خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجوازِ عیدِ میلاد النبیؐ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہاویس خالد

جوازِ عیدِ میلاد النبیؐ

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 19, 2021
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 19, 2021 0 تبصرے 64 مناظر
65

 

جوازِ عیدِ میلاد النبیؐ

کامیابی اور خوشی کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ہر انسان اپنی ہر قسم کی کامیابی پرکھُل کر خوشی منانے کا فطری مزاج رکھتا ہے۔یوں کہہ لیجیے کہ خوشی منانے کے لیے کسی دلیل کی نہیں بلکہ اپنی خوشی کی ضرورت ہوتی ہے۔بس کامیابی ملی اورانسان کی طبیعت شاد ہو گئی۔خوشی مناتا بھی وہی ہے جو کامیاب ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ایک میچ میں نتیجے کے بعد ایک ٹیم جیت جاتی ہے،وہ خوشیاں مناتی ہے اور دوسری ٹیم ہار کر افسردہ ہو جاتی ہے۔میچ کا نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے لیکن دونوں ٹیموں کے لیے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔ایک کے لیے خوشی کا باعث اور دوسرے کے لیے افسردگی کا سبب بنتا ہے۔جس نے سمجھا کہ اس کو فتح ملی وہ خوش جس نے سمجھا کہ وہ شکست کھا گیا تو وہ غمگین ہو جاتا ہے۔گویا خوشی کا تعلق جیت سے ہے، کامیابی سے ہے۔ہم سب ڈھیروں مقامات پر جہاں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کامیاب ہوئے ہیں اپنے اپنے انداز سے خوشیاں مناتے ہیں۔

ایک طالب علم اچھے نتیجے پر خوشیاں مناتا ہے۔ایک تاجر اچھی خرید و فروخت پر شاد ہوتا ہے۔ہر فرد ترقی پا کر پھولے نہیں سماتا۔اولاد ملتی ہے تو مٹھایاں تقسیم کرتا ہے۔سالگرہ کے نام پربچے کی پیدایش کی خوشیاں منانے کے لیے تقریبات کرتا ہے۔بس بات یہ سمجھنے کی ہے کہ مجھ پر کرم ہو گیا ہےMasjid Nabvi،فضل ہو گیا ہے،رحمت ہو گئی ہے۔ہم سب ہر نعمت پر پروردگار کاشکر ادا کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے۔نہ کریں تو کفرانِ نعمت ہو گا۔شکر ادا نہ کرنے والا نا شکرا کہلائے گا۔اب دیکھتے ہیں کہ اس بارے میں پروردگار نے قرآن میں کیا کہا ہے۔سورۃ یونس:58 میں مفہوم ہے کہ فرما دیجیے کہ جب اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہو تو تم سب خوشیاں مناؤ اور یہ اس سے بہتر ہے جو تم جمع کرتے ہو۔سورۃ آل عمران:171 میں ہے جس کا مفہوم ہے۔وہ پروردگار کی طرف سے نعمت اور فضل پر خوشیاں منا رہے ہیں۔سورۃ النساء:37 کا مفہوم ہے کہ جو لوگ بخل کرتے ہیں اور بخل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور پروردگار نے ان کو جو کچھ اپنے فضل سے دیا ہے وہ اس کو چھپاتے ہیں۔پھر سورۃ النمل:73 میں ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ بے شک آپ کا رب لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

اب سنیے اگر یہ فضل و رحمت نہ ہوتی تو کیا ہوتا۔سورۃ النور:10 کا مفہوم ہے کہ اگر تم پر یہ فضل ورحمت نہ ہوتی(تو بہت جلد میرا عذاب نازل ہو جاتا)،بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا بڑا رحیم ہے۔آگے چل کر سورۃ النور:21 میں آیا کہ جس کا مفہوم ہے کہ اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کسی کا بھی باطن پاک نہ ہوتا۔اب ذرا باطن کی پاکیزگی کا بھی سن لیتے ہیں کہ پروردگار یہ ہمیں کس کے زریعے سے عطا کرتا ہے۔سورۃ الجمعہ:02 کا مفہوم ہے کہ وہی رب ہے جس نے تم میں سے ہی رسول بھیجے کہ وہ میری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں تمہیں پاک کرتے ہیں اورتمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور اس سے قبل تم کھلی گمراہی میں تھے۔یعنی نبیؐ ہی خالق کے حکم سے مخلوق کا تذکیہ کرتے ہیں۔یعنی وہی تو ہم سب کے لیے رحمت ہیں۔جیسا کہ سورۃ الانبیاء؛107 میں ہے جس کا مفہوم ہے کہ اور ہم نے آپؐ کو نہیں بھیجا مگر سب جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔بلاشبہ نبیؐ ہی توہیں جو وجہ تخلیق کائنات ہیں۔آپؐ ہی تو وجہ قیام کائنات ہیں اور آپؐ ہی وجہ نجات کائنات ہوں گے۔ایک آدمی اپنی ذات کے لیے باعث رحمت نہیں ہو سکتا اور آپؐ تو ان جہانوں کے لیے بھی رحمت بن کر آئے جن کا ہمیں علم بھی نہیں ہے۔تمام گفتگو کا ماحصل یہ ہوا کہ کائنات کی سب سے بڑی نعمت،رحمت اور پروردگار کا فضل تو آپؐ کی ہستی مبارک ہے۔تو پھر کون ہو گا جو اتنی بڑی نعمت کے ملنے پر خوش نہیں ہو گا اور خوشیاں نہیں منائے گا۔اس کے فضل پرخوشی منانے کا حکم اسی کا ہی تو ہے بلکہ شکر ادا نہ کرنے والوں سے تو پروردگار کا شکوہ بھی ہے۔جیسے مندرجہ بالا سطور میں سورۃ النساء:37 اور سورۃ النمل:73 کا ذکر گذرا ہے۔اسی طرح سورۃ یوسف:38 اورسورۃ المومن:61 میں بھی کہا گیا کہ ان پر فضل ہے مگر یہ شکر ادا نہیں کرتے۔اب مقدمہ آپ کی عقل کی عدالت میں پیش کرتے ہیں کہ فضل و رحمت پر خوشیاں منانا حکم الہی ہے یا اس خوشی پر منہ بسور کر رہنا،خوشی چھپانااور خوشیاں منانے والوں پر فتوے لگانا؟؟اب تھوڑی بات کرتے ہیں لفظ عید پر۔یہ تیسری عید کہاں سے آئی اسلام میں تو دو عیدیں ہیں۔عید کا معنی ہے خوشیاں منانا۔بالکل وہ دو ہی عیدیں ہیں جن کا احباب ذکر کرتے ہیں لیکن اور بھی تو سنیے۔ترمذی میں ہے کہ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے عید کا دن ہے۔ترمذی:3044 میں ہے کہ الیوم اکملت۔۔۔۔آیت نازل ہوئی تو ایک یہودی کہنے لگا اگر ہماری کتاب میں یہ آیت نازل ہوتی تو ہم اس دن عید مناتے۔عمر فاروقؓ نے فرمایاکہ مجھے یاد ہے کہ وہ عید کا دن ہی تھا۔یعنی جمعہ بھی تھا اور عرفہ بھی۔پھر المائدہ:114 میں آسمان سے دسترخوان نازل ہونے والی دعائیہ آیت پڑھیں کہ وہ دن عید کا دن قرار پائے تو پروردگار نے اس لفظ سے منع نہیں فرمایا۔ پھر کہا جاتا ہے صحابہؓ نے نہیں منائی۔تو کہنے والوں سے سوال ہے کہ آپ شان صحابہؓ کانفرنس،دورہ شرح بخاری،ختم القرآن وغیرہ یا دیگر تقاریب کرتے ہیں، کیا صحابہؓ نے کی؟؟آپ اپنے نام کے ساتھ مفتی،حافظ اور حاجی لگاتے ہیں کیا صحابہؓ نے یہ تکلف فرمایا؟؟ہم ایسے کئی کاموں کی فہرست بتا سکتے ہیں جو صحابہؓ نے نہیں کیے مگر آپ شوق سے کرتے ہیں۔اور شریعت سے نہیں ٹکراتے لہذا کرنے میں حرج نہیں۔اب سنیے کہ صحابہؓ نے تو بڑی عقیدت سے نبی پاکؐ کی ولادت کا تذکرہ کیا بھی اور سنا بھی۔اس سال سب کو بیٹے عطا ہوئے۔حلیمہ سعدیہؓ نے جو واقعات سنائے ان سے کتب بھری پڑی ہیں۔بس مقدمہ واضح ہے کہ اپنے اوپر ذرا احسانات دیکھیے،فضل اور رحمت دیکھیے کہ لا تعداد گناہوں کے باوجود شکلیں نہیں بدلتیں،گناہ ماتھے پر یا گھر کے باہر نہیں لکھے جاتے، نیکی کے صرف ارادے سے ہی نیکی لکھ دی جاتی ہے۔کیا کیا نوازشیں ہیں جو سرکارؐ کے صدقے ہم پر ہیں۔جس کام سے پروردگار نہ روکے سرکار ؐنہ روکیں تو کوئی کیسے روک سکتا ہے۔یعنی جس کام سے نہیں روکا اس کا کرنا بدعت نہیں بلکہ اس کو روکنا(دین میں نئی چیز) بدعت ہو گا۔ ہاں یہ ہے کہ اس کو منانے کے طریقہ کار پر اختلاف ہے اس میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔بینڈ باجوں سے،ہر طرح کی موسیقی سے،گانوں کی طرز پر نعتیں پڑھنے سے،مقدس مقامات کے ماڈل بنانے اور پھر ان کو توڑنے سے،جھنڈیوں کی بعد میں بے حرمتی کرنے سے،کیک پر آپؐکا نام لکھ کر کاٹنے سے اور راستوں کو ایسے روکنے سے کہ آمد و رفت معطل ہو،ہر ممکن احتراز کرنا چاہیے۔انتہائی ادب سے درود و سلام پڑھتے ہوئے جلوس میں شرکت کرنی چاہیے۔پروردگار عمل کی توفیق دے،آمین

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تمہیں تمہاری نگاہوں سے دیکھنا ہو گا
  • ملبے کا ڈھیر
  • مدینہ منورہ کے کبوتر
  • کرونا کی وبا اور نفسیاتی مسائل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اخروٹ قوتوں کا خزانہ
پچھلی پوسٹ
شیطان

متعلقہ پوسٹس

دھیان بٹائے رکھنا ہے!

اگست 26, 2023

فراوانی سے قلت کا سفر!

اکتوبر 14, 2023

ماموندر کی آدم خور

نومبر 23, 2019

پگڑیاں بیچ کے انسان کماتا کیا ہے

اکتوبر 12, 2025

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

مئی 11, 2020

آواز کس نے دی مجھے

اکتوبر 12, 2025

آئینۂ ذات

جون 1, 2025

بارِ گراں کا ماجرا چلتا رہا تھا رات بھر

مئی 19, 2020

سرحدِ فکر پر ایک بیمار ماں

جون 20, 2024

روشن ستارہ

جون 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

فطرت کی گود میں

دسمبر 1, 2024

پیرس کا آدمی

جون 14, 2020

کوئی نہیں ہے

فروری 14, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں