صدائے رفتگاں پھر دل سے گزری

متعلقہ پوسٹس

کشمیر ایک ادھورا وعدہ اور زندہ جدوجہد

فروری 6, 2026

مجھ کو دے دے خوشی محبت کی

مارچ 3, 2020

جگرنرخ کے ٹکڑے

دسمبر 30, 2013

پانچ دن

جنوری 24, 2020

طارق عزیز سے ڈاکٹر عامر لیاقت تک

اگست 30, 2020

رشتہ ایسا ہونا چاہیے

نومبر 22, 2022

ملحد، سیکولر اور قادیانی اتحاد

اکتوبر 18, 2019

یہی تو بات … گوارا نہیں محبت کو

مئی 28, 2020

بس گزارش یہی ہے خوابوں سے

اپریل 23, 2022

دل میں رکھا ہے کتنے چاؤ سے

اکتوبر 9, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زندگی کا دائرہ محدود ہے

مئی 5, 2020

محبت کے نہ اب ایثار کے...

مارچ 16, 2022

خواب زدہ ویرانوں تک

مئی 9, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں