خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباانوکھی محبت
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

انوکھی محبت

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2021
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2021 0 تبصرے 30 مناظر
31

محبت مجازی ہو یا پھر حقیقی سچ بتائیں توساری ہی انوکھی ہوتی ہیں ۔ دورِ حاضر میں تو محبت کے انوکھے ہونے کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ محبت نامی شے تقریباً ناپید ہوتی جا رہی ہے یا پھر تیزی سے دنیا پر مادہ پرستی کا غلبہ محبت کو بھی ہوس سے تبدیل کرنے پر بضد دیکھائی دے رہی ہے ۔ دل کے دکھی ہونے کی دودائمی ممکن وجوہات ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ اپنے تخلیق کار سے سرا سر نا آشنائی اور دوسری یہ کہ اپنی دانستہ اور غیردانستہ سرزد ہونے والی خطاءوں سے نظروں کا نا ملانا یعنی انہیں مان لینا ۔ علم ایک ایسی عینک ہے جو شناسائی کی گرد کے نیچے دیکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔ محبت کو علم کی ضرورت نہیں ہوتی البتہ علم محبت کی طرف دھکیلنے کی صلاحیت رکھتاہے ،مختصراً یہ کے اپنے تخلیق کار تک پہنچنے کے راستوں کی نشاندہی کرا دیتا ہے ، خوبصورتی کی وضاحت کرادیتا ہے اور سب سے بڑھ کر آنکھوں میں موجود راستوں سے دل کی گہرائی تک رسائی بھی دلا دیتا ہے ۔ یہ کہہ دینا کافی ہے کہ علم محبت یا نفرت کی جانب دھکیلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی علم کی فروانی پر ایک مخصوص طبقہ قدغن لگانے کی ہر ممکن کوششوں میں مصروف عمل ہے ، یہ غلام ہیں اور دوسروں کو بھی غلام ہی رکھنا چاہتے ہیں ۔

دائرہ اسلام میں داخل ہونے والوں کی کثیر تعداد ایسی تھی کہ جنہوں نے ہمارے پیارے نبی ﷺ کی گزشتہ زندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے آپکی سچائی اور آمانت داری کی بدولت آپ ﷺ کی پکار پر لبیک کہا، جسکے بعد انہیں کیسے کیسے آلام و مصائب کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ حقیقت میں انتہائی اعلی مرتبت اصحاب تھے کے مجال کوئی کلمہ حق سے مکر گیا ہو ۔ تاریخ میں محبت کی یہ انوکھی داغ بیل یہیں سے ڈالی گئی پھر کیا تھا ہمارے پیارے نبی ﷺ نے رہتی دنیا کیلئے سلامتی ، امن ، محبت کا پیغام عام کرنے کیلئے اپنی سنتوں سے آراستہ اور نسخہ کیمیاء قران کریم کو امت کیلئے چھوڑا ۔ یہ مثالیں شدید سنگینی پر مبنی تھیں ، جن کا اعتراف رہتی دنیا تک کیا جاتا رہیگا ۔

ہم اپنی دانست میں یہ سمجھ لیتے ہیں کہ فلاں نے ہمارے ساتھ ایسا کردیا اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھابات یہاں ختم نہیں ہوتی بدلا لینے کا موقع ڈھونڈنا شروع کردیا جاتا ہے اور بعض دفعہ تو موقع بنا لیا جاتا ہے اور اس موقع پر ایسے ایسے بدلے لئے جارہے ہیں کے روح کانپ کر رہ جاتی ہے ۔ حال ہی میں دو ایسے واقعات جن میں اسلام آباد میں ایک خاتون کے ٹکڑے مرد کے ہاتھوں کئے جانا اور دوسرا کراچی میں ایک مرد کے خاتون کے ہاتھوں ٹکڑے کئے جانادلوں کو لرزاں دینے کیلئے کافی ہیں ۔ ان واقعات کی سنگینی کی نوعیت عملی طور پر واضح ہوچکی ہے ۔ لیکن قابل ذکر یہ ہے کہ بدلا خود ہی لے لیا گیا ہے اور معاشرے میں قانون کی عدم دستیابی اور معاشرتی ابتری کی گواہی پیش کردی گئی ۔ دوسری طرف قانون کے اپاہج ہونے کی بھی بھرپور وضاحت کردی گئی ہے ۔ یہاں ایک اور بات بھی واضح کرتے چلیں کے ہمارے معاشرے میں ایک عام تاثر ہے کہ یہاں جس کے ذمے جو کام ہے وہ اس کے علاوہ سب کاموں میں دخل اندازی کرنا اپنا حق سمجھ رہا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں مزید بگاڑ کی صورتحال پیدا ہوتی جا رہی ہے ، جو کچھ صحیح تھا وہ بھی غلط روش پر گامزن ہونے جا رہا ہے ۔

طبعی خدوخال سے محبت تبدیل ہوکر ہوس کی صورت اختیار کرلیتی ہے ، جس کے حصول کیلئے چوری اور ڈاکہ بھی ڈالا جاتا ہے اور بوقت ضرورت ناحق خون بھی بہا دیاجاتاہے اورپھر کیا ،بربادی کا راستہ کھل جاتا ہے ۔ اس کے برعکس روح سے محبت ہواءوں میں سفر کراتی ہے اور ایک ایسی دنیا کا باسی بنا دیتی ہے جہاں سب کے ہوتے ہوئے بھی کوئی نہیں ہوتا (یا پھر کسی کی ضرورت باقی نہیں رہتی )اور ہر طرف نغمہ لالہ و گل کا بسیرا ہوتا ہے ، جہاں اندھیروں میں بھی روشنیوں کا بسیرا ہوتا ہے ۔ ایسی محبت میں مبتلاء ہونے والے اپنے خالقِ حقیقی کی طرف کھلنے والے راستوں کے راہی ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ ایک انتہائی معنی خیز جملہ !وہ اسی کو میسر ہوتا ہے جو اسے پانا چاہتا ہے ۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا محبت کو جتانے کی ضرورت ہوتی ہے اگر ہوتی ہے تو کیوں ، کیا اس کا کوئی ایسا ظاہری فائدہ ہوتا ہے کہ جس کی وجہ سے مجنوں کہلائے جانے میں فخر کیا جاسکے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ایک الگ بحث ہو اور عرصہ دراز سے چلی آرہی ہو اور رہتی دنیا تک کیلئے چلتی جا رہی ہو ۔

انسان کا بغیر کسی شرط کے مان لینا بہت اہم ہے ویسے جس سے محبت کی جائے اسکی بات مان لینا کسی اعزاز سے کم نہیں ہوتا ۔ بڑوں کا کہا ماننا اور اس سے بڑھ کر سب سے بڑے اور ستر ماءوں سے زیادہ پیار کرنے والے کا کہا مان لینا کسی بھی طرح سے نقصان کی طرف نہیں لیکر جائے گا ۔ سعادت حسن منٹو لکھتے ہیں کہ وہ لوگ بیوقوف ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بندوقوں سے مذہب شکار کئے جا سکتے ہیں ۔ مذہب، دین ، ایمان، دھرم ، یقین ، عقیدت ۔ ۔ ۔ یہ جو کچھ بھی ہے ہمارے جسم میں نہیں ، روح میں ہوتا ہے جو چھرے ، چاقو یا گولی سے یہ فنا نہیں ہوسکتا ۔ پاکستان اللہ رب العزت کی ایک واضح نعمتِ عظیم عطاء ہے ، یہ بھی کہا جائے تو غلط نہیں کہ معجزہ ہے ، جہاں بسنے والے اللہ کے رسول ﷺ کے سچے عاشق ہیں جسکی گواہی یہ قوم بارہا دیتی جا رہی ہے (اور اس جذبے کی آبیار ی غازی علم دین شہید نے خوب کی ہے ) ۔ دنیا میں کسی کونے میں بھی توہین رسالت ﷺ یا دین اسلام کی توہین کی جائے تو اس کے خلاف سب سے پہلی آواز ہم پاکستانیوں کی ہوتی ہے ، آج تقریباً ساری دنیا اس انوکھی محبت کی معترف ہوچکی ہے ۔ ہم نے نا ہی سفارتی تعلقات کی فکر کی ہے اور نا ہی کسی مصلحت کا سہارا لیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب کا مدینہ کی ریاست بنانے کے خواب کے پیچھے بھی ایسی ہی فکر کارفرما ہے ۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہم دنیا کو اس عشق ِ محمد ﷺ کیلئے قائل نہیں کرسکے ہیں ۔

ہم پاکستانی اپنی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں انہیں آگ لگا دیتے ہیں معیشت کا پہیہ جام کردیتے ہیں غرض یہ کہ ہم پاکستانیوں نے دنیا کو اپنی محبت کی باطنی شکل تو خوب دیکھا ئی ہے جبکہ دوسری طرف ہم اپنی ایمانی محبت کی فکر سے دور کہیں بھٹکتے ہوئے پائے گئے ہیں ، ہم ہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے درمیان سفاکی کی اعلی ترین مثالیں قائم کی گئیں ہیں معصوم بچوں کیساتھ ہونے والے انسانیت سوز واقعات اور ہماری خواتین کیساتھ سرِراہ ہونے والے واقعات اس سے بڑھ کر ابھی کیا کچھ ہونا باقی ہے جس کو سوچ کر سر ندامت سے جھکا ہی چلا جاتا ہے ۔ یہ واقعات معاشرے کی بدنمائی کو منظر عام پر لاتے ہی جا رہیں ہیں اور اس بد نمائی کی بنیادی وجہ ہمارا نظام عدل ہے ، اگر گناہگار کو اسکے کئے کی سزا بروقت دے دی جائے یا دے دی جاتی تو یقینا ان واقعات پر قابو پایا جاسکتا تھا ۔ یہاں تو میر درد کے شعر کی عکاسی کی جارہی ہے کے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ;

تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے!
کیا کرنے آئے تھے اور کیا کرچلے!

یہ شعر مخصوص عدلیہ کیلئے وقف کیا جارہا ہے ۔ ہم پاکستانی عملی طور پر اپنے امتی ہونے کا ثبوت کب پیش کرینگے ، ہم نے حلیے بنا لئے ہیں ، ہم نے تہوار منا لئے ہیں ، غرض یہ کے ہم عشق محمد ﷺ کے اتنے بڑے داعی بنے بیٹھے ہیں کہ باقی مسلم ممالک ہم سے شرمندہ دیکھائی دیتے ہیں ۔ شائد ہ میں افسوس اس بات کا کر لینا چاہئے کہ ہم نے محبت ،علم کے بغیر کی ہے جس کی وجہ سے شائد ہم محبت کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں یا پھر ہم کسی انوکھی محبت کی نئی داستان رقم کر رہے ہیں ۔ مضمون ہذا بہت مشکل سے تکمیل کو پہنچا ہے اس کی وجہ وہ خوف ہے کہ کہیں الفاظ کی سمجھ اور ناسمجھ ہ میں کسی مشکل سے دوچار نا کردے لیکن قلم نے قلب تک رسائی کی ٹھانی ہوئی ہے اسلئے قارئین ہمارے پیارے نبی ﷺ حجتہ الوداع کا خطبہ ہفتے میں مہینے میں یا کبھی کبھار ضرور پڑھ لیا کریں اور اپنے حلقے میں بھی پیش کردیا کریں ۔ ساری انسانی حقوق کی تنظی میں اسی کی بنیاد پر کام کر رہی ہیں اور پھر ہم تو محسنِ انسانیت ﷺ کے حقیقی ماننے والے ہیں ۔ اللہ تعالی ہ میں اپنے پیارے رسول ﷺ سے سچی اور بامعنی محبت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے نکلتےہیں
  • پیاری ڈکار
  • افلاطون کی ریاست اور خان صاحب
  • اپنی بانہوں میں سمٹ کر مجھے مرجانے دو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نیا سال اور نیا عزم
پچھلی پوسٹ
سیّد نذیر نیازی – بیاضِ یادداشت اور علامہ اقبالؒ!

متعلقہ پوسٹس

حیاتِین – ب

اپریل 8, 2020

بڑے گھر کی بیٹی

دسمبر 10, 2019

بندگی و الوہیت

دسمبر 29, 2024

تصور کی روشنی

دسمبر 25, 2024

آنکھ سے دور جائیے

نومبر 1, 2025

زندگی خوف سے تشکیل نہیں کرنی مجھے

مئی 23, 2020

ابّو جی

مارچ 2, 2022

پیرن

جنوری 24, 2020

بات اپنی سنا کے دیکھوں گا

اکتوبر 25, 2025

یوں ہی نہیں ہے

مارچ 22, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حرفِ ندارد

جنوری 7, 2020

بیٹیاں

دسمبر 17, 2021

لاکھ بہکائے یہ دنیا ہو گیا...

مئی 28, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں