105
منقبت بحضور امام علی کرم اللہ وجہہ
ہر جنگ میں احمد کے سدا ساتھ رہا ہے
بستر پہ بھی احمد کے جو بے خوف پڑا ہے
کعبے کی زمیں جھوم رہی دیکھ یہ منظر
لو مصطفیٰ نے گود میں حیدر کو بھرا ہے
میں وار دوں اس ذات کی آمد پہ مری جاں
جس کو مرے آقا نے کہا "شیرِ خدا ہے”
میں ناد علی پڑھ کے کروں مشکلوں کو حل
اس ورد نے کب کب نہ مرا ساتھ دیا ہے
محبوب ہے احمد کے سبھی یاروں کو حیدر
صدیق ہو فاروق و غنی سب کی صدا ہے
جو عشق علی سے ہوا سرشار جہاں میں
فہرست میں عشاق کی آگے وہ کھڑا ہے
خیبر کے علمدار سے جلتے ہیں منافق
ہم عاشقوں کو عشق وراثت میں ملا ہے
لے فارحہ تجھ پر بھی عطا ہو ہی گئی ہے
تو نے بھی علی مولا کی آمد پہ لکھا ہے
فارحہ نوید
