خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو!

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2020
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2020 0 تبصرے 44 مناظر
45

بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو!

میانہ روی ٗ رواداری ٗ تحمل مزاجی ٗ ایک دوسرے کو برداشت کرنا ٗ معاف کر دینا اور انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں ٗ جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین ممکن ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس عدم برداشت ہماری نفسیات ٗ جسم ٗ روح ٗ معاشرت ٗ معاش اور تعلقات کے لیے تباہی و بربادی ہے۔
انسانی معاشرہ ایک گلدستے کی طرح ہے ٗ جس طرح گلدستے میں مختلف رنگوں کے پھول ٗ حسن و خوبصورتی کا باعث ہوتے ہیں ٗ بالکل اسی طرح انسانی معاشرہ بھی مختلف الخیال ٗ مختلف المذاہب اور مختلف النسل افراد سے مل کر ترتیب پاتا ہے اور اس کا یہی تنوع اس کی خوبصورتی کا سبب بنتا ہے۔ میانہ روی ٗ رواداری ٗ تحمل مزاجی ٗ عفو و درگزر اور ایک دوسرے کو برداشت کرنیکا جذبہ ٗ یہ وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے سماج امن و امان کا گہوارہ بنتا ہے اور اس طرح ایک صالح معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
آج بے حد انتشار ٗ افراتفری ٗ عدم برداشت کا شکار ہے ہر کسی کو بس اپنے آپ سے غرض ہے۔ دُنیا بھر میں جاری جنگی جنون کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ لوگوں میں برداشت آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کسی جگہ اقتدار کی جنگ ہے تو کہیں کسی ملک کو فتح کرنے کی جنگ لڑی جا رہی ہے تو کہیں اپنے اسلحہ کی نمائش جاری ہے اور کسی جگہ معدنی اور قدرتی ذخائر پر قابو پانے کیلئے جنگ کی جا رہی ہے اور کہیں تو عزت غیرت کے نام پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔
آج کے دور میں لوگ برداشت کو اپنی فطرت سے ختم کرتے جا رہے ہیں جبکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ برداشت انسانی فطرت میں شامل ایک ایسی صفت ہے کہ جس کو اپنانے سے انسان دوسروں سے ممتاز بن سکتا ہے۔ برداشت وہ دولت ہے جو کہ انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے لیکن آج کے دور میں دُنیا بھر میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ اس کی خطرناک تصویر یہ بھی ہے کہ نوجوان نسل میں عدم برداشت کا فقدان ہے ٗ نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ نوجوانوں میں جذبات کی بھرمار ہوتی ہے اور اسی لیے ان ہی کے ذریعے انتشار کو دُنیا بھر میں باآسانی عام کروایا جا سکتا ہے کیونکہ نوجونوں کے جذبات کو ابھارہ جاتا ہے اور ان کو انتشار پھیلانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے ممالک جو غربت کی چکی میں پسے ہوئے ہیں وہاں روپے پیسوں کا لالچ دے کر نوجوانوں کو استعمال کیا جاتا ہے ان کو ایسی تربیت اور لٹریچر فراہم کیے جاتے ہیں ٗ جس کی وجہ سے ان کو اپنا آلہ کار بنا کر ناپاک کاموں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جس سے ان میں برداشت ختم ہو جاتا ہے۔ وہ انتہا پسندی میں کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ انسان ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر رہا اور پھر اس کی مرضی کے خلاف جانے والے کام کو وہ کیسے برداشت کر سکے گا۔ بس یہاں سے انسان میں اختلافات جنم لیتے ہیں جو کہ بعد میں شدت اختیار کر کے تصادم کا شکار بنتے ہیں اور یہ سب عدم برداشت کی وجہ سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں افراتفری پھیل رہی ہے۔ نوجوانوں کے اندر برداشت پیدا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے یہ تو محض تعلیم کے حصول سے ہی ممکن ہے مگر کچھ ذمہ داریاں تعلیم یافتہ معاشریک کے ہر فرد پرعائد ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: کہ ”بے شک اللہ صبر کرنے والے کے ساتھ ہے“ صبر کے ذریعے انسان میں بردباری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ دوسروں کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے اس کا عملی نمونہ سرکار کائنات جنہوں نے پتھر مارنے ٗ کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں کو بھی دعا دی۔
درگزر کرنا اور صبر کرنا یہ ساری صفات اللہ کو کتنی پسند ہیں کیونکہ صبر اور برداشت کی وجہ سے انسان میں دوسروں کو سمجھنے اور سننے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح خدا کی صفات میں ایک صفت ”درگزر“ کرنا بھی شامل ہے۔ اور اگر انسان ان تمام صفات کو اپنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ برداشت ان کی زندگی کا حصہ نہ بن سکے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم صبر اور تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں تاکہ برداشت ہماری زندگی کا جزو بن جائے اور ہم زندگی کی کامیابیوں کو حاصل کر سکے۔
دراصل برداشت نام ہی ناپسندیدہ رویے کو برداشت کرنا ہے ٗ رواداری یہ ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو برداشت کریں ٗ جنہیں آپ جسمانی ٗ لسانی ٗ مذہبی اور سیاسی بنیادوں پر ناپسند کرتے ہیں۔ رواداری واحد ایسی خوبی ہے جو نہ صرف مختلف قوموں اور جماعتوں کو بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو اور بہتری کے ضمن میں اکٹھے مل کر کام کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے بلکہ ایک ہی ملک میں مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں اور لوگوں کو متحد کر کے قومی مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ سیاسی ٗ مذہبی اور ثقافتی طور پر مختلف شخص اس دُنیا میں اپنے نظریات و عقائد پر صرف اسی صورت آزادی سے عمل پیرا ہو سکتا ہے ٗ جب وہ دوسروں کو ان کے نظریات و عقائد پر عمل کرنے کی آزادی دے۔ عوامی ٗ قومی معاملات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معاملات میں رواداری کی جتنی ضرورت آج ہے ٗ شاید اس سے پہلے کبھی نہ رہی ہو۔اور شاید گزرتے وقت کے ساتھ اس کی ضرورت آج سے زیادہ محسوس کی جائے۔
ہم میں سے اکثریت عدم برداشت کی اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ لوگ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ کئی لوگوں سے مذاق تک برداشت نہیں ہوتا ٗمعمولی باتوں ٗ اختلاف رائے کو بھی ہتک عزت سمجھا جاتا ہے ٗ لوگ بُری بات تو کیا کسی کی اچھی بات بھی برداشت کرنے کو تیارنہیں۔لوگ معمولی سی بات پر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ٗ اور اسے ”میں اصولی ہوں ٗ مجھ سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی حالانکہ برداشت ہی تو غلط بات ٗ رویہ کرنے کا نام ہے ٗہر شخض دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے کھانے کو دوڑتا ہے۔ عدم برداشت ہماری نفسیات ٗ جسم ٗ روح ٗ معاشرت ٗ معاش اور تعلقات کے لیے تباہی و بربادی ہے۔
ہمیں ملک کی ترقی ٗ خوشحالی ٗ استحکام کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا ٗمیانہ روی، رواداری، تحمل مزاجی، ایک دوسرے کو برداشت کرنا ٗ معاف کر دینا اور انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں ٗ جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین کا دور دورہ ہوجائے گا۔ عدم برداشت ہی کی وجہ سے معاشرے میں بدنظمی ٗ بدعنوانی ٗ معاشرتی استحصال ٗ لاقانونیت اور ظلم و عداوت جیسے ناسور پنپ رہے ہیں ٗ عدم برداشت ہی کی بناء پر آج کا انسان بے چینی ٗ جلد بازی ٗ حسد ٗ احساس کمتری اور ذہنی دباوکا شکار ہے۔ برداشت ٗ تحمل ٗ رواداری معاشرے کا حسن ہی نہیں بلکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر انسانی تہذیب کی تعمیر نو ممکن ہے!

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • غریب انسان رشتوں میں کمزور؟
  • پاکستان کی شان بڑھانے والے!
  • اصل وراثت
  • یہی نہیں کہ ترا ضبط آزمانا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جگہیں خالی نہیں ہوتیں
پچھلی پوسٹ
یہ ہی چراغ جلینگے تو روشنی ہوگی!

متعلقہ پوسٹس

فیض اور کلاسیکی غزل

مئی 27, 2024

استاد دامن

دسمبر 3, 2025

میری یادیں میری باتیں بس اپنے پاس رکھنا تم

فروری 21, 2022

سُرور و رقص و مستی ، میں نہیں ہوں

مئی 4, 2020

گلے لگائے مجھے،میرا رازداں ہو جائے

مئی 4, 2020

جو جہاں نہیں میرا اُس جہاں میں رہنا ہے

اپریل 15, 2020

شاہد ذکی کی شاعری

جنوری 23, 2020

موسم بدل رہا ہے

نومبر 17, 2020

رستے میں شام ہو گئی

مئی 28, 2024

سو مت جانا

مارچ 13, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شکستہ جسم مسلسل خراب ہوتے ہوئے

مارچ 4, 2025

یہ پریشانی مبارک ہو!

اکتوبر 29, 2025

نفسیاتی مطالعہ

ستمبر 16, 2013
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں