خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابلائوں کو ٹالنے کا سبب
آپکا اردو بابااردو تحاریر

بلائوں کو ٹالنے کا سبب

از محمد یوسف برکاتی مئی 27, 2024
از محمد یوسف برکاتی مئی 27, 2024 0 تبصرے 35 مناظر
36

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

ہمارے یہاں پہلے جب کسی گائوں یا دیہات کی سیر وتفریح پر جاتے تھے تو کھلے صحنوں اور ہوادار دالانوں میں ہمیں گائے بھینس بندھی ہوئی نظر آتی تھیں اور مرغیاں اور بکریاں بھی دوڑتی ہوئی کھیلتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں اور ان کے درمیان ہی اس گھر کے لوگ چارپائی بچھا کر بیٹھ جاتے تھے لیکن آج کل کے دنیاوی پڑھے لکھے لوگ اس کو گندگی تصور کرکے منہ پر ماسک لگاکر ایسی جگہوں سے گزرتے ہیں گائوں اور دیہاتوں میں ہماری یہ تہذیب آج بھی قائم ہے بلکہ شہروں میں موجود وہ علاقے جہاں پرانے طرز کے لوگ اپنی زندگی میں مصروف ہیں آج بھی جب ہم گزرتے ہیں تو ہمیں گائے بھینس مرغی یا بکریوں سے بچکر گزرنا پڑتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ گھروں می جانور پالنے سے بلائیں ٹل جایا کرتی ہیں مطلب یہ کہ اگر اس گھر پر کوئی پریشانی یا بڑی مصیبت آنے والی ہو تو یہ جانور اپنی جان کا فدیہ اللہ کی راہ میں دے کر اس گھر کو اس آنے والی پریشانی سے چھٹکارا دلادیتے ہیں اب ہمارے بڑوں کی اس بات میں کتنی صداقت ہے اور کتنی سچائی ہے یہ ایک سوال ہے جو اکثر لوگوں کے ذہنوں میں گردش کرتا ہوا نظر آتا ہے ہماری آج کی نئی نسل اس بات کو دقیانوسی یا پرانے خیالات کے لوگوں کی سوچ کہتے ہیں اب آیئے ہم اس سوال کا جواب مثنوی شریف کی اس حکایت میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

یہ حکایت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کی ہے کہ ایک شخص جانور پالنے کا شوقین تھا اس کے پاس ایک شاندار گھوڑا ایک عدد بیل ایک مرغا اور ایک کتا تھا ایک دن وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے جانوروں کی بولی سکھا دیجیئے کیونکہ میرے گھر میں جانور ہیں اور میں ان کے روز روز کے جھگڑوں سے تنگ ہوں لہذہ ان کی بولی بول کر میں سمجھا سکوں گا تو آپ علیہ السلام نے اس سے کہا کہ تیرا یہ شوق ٹھیک نہیں ہے تو اسے ترک کردے تو کہنے لگا کہ اس میں آپ علیہ السلام کا کیا نقصان ہے میرا اگر یہ شوق ہے تو اسے پورا کردیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب وہ زیادہ ضد کرنے لگا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے میرے رب یہ شخص ضد کررہا ہے میں کیا کروں؟ تو فرمایا کہ اگر تیرے سمجھانے پر بھی یہ باز نہیں آتا تو اس کا شوق پورا کردو گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے جانوروں کی بولی سکھا دی اور وہ خوش ہوکر چلا گیا ایک دفعہ جب وہ شخص کھانا کھا کر فارغ ہوا تو اس کی خادمہ نے دسترخوان کو جھاڑ کر اٹھانا چاہا تو اس میں سے ایک روٹی کا ٹکڑا اچھل کر گرا روٹی کے ٹکڑے کو دیکھ کر کتا اور مرغا دونوں لپکے اور بھاگ کر روٹی اٹھانے کی کوشش کی لیکن روٹی مرغے کے ہاتھ لگ گئی اور وہ لیکر چھپ گئی ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

کتے نے کہا کہ اے ظالم تیرا کھانا تو دانہ ہے اور کہیں سے بھی مل جائے گا لیکن میں بھوکا ہوں مجھے روٹی کھانے دیتی تو تیرا کیا جاتا وہ شخص یہ منظر بھی دیکھ رہا تھا اور ان کی باتیں بھی سن رہا تھا مرغا بولا گھبرا نہیں کل ہمارے مالک کا بیل مرنے والا ہے بس پھر ہم جی بھر کر اس کو کھائیں گے یہ بات سن کر وہ شخص پریشان ہوگیا اور اسی وقت جاکر اس نے وہ بیل بازار میں سستے داموں بیچ دیا دوسرے دن وہ بیل واقعی میں مر گیا لیکن نقصان خریدار کا ہوا اس کا کوئی نقصان نہیں ہوا دوسرے دن کتا کہنے لگا یہ کیا ہوا مالک نے تو پہلے ہی بیل بیچ دیا ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

تو مرغے نے کہا کوئی بات نہیں کل اس کا گھوڑا بھی مر جائے گا ہم پھر اسے کھا لیں گے تو یہ بات بھی اس شخص نے سن لی اور نقصان سے بچنے کے لیئے اس نے وہ گھوڑا بھی بیچ دیا اور واقعی میں دوسرے دن گھوڑا بھی مر گیا تب کتے نے مرغے سے کہا کہ یہ سب تجھے کیسے معلوم ہوا تو وہ کہنے لگا جب کسی گھر میں کوئی بڑا سانحہ ہونا ہوتا ہے تو وہاں پر موجود جانوروں کو خبر ہوجاتی ہے اور مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ اس گھر میں بھی ایسا ہونے والا ہے پہلے جب یہاں کچھ ہونے والا تھا تو بیل نے اسے اپنے اوپر لے لیا لیکن بیل یہاں نہیں مری اور مالک نے اسے بیچ دیا اگر ہمارا مالک بیل کو نہیں بیچتا اور وہ یہیں مرجاتی تو یہ بلا ٹل جاتی لیکن ایسا نہ ہوا پھر اس پریشانی نے دوبارا یہاں کا رخ کیا تو اسے گھوڑے نے اپنے اوپر لے لیا لیکن یہاں بھی وہ ہی کچھ ہوا جو بیل کے موقع پر ہوا تھا اگر مالک انہیں نہ بیچتا تو یہ بلا ٹل جاتی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا حالانکہ ابھی ہم دونوں بھی موجود ہیں لیکن شاید اب اس پریشانی نے ہمارے مالک کی طرف رخ کرلیا ہے اور اسے اب اپنی جان گنوانی ہوگی ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

اس مرغے کی یہ بات سن کر کتے نے کہا وہ کیسے تو مرغے نے کہا کہ دیکھنا اب کل ہمارا مالک خود مرجائے گا پھر اس نے بات انداز بدلتے ہوئے کہا اور تو فکر نہ کر اس کے مرنے پر جو کھانے بنیں گے ہم خوب پیٹ بھر کر کھائیں گے ان کی یہ باتیں سن کر اس شخص کے پائوں تلے زمین نکل گئی اور وہ دوڑا دوڑا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا اور معافی مانگنے لگا کہنے لگا مجھ سے غلطی ہوگئی مجھے معاف کر دیجیئے اور زندگی کی بھیک مانگنے لگا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کل تک تو بضد تھا کہ تجھے جانوروں کی بولی سکھائی جائے اور جب تجھے اپنی موت نظر آرہی ہے تو معافی مانگنے آیا ہے آپ علیہ السلام نے فرمایاجو میرے ہاتھ میں تھا میں نے کیا اب معاملہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے اب یہ معاملہ رب کے ہاتھ میں ہے اور اب وہ ہی ہوگا جو وہ چاہے گا ۔
اور دوسرے دن وہ شخص واقعی میں انتقال کرگیا ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

جب کبھی کاروبار میں نقصان یا گھر میں کوئی پریشانی ہو تو غم اور دکھ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسے اللہ کی رضا اور اپنی جان کا فدیہ سمجھ کر صبر اور اس پر اس رب تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیئے اور یہ سوچنا چاہئیے کہ جو ہوا اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مرضی اور منشاء شامل حال تھی ہوسکتا ہے کہ یہ نقصان یا پریشانی ہماری جان پر آجاتی لیکن اسے رب تعالی نے اپنے فضل و کرم سے ہمارے کاروبار کی طرف موڑ دیا اور یہ نقصان ہماری جان کا صدقہ ہو اس لیئے اس پر پریشان نہیں ہونا چاہئے ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

اس حکایت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی اور ثابت ہوگئی کہ جو بات ہمارے بڑے بوڑھے اور بزرگ کہ گئے ان میں کئی باتوں میں بالکل صداقت اور سچ کا عنصر چھپا ہوا ہوتا ہے اور جہاں تک جانور پالنا اور پلے ہوئے جانور اس جگہ پر آنے والی بلا کو اپنے اوپر لیکر وہاں کے لوگوں کے جان کا صدقہ بن جاتے ہیں یہ بات بھی صحیح اور سچ ہے لہذہ ویسے بھی روزانہ نہیں تواکثر وبیشتر اپنا اور اپنے گھر کے تمام افراد کا صدقہ دیتے رہنا چاہیئے کہ صدقہ ہماری کئی بلائوں کو ٹالنے کا سبب بنتا ہے اور ہماری زندگی کو پریشانیوں اور تکلیفوں سے دور رکھتا ہے ۔

 

یوسف برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وہ
  • پہاڑی کھیت میں!
  • ایک عجیب وحشت
  • جو بھی تیرے لیے بنی ہو گی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
محمد یوسف برکاتی

اگلی پوسٹ
سیالکوٹ میں اردو شاعری کی روایت
پچھلی پوسٹ
مجھے بچہ نہیں چاہیے

متعلقہ پوسٹس

مدیانور کا بڑا تیندوا

نومبر 23, 2019

یہ رزم گاہ میں ہے ناگزیر ، کھینچے گا

نومبر 8, 2025

حُسن کو حسن نظر کہتے ہیں لوگ

جنوری 4, 2023

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

نسوانیت کا استحصال

مئی 18, 2024

بیٹی، تعلیم اور بدلتا ہوا دیہی معاشرہ

مارچ 21, 2026

سعادت مند ترین انسان کون ہے؟

دسمبر 16, 2025

ہذیان

جون 15, 2020

یہ تو نہیں کہ ہم نے رستہ چھوڑ دیا ہے

مارچ 24, 2020

یہ زمانہ نہیں سمجھےگا کہانی اپنی

مارچ 28, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اپنی جانب بُلا رہی ہے مجھے

مارچ 19, 2022

رازوں کی شام

دسمبر 15, 2024

کرنسی نوٹوں کی تبدیلی

ستمبر 1, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں