خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکیا اسلام دین، ہندو ہی تھا؟
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

کیا اسلام دین، ہندو ہی تھا؟

از سائیٹ ایڈمن جون 14, 2020
از سائیٹ ایڈمن جون 14, 2020 0 تبصرے 43 مناظر
44

کیا اسلام دین، ہندو ہی تھا؟

وہ ڈرتے ڈرتے کمرے میں داخل ہوا۔ پھٹے پھٹے کالے بد وضع پاؤں، جیسے ساری عمر جوتا نہ پہنا ہو۔ ٹیڑھی نچی کھچی ٹانگیں، پرانے لیکن دھلے ہوئے، صاف ستھرے کپڑے جو گھس گھس کر اتنے باریک ہو چکے تھے کہ ان کے اندر بھوکا پیٹ، خشک جلد اور سوکھا پنجر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ پسلیوں کی ہڈیاں اور ان سے جڑا چمڑا دیکھ کر دھونکنی کا گماں ہوتا تھا۔ سکڑے ہونٹ، پھیلے نتھنے، جھریوں والے گال، خوف و اضطراب اور خوشی کی آمیزش سے مسکرانے کی کوشش کرتی، بڑے بڑے گڑھوں کے اندر سے دکھائی دیتی ہوئی آنکھیں، اس کے بولنے سے پہلے ہی تمام کہانی سنا رہی تھیں۔

میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ لیکن وہ لکڑ بنا کھڑا رہا۔ ”تم اس عمر میں یہ کیوں کروانا چاہتے ہو۔“

”اے بتانا جروری ہے؟“ وہ ڈرتے ڈرتے بولا۔ ”نہیں۔ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اس عمر میں خود کو کیوں مشکل میں ڈال رہے ہو۔ اخراجات زیادہ آئیں گے اور ٹھیک ہونے میں بھی پندرہ بیس دن لگ سکتے ہیں۔“

”کوئی گل نیں۔ مجھے پتا ہے۔“
”ٹھیک ہے، پھر یہ ٹیسٹ کروا لو اور کل دوپہر بارہ بجے آ جانا۔“

اگلے دن آپریشن شروع کرنے سے پہلے میں نے اسے پھر ڈرایا، ”عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے بیہوش کرنا خطرناک ہو سکتا ہے اور سن کرنے سے کچھ نہ کچھ درد ہوتا رہے گا۔“ بولا ”سن نہ وی کریں تو فیر وی کوئی بات نہیں، میں درد برداشت کر لوں گا۔“

”پھر سوچ لو، تمہاری عمر کافی زیادہ ہے۔“

کہنے لگا ”میں نے سنا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی عمر اس وقت اک کم، سو سال تھی۔ اور اس نے تو ترکھان کے اوزار سے خود ہی کر لئے تھے۔“ میں خاموش ہو گیا اور عملے کو تیاری کرنے کا کہہ دیا۔ کچھ دیر کے بعد پھر وہی سوال پوچھا کیا تو بولا۔

”ڈاکٹر صاب! میں چھ سات سال کا تھا کہ اجاڑ پڑ گیا۔ مندر کے ساتھ ہمارا گھر تھا۔ کچھ مر گئے باقی ہندوستان بھاگ گئے۔ میں ڈر کے مارے منجی کے نیچے چھپا رہ گیا۔“

فسادات کی وہی افسوس ناک کہانی تھی۔ وہ اکیلا رہ گیا تھا۔ کئی دن مندر کے نیچے بہتے ہوئے پہاڑی نالے سے پانی پی پی کر گزارا کرتا رہا۔ مندر میں اسے کھانے کو کچھ مل سکتا تھا لیکن وہ اس دن کو نہیں بھولا تھا جب دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے وہ مندر کے اندر چلا گیا تھا۔ اس بات پر پادری اور گاؤں کے لوگوں نے اس کے والدین اور برادری کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس نے پہلی بار کرشن بھگوان اور رادھا دیوی کی مورتی کو دیکھا تھا۔

بھگوان اتنا خوبصورت ہو گا اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اس دن تمام گاؤں والوں نے مل کر مندر کا شدھی کرن کیا تھا۔ اب مندر ویران ہو چکا تھا۔ ان دنوں میں اس کا بہت دل چاہتا تھا کہ وہ ان کے چرن چھوئے لیکن یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ مندر کے اندر جا کر اسے پھر اشدھ کر دے۔ بھگوان کو ماننے والے سب گاؤں چھوڑ کر جا چکے تھے۔ صرف چند مسلمانوں کے گھر ہی آباد رہ گئے تھے۔ اب کس نے دھونا تھا۔

رات کو وہ چھپ کر اپنے گھر میں چلا جاتا۔ گھر کیا تھا؟ ایک کچا کمرہ اس کے آگے کھجور کے پتوں اور سرکنڈوں کا بنا ہوا ایک ڈھارا۔ مٹی کی چار دیواری جسے با آسانی پھلانگا جا سکتا تھا۔

کچھ دنوں کے بعد مہاجر آنا شروع ہو گئے۔ وہ رات سویا ہوا تھا کہ ایک بوڑھی اکیلی عورت اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ اسے دیکھ کر ڈر گیا۔ رونا شروع کر دیا تو اس نے اپنے ساتھ لگا لیا۔ اگلے دن جب لوگوں کو پتا چلا تو انہوں نے مارنے کی کوشش کی لیکن وہ آڑے آ گئی اور کہنے لگی، ”بچے کو بلا قصور کیوں مارتے ہو؟“ گاؤں والے بولے، ”یہ ہندو ہے۔“

”میں اسے اسلام کی تعلیم دوں گی اور اسے بہترین مسلمان بناؤں گی۔ یہ میرا اسلام دین ہے۔ میرے بچے تو مارے گئے یہ میرے بڑھاپے کا سہارا بن جائے گا۔“
اسی عورت نے اسے پالا۔

اب وہ بوڑھا ہو چکا ہے۔ ایک بیٹا بھی ہے جو کہ سعودیہ میں مزدوری کرتا ہے۔ اس سال بیٹے نے حج کے لئے بلانا ہے۔ کہنے لگا، ”پنڈ کے لوگ ابھی بھی مینوں ہندو ہی کہتے ہیں، میرے ختنے جو نیں ہوئے۔ کئی دفعہ مسجد سے نکال دیتے ہیں۔ کہتے ہیں تو ناپاک اے۔ مسجد کو پلید کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاب ہے تے سچ کہ میں ملیچھ شودر آں۔ میرے غریب کی اتنی اوقات نیں تھی کہ اللہ کے گھر متھا ٹیک سکدا۔ اس نے آپ بلایا ہے۔ اب راستے میں جے کسی کو شک پے گیا اور چیک کر لیا تے مینوں واپس کر دیں گے۔“

میں ہنستے ہوئے بولا، ”کوئی چیک نہیں کرتا۔ اور جب تم نے کلمہ پڑھ لیا تو پاک بھی ہو گئے۔ مسلمانوں میں ملیچھ شودر کوئی نہیں ہوتا۔ اگر یہی خوف ہے تو ختنے کروانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر سوچ لو۔“

”نیں ڈاکٹر صاب! میں نے ایس ناپاکی میں اللہ دے گھر نہیں جانا۔ اے سنتاں نیں، آپ اللہ کا نام لو تے کر دو۔“

میں اس کی با ت سن کر لا جواب ہو گیا۔ جاتے ہوئے میں نے اس کے گاؤں کا پتا پوچھا اور کہا، ”جب حج کے لئے جانے لگو تو مجھے ضرور بلانا۔ میں تمہیں رخصت کرنے آؤں گا۔“

پھر ملک میں وبا پھیل گئی اور حکومت نے حج پر پابندی لگا دی۔ مریضوں کا رش بڑھتا جا رہا تھا۔ بیماری شہر شہر اور گاؤں گاؤں پھیل چکی تھی۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا تو اسے بھی ہلکا سا بخار تھا۔ میں نے ٹیسٹ کروانے کے لئے سرکاری ہسپتال بھیج دیا۔ ہفتہ دس دن گزر گئے وہ واپس نہ آیا۔ اس کے گاؤں سے ایک مریض آیا تو میں نے اس سے پوچھا۔ مریض کہنے لگا ”میں دو دن پہلے کا آیا ہوا ہوں۔ مجھے پتا چلا تھا کہ وہ ہسپتال گیا تھا لیکن کسی نے اسے داخل ہی نہیں کیا۔

اب اپنے کمرے میں ہی اکیلا کھانس رہا ہے۔ گاؤں میں بھی بیماری پھیلی ہوئی ہے۔ ہر طرف ڈر اور خوف کا راج ہے۔ اپنا کوئی اس کا ہے نہیں اور گاؤں کے لوگ اس کے پاس جاتے نہیں۔ ”مجھے یہ سب سن کر بہت افسوس ہوا۔ مقامی ہسپتال کا ایم ایس میرا دوست تھا میں نے اسے ایمبولینس بھیجنے کا کہا اور خود بھی ساتھ ہی چل پڑا۔ گاؤں پہنچے تو دیکھا کہ پرانے مندر کے کھنڈرات کے پاس چند لوگ جمع ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا لوگ بولے کہ پرسوں رات وہ مر گیا تھا لوگوں کو اس وقت پتا چلا جب ہر طرف بو پھیل گئی۔ کوئی اندر جانے کو تیار نہیں تھا۔ پولیس کو اطلاع دی۔ لوگ مر ہی اتنے رہے ہیں وہ بھی نہ آئے تو کچھ شر پسندوں نے تیل پھینک کر ڈھارے اور کمرے کو آگ لگا دی۔

”اوہ! تم نے اس کی لاش کو دفن کرنے کی بجائے آگ لگا دی۔“ میں غصے سے چلانے لگا۔
”ڈاکٹر صاحب، چھوڑیں! وہ ویسے بھی ہندو ہی تھا۔“ گاؤں کے لوگ بولے۔

میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ ان جاہلوں کو پتا ہی نہیں کہ اسلام دین کا ایمان تو پورے گاؤں کی بخشش کے لئے کافی تھا۔
مجھے مدینہ کی ایک عورت کے بارے میں حضور ﷺ کے الفاظ یاد آ گئے۔
” اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر لوگوں میں تقسیم کر دی جائے تو سب کو کافی ہو۔“

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • رب نہیں روٹھتا!
  • تاج نے تخت نے بغاوت کی
  • جو شخص تیرے غم میں بظاہر اداس ہے
  • سرخئ چشم سے تصویرِ نمو کھینچتا ہوں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اک عمر سے ہم تم آشنا ہیں
پچھلی پوسٹ
لفظ ابھی ایجاد ہوں گے ہر ضرورت کے لیے

متعلقہ پوسٹس

اے تعصب زدہ دنیا ترے کردار پہ خاک

مئی 23, 2020

میں نے لاکھوں کے بول سہے

جنوری 3, 2020

زندگی زرد زرد چہروں میں

نومبر 18, 2020

ہوا جیسے کوئی بندِ قبائے نسترن کھولے

اکتوبر 27, 2020

ہرگھڑی ہے قیامت کی جیسےگھڑی

اپریل 18, 2020

ایلون مسک : حوصلے اور وژن کی کہانی

اکتوبر 4, 2025

یا خدا! تجھ سے دعا ہے

جون 26, 2025

بھارت میں مدارس اسلامیہ کا مستقبل

جنوری 8, 2022

اب کوئی راہ بھی آسان نہیں دیکھنے میں

ستمبر 25, 2023

ناراض جیالوں کا مقدمہ

نومبر 27, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

” قلم کتاب “ دنیا کی...

جولائی 23, 2022

آہ! اب تو خون کی آتی...

فروری 4, 2020

سرخ لباس کی سرخوشی

نومبر 30, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں