خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسارا جرم تمھارا ہے
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

سارا جرم تمھارا ہے

از سائیٹ ایڈمن نومبر 26, 2021
از سائیٹ ایڈمن نومبر 26, 2021 0 تبصرے 63 مناظر
64

الزام تراشی، گناہ کے زمرے میں آتی ہے مگر آج گناہ کی فکر کون کر رہاہے ہاں مگر گناہ پر گناہ ضرور کررہے ہیں ۔ کبھی کوئی حالات کے کا ندھے پر رکھ کر اپنے گناہ کی بندوق چلاتا ہے تو کبھی کوئی اس کے لئے کسی اور کی طرف اشارہ کرتا دیکھائی دیتا ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کوئی بھی اپنے گناہوں کی تلافی کر نے کیلئے تیار نہیں ہوتا اور یہاں تک سننے کو مل جاتا ہے کہ جب وقت مقررہ آئے گا تو دیکھی جائے گی ۔ اس دیکھی جائےگی نے ایما ن کی کیفیت تبدیل کر کے رکھ دی ہے اورتو اور معاشرہ کی روش بدل دی گئی ہے ۔ بہت سارے دیگر امور کی طرح یہ بھی خالص خارجی عمل دخل کی بدولت رونما ہوتا جا رہا ہے ۔ دور حاضر میں اس بات سے قطع نظر کہ کل آپ نے کسی سے کیا کہا تھا آج کی بات کے پرچار کو اہمیت ہے ۔ پاکستا ن اور دیگر مسلم ممالک میں مقدس گائے کا تصور بہت عام ہے گوکہ یہ عام فہم نہیں ہے لیکن عوام کسی حد تک اب اس مقدس گائے کو پہچا ننے لگے ہیں ۔ پاکستا ن تحریک انصاف کے وجود میں آ نے کی بنیادی وجہ پاکستا ن میں نظامِ عدل کی زبوں حالی تھی جس کی مکمل بحالی ہی اس جماعت کا تقریباً ایک نکاتی منشور سمجھا جاسکتا ہے ۔ ساتھ ہی تحریک انصاف میں آ تے ہی ریاست مدینہ کی تشکیل کا تصور بھی عوام کے سامنے پیش کیا گیا ۔ پچھلی کئی حکومتوں نے پنج سالہ منصوبے (جو روس کی طرز کا ایک منصوبہ سازی کا طریقہ کار تھا)تو بنائے اور یقینا اوائل میں جب یہ سلسلہ شروع کیا گیا کہیں سن 1955 میں بہت بہترین کام انجام پائے پاکستان دنیا کے اہم ممالک میں شمار کیا جاتا رہا ،لیکن وقت ، حالات اور عوام کی سوجھ بوجھ کیساتھ ساتھ ان منصوبوں میں سے پاکستا ن کی بحالی کا ذکر تو رہا لیکن عملی اقدامات پاکستا ن کو بدحالی کی طرف گھسیٹ کر لے جانے کیلئے کئے جاتے رہے اور منظم سازش کے تحت تقریباً وہاں لا کر کھڑا کردیا گیا کہ جہاں آج پاکستان میں پیدا ہو نے والا بچہ بھی مقروض ہوتا ہے ۔ جہاں انفرادی مفادات اجتماعی مفادات پر ترجیح حاصل کرلیں اور اس سے مستفید بھی ارباب اختیار ہوں تو پھر وہاں صورتحال بدسے بدتر ہوتی ہی چلی جاتی ہے جیساکہ ہم نے اپنے ملک میں دیکھا ہے اور اب جبکہ بہتری کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں تب بھی ان ہی لوگوں کی مزاحمت دیکھنے میں آرہی ہے ۔

ایسا بھی نہیں تھا کہ قانون سازی نہیں کی جارہی تھی ، بے تحاشہ قوانین پاس کئے جاتے رہے لیکن یہ قوانین بدعنوانیوں کو چھپا نے یا قانونی حیثیت دلانے کیلئے نافذ اعمل کئے جاتے رہے ۔ وقت گزرتا گیا سیر سواسیر ہوتے چلے گئے ملک کے ادارے خسارے میں جاتے رہے لیکن حکمران طبقہ اپنے اداروں کو فائدہ مند بناتے ہوئے ملک سے باہر ساری دولت منتقل کرتے چلے گئے ۔ یہ بھی طے ہے کہ اللہ تعالی نے ہر فرعون کیلئے ایک موسی ضرور پیدا کیا ہے ۔ پاکستان کی سیاست میں ،چند مخصوص جماعتوں کا اثرو رسوخ ہمیشہ سے رہا ہے پھر بدقسمتی سے عوام سیاست کی پیچیدگیوں سے اتنے خوفزدہ رہے ہیں کہ وہ سڑکوں پر نعرے لگانے اور دھماکوں میں مرنے کیلئے تو حاضر ہوجاتے ہیں لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ یہ لوگ اب تک ان مفاد پرستوں کی حقیقت کو پہچاننے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ ویسے تو یہ لوگ اسلامی اقدار کی پاسداری میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے لیکن یہ بھول گئے ہیں کہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں دسا جاتا ، لمحہ فکریہ ہے کہ کیا خالق کائنات نے اس قوم کی سمجھنے کی صلاحیت سلب کرلی ہے کے یہ لوگ سمجھنے سے قاصر ہوئے جارہے ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ حکومتوں پر بھی زور دیا کہ وہ ان قوا نین میں ترامیم لائیں جو وقت کی ضرورت کے مطابق یا پھر کم علمی کی وجہ سے تقریبا ً ادھورے ہیں اور نئے قانون لانے کیلئے جو عوام کیلئے قانون کی فراہمی اور ظلم کی غلامی سے نجات کا ذریعہ بنانے کی بھرپور کوشش کی جن میں سب سے اہم ترین شفاف انتخابات کے نظام کیلئے مختلف اصطلاحات کیساتھ ساتھ نظام کو جدید سطور پر استوار کرنا ہے جسکے لئے مختلف سفارشات پیش کی جاتی رہیں جن پر قطعی کان اسلئے نہیں دھرے گئے کہ اس کا فائدہ کسی اور کو ہوجائے گا گوکہ وہ فائدہ ہوکر ہی رہا ۔ درحقیقت چند خاندانوں کا یہ سمجھنا تھا کہ ہمارے علاوہ حکومت کسی اور کو مل ہی نہیں سکتی یا شائد کوئی اور حکومت کر ہی نہیں سکتا ۔ سانجھے داری کا طے شدہ اقتدار تھا جس میں صوبائی حکومتیں اپنی اپنی مرضی کی تھیں اور وفاق میں باریاں لگی ہوئی تھیں عوام کو مختلف قسم کی گولیاں دی جاتی تھیں انہیں سمجھ تو آنا ہی نہیں تھا ۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ جیسے ا ن سے اقتدار چھین لیا گیا (قدرت کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے اور پاکستان کسی معجزے سے کم نہیں ہے) ۔ پھر کیا تھا جیسے ا ن لوگوں کی راتوں کی نیندیں حرام ہوکر رہ گئیں سوتے جاگتے ڈراءونے خواب ستانے لگے اور پھر یہ لوگ ایک ایک کر کے بیمار ہوتے چلے گئے ۔

حکومت وقت کے ہر اقدام کی مخالفت، بدقسمتی سے عوام کا جہالت کا بھرپور مظاہرہ جنہوں نے ایسے لوگوں کی ہمیشہ سے ہمت بندھائے رکھی ہے ۔ کسی بھی مہذب اور تعلیم یافتہ معاشرے کی بات کریں تو اسکا تقریباً طر ز حکومت ریاست مدینہ سے جا ملتا ہے ۔ علم و عمل کی بنیاد پر رکھی جا نے والی ریاست کا نام مدینہ ہے اور علم و عمل کا بہترین مظاہرہ کر نے والی ذات ہمارے پیارے نبی ﷺ کی ہے اور ہمیشہ رہیگی ۔ اگر ہم نے معاشرے سے مساوات کو نکال دیا ہے تو پھر یہ بھی طے ہے کہ توازن کی عدم دستیابی کے باعث معاشرہ تہہ و بالا ہوکر اپنے خاتمے کی طرف پیش قدمی کرنا شروع کردے گاجیسا کہ بخوبی دیکھا جاسکتا ہے ۔

آج جب ملک کی سالمیت کی خاطر ، ملک کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کیلئے ، پاکستانیو کیلئے دنیا میں سر اٹھا کر چلنے کیلئے راہیں ہموار کرنے کیلئے قانون ساز ی کی جارہی ہے اور سب سے بڑھ کر بیرون ملک پاکستانیوں کو انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی سہولت دی جارہی ہے تو وہی لوگ جو کبھی بھی نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان اپنی اس ڈگر پر گامزن ہو سکے کہ جس کا خواب حضرت علامہ محمد اقبال ;231;نے دیکھا تھا جس نظام کی خاطر قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اپنی ساری زندگی بھاگ دوڑ میں گزار دی تھی، انتہائی مخالفت کرتے دیکھائی دے رہے ہیں ۔ ان چند افراد سے تو سچ جانئے کوئی گلہ نہیں ہے جو ہر حال میں خوش حال ہیں جن کی نسلیں خوشحال ہیں ، اصل گلہ تو عوام سے ہے جو سب کچھ جانتے ہوئے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی ایسے لوگوں کی پشت پناہی کرتے ہیں ۔ آج جتنی بھی سیاسی جماعتیں جو پاکستان کو بدترین حالات کی بھینٹ چڑھانے میں ہر اول دستے کے طور پر برسرپیکار رہی ہیں سارا کا سارا جرم انکا ہے ۔ اگر یہ لوگ اپنی جیبیں بھرنے کی بجائے ملک کو مساوات اور انصاف کی طرز پر استوار کرتے تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا جو آج ہورہا ہے ۔ اس لئے سارا جرم تمھارا ہے ، اور مجرم جو سزا نا دی جائے تو انسانو اور جانوروں میں شائد کوئی فرق نہیں رہتا ۔

طویل غیر حاضری کی وجہ بتاتے چلیں کہ ہماری والدہ کی طبعیت کچھ ناساز رہی جس کے باعث انہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا اور تقریباً دوہفتے کے علاج معالجے کے بعد اللہ کے حکم سے روبصحت ہوکر گھر منتقل ہوگئی ہیں ۔ قارئین سے خصوصی دعاءوں کی درخواست ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • الف لیلہ کی ایک رات
  • مس اڈنا جیکسن
  • کہاں ہوتے ہوۓ احساس
  • وحشی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سید ضمیر جعفری
پچھلی پوسٹ
خدا کا حُسن ِ انتخاب

متعلقہ پوسٹس

عالمی امن اسرائیلی خواہشات سے مشروط

مئی 7, 2026

مگر تم سے کہا کس نے؟

نومبر 7, 2020

یوں صحبتوں کے یقیناً اثر

فروری 25, 2025

اک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا

نومبر 11, 2025

گل صنوبر کی غزل کا تجزیاتی مطالعہ

اکتوبر 25, 2025

ایک بے بس کشمیری

مارچ 28, 2022

جوتےکی نوک پر

جنوری 21, 2020

مرے پڑاؤ سے پرے

دسمبر 13, 2021

کشتی کی وہ سنہری شام

دسمبر 22, 2024

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اقبال احمد ساجد

مارچ 28, 2020

خاموشی کا اشتراک

دسمبر 18, 2024

آہ

جنوری 16, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں